سپریم کورٹ میں پنجاب ہیلتھ کمیشن سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سے تلخ کلامی

آپ بورڈ چھوڑ دیں اور جا کر یونین چلائیں۔ چیف جسٹس، میں کیوں جاؤں مجھے منتخب کیا گیا ہے۔حسین نقوی کا جواب

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ نومبر 14:23

سپریم کورٹ میں پنجاب ہیلتھ کمیشن سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17 نومبر 2018ء) : سپریم کورٹ آف پاکستان میں پنجاب ہیلتھ کمیشن سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کی۔ سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے طلب کرنے پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد پیش ہوئیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے یاسمین راشد سے مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمیں آپ سے بہت اُمیدیں تھیں لیکن آپ نے کس طرح کے لوگوں کو بورڈ کا رکن بنادیا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بورڈ آف کمشنر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن تحلیل کرتے ہوئے 2 ہفتوں میں نیا بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ حسین نقوی کہاں ہیں؟ جن کی وجہ سے جسٹس (ر) عامر رضا نے استعفیٰ دیا۔

(جاری ہے)

حسین نقوی عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور بتایا کہ میں اسلامیہ کالج یونین کا سیکریٹری رہا ہوں۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پھر آپ بورڈ چھوڑیں اور جا کر یونین چلائیں۔ چیف جسٹس کے ریمارکس پر حسین نقوی نے کہا کہ میں کیوں جاؤں، مجھے منتخب کیا گیا ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بورڈ کو ہم نے ختم کردیا ہے آپ آگے چلیں۔ دوران سماعت حسین نقوی نے اونچی آواز میں بات کی جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے اظہار برہمی کیا اور ریمارکس دیے کہ آپ کی جرأت کیسے ہوئی ہم آپ کو توہین عدالت کا نوٹس دیں گے۔

چیف جسٹس کی بات سُن کر حسین نقوی نے کہا کہ میں آپ سے 20 سال بڑا ہوں، میری بپوری بات سنیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تم بد تمیز آدمی ہو۔ لہٰذا اپنی بدتمیزی پر عدالت سے معافی مانگو۔ جس پر حسین نقوی نے عدالت سے معافی مانگ لی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ حسین نقوی کو میری عدالت سے باہر لے جائیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز سماعت پر چیف جسٹس نے کمیشن بورڈ کے پہلے اجلاس میں جسٹس (ر) عامر رضا کی مبینہ تذلیل پر نوٹس لیا تھا اور یہ مشاہدہ کیا تھا کہ سیاسی حکومت کو انتظامی اداروں کی آزادی پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔