محمود علی نے مشرقی پاکستان کی جبری علیحدگی کبھی تسلیم نہ کی،وہ تمام عمر ملک کے دونوں حصوں کو متحد کرنے کے لیے کوششیں کرتے رہے

ماہر معاشیات و بزرگ سیاستدان سرتاج عزیز کاسابق صدر تحریک تکمیل پاکستان و سابق وفاقی وزیر محمود علی کی بارہویں برسی کے موقع پر خصوصی نشست سے خطاب

ہفتہ نومبر 14:48

محمود علی نے مشرقی پاکستان کی جبری علیحدگی کبھی تسلیم نہ کی،وہ تمام ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2018ء) ماہر معاشیات و بزرگ سیاستدان سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ سابق وفاقی وزیر محمود علی نے مشرقی پاکستان کی جبری علیحدگی کو کبھی تسلیم نہ کیا بلکہ وہ ملک کے دونوں حصوں کو متحد کرنے کے لیے تمام عمر کوششیں کرتے رہے جس کے لیے انہوں نے تحریک تکمیل پاکستان کی بنیاد رکھی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو یہاں تحریک پاکستان کے رہنما، آسام مسلم لیگ کے سابق جنرل سیکرٹری، سابق صدر تحریک تکمیل پاکستان اور سابق وفاقی وزیر محمود علی کی بارہویں برسی کے حوالے سے نظریہ پاکستان فورم اور ایوان صنعت و تجارت اسلام آباد کے باہمی اشتراک سے خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے ایوان صنعت و تجارت اسلام آباد اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی جانب سے تحریک پاکستان کے عظیم رہنماء محمود علی کی خدمات کو اجاگر کرنے کے حوالے سے تقریب کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی تقاریب سے ہمیں نوجوان نسل کو ماضی سے روشناس کرانے کا موقع ملتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ محمود علی نے تحریک پاکستان میں سرگرم کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ سلہٹ کے ریفرنڈم میں بھی بڑا کام کیا تھا، وہ ساری زندگی دو قومی نظریے کی روح کو اجاگر کرنے کے لیے سرگرم عمل رہے اور اپنی وفات تک یہ کام جاری رکھا۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ محمود علی اکثر کہا کرتے تھے کہ ہماری اتحاد کی کوششیں ناکام جبکہ بھارت کی اختلافات کی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو قومی نظریہ محمود علی کی زندگی تھی جس سے نوجوان نسل کو روشناس کرانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال کے ان کے 100 ویں یوم پیدائش کی تقریبات کو پروقار طور پر منایا جائے گا۔

انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ محمود علی کی قومی خدمات کے اعتراف میں وفاقی دارالحکومت کی کسی سڑک کا نام ان سے منسوب کرنے کے ساتھ ساتھ ایک یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا جائے جس سے نظریہ پاکستان کے ارتقاء میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ نظریہ پاکستان صرف تاریخی عمل نہیں تھا جو قیام پاکستان کے بعد مکمل ہو گیا بلکہ ملک کی ترقی و استحکام کے لئے اب بھی نظریہ پاکستان سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس حوالے سے محمود علی کی زندگی ہمارے لیے آئینہ ہے، ہمیں ان کی خدمات کو اجاگر کرنے اور نوجوان نسل کو ان کی خدمات سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے۔

نظریہ پاکستان فورم اسلام آباد کے صدر سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محمود علی ایک پڑھے لکھے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو ایسٹ بنگال قانون ساز اسمبلی، پاکستان کی دوسری قانون ساز اسمبلی اور قومی اسمبلی کے رکن رہنے کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر بھی رہے اور وفات تک اس عہدے پر کام کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کی وفات کے بعد ہمارے ملک میں قیادت کا فقدان رہا لیکن محمود علی نے نظریہ پاکستان کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور وہ ہمیشہ اپنے اصولوں پر کاربند رہے۔

انہوں نے کہا کہ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد انہوں نے ایک منفرد کردار ادا کیا اور پاکستان میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکتے ہوئے اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے اور اصولوں کی بنیاد پر ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے کام کرنا ہو گا تاکہ پاکستان کے قیام کا مقاصد کو حاصل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ سال محمود علی کے 100 ویں یوم ولادت کی تقریبات کو پروقار انداز میں منایا جائے گا۔ تقریب سے اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے صدر احمد حسن مغل، نظریہ پاکستان فورم چکوال کے صدر راجہ مجاہد افسر خان، نظریہ پاکستان فورم کے سیکرٹری جنرل ظفر بختاوری، چیئرمین پریس کونسل آف پاکستان صلاح الدین مینگل اور نوائے وقت اسلام آباد کے ایڈیٹر جاوید صدیق سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور محمود علی کی زندگی اور ان کی خدمات پر مفصل روشنی ڈالی۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء نے ایچ ایٹ قبرستان میں محمود علی کی قبر پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔