حکومت کی یکم دسمبر سےتیل کی قیمتیں کم کرنےکی خوشخبری

عالمی مارکیٹ میں نومبر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، یکم دسمبر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کردیں گے۔وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر کی نجی ٹی وی سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ نومبر 15:44

حکومت کی یکم دسمبر سےتیل کی قیمتیں کم کرنےکی خوشخبری
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 نومبر 2018ء) وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے یکم دسمبر سے تیل کی قیمتیں کم کرنے کی خوشخبری سنا دی ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں نومبر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، یکم دسمبر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کردیں گے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بجلی کی قیمت جتنی بڑھانی تھی بڑھ چکی ہے،لیکن اب آئی ایم ایف کے ساتھ کیا مذاکرات ہوتے ہیں اس پر مزید بجلی بڑھانے کا دیکھیں گے۔

لیکن ہمارا تو بجلی کی قیمتیں بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔اب تک بجلی کی تنی قیمت زیادہ کی گئی ہے اس میں 70 فیصد پاکستانیوں کیلئے بجلی کی قیمت میں ایک پیسا بھی اضافہ نہیں کیا گیا۔ اسد عمر نے کہا کہ پٹرول پر ٹیکس کی شرح پچھلے 15 سالوں میں سب سے کم شرح ہے۔

(جاری ہے)

پٹرول کی قیمتوں میں عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے اضافہ کیا ہے۔ہمارے تین مہینوں میں پہلے مہینے میں ڈیزل ساڑھے چھ روہے سستا ہوا اور اڑھائی روپے پٹرول سستا ہوا۔

دوسرے مہینے میں اوگرا نے کہا کہ قیمتیں بڑھائیں ہم نے قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا۔ جبکہ تیسرے مہینے میں انہوں نے جتنی قیمتیں بڑھانے کی بات کی اس سے بھی آدھی قیمتیں بڑھائی ہیں۔اسی نومبر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں گرنا شروع ہوئی ہیں تواب ہم یکم دسمبر کو ریلیف دیں گے۔ دوسری جانب انہوں نے مزید کہا کہ جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو ملک اقتصادی بحران کا شکار تھا، ہماری حکومت نے تمام آپشنز پر غور کرتے ہوئے ملکی معیشت کے استحکام کے لیے مثبت و ٹھوس اقدامات کیے جس کی وجہ سے ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے چین اور سعودی عرب کے دونوں دورے انتہائی کامیاب رہے جنہوں نے ملکی معیشت کی بہتری میں مدد کی۔ وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ریاست کے معاملات چلانے کے لیے حکومت کم سے کم شرح سود پر قرض حاصل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی اقتصادی چیلنجز میں مدد کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا بیل آئوٹ پیکج ناگزیر تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سٹیل مل سمیت پی آئی اے اور پاکستان ریلوے کی نجکاری کا ابھی تک حکومت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ وفاق کا تمام صوبوں کے ساتھ اچھے تعاون اور بہتر کام کرنے والا تعلق ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان اختلاف رائے بھی نہیں ہے۔