وزیراعظم کے مشیر زلفی بخاری ایک سوال پر صحافی سے الجھ پڑے

کس قانون کے تحت استعفیٰ دوں، سوال کسی طریقے سے پوچھا جاتا ہے، یوٹرن کا مطلب تصحیح کرنا ہوتا ہے حالات کے مطابق فیصلے بدلتے رہتے ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر زلفی بخاری کی میڈیا سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ نومبر 17:18

وزیراعظم کے مشیر زلفی بخاری ایک سوال پر صحافی سے الجھ پڑے
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 نومبر 2018ء) وزیراعظم کے مشیر زلفی بخاری ایک سوال پر صحافی سے الجھ پڑے۔انہوں نے استعفے کے سوال پر کہا کہ کس قانون کے تحت استعفیٰ دوں، سوال کسی طریقے سے پوچھا جاتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر زلفی بخاری نے آج لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کیا۔ اس موقع پر لوگوں نے شور شرابا بھی کیا۔

وزیراعظم کے مشیر زلفی بخاری نے شور شرابے پر کہا کہ شکر کریں سپریم کورٹ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ کرپشن کوختم کیا جائے۔ میرے محکمے میں پہلے ہی بہت کرپشن ہے۔ ممبرکسی بھی پارٹی کا ہو ہمیں کام دے غرض ہے۔ 5 سالوں میں عوام کو فلاحی ریاست بناکردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمر ے پر گیا توتنقید شروع ہوگئی اب پھر تنقید کی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے ایک سوال پر رپورٹر سے تلخی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ کس قانون کے تحت استعفیٰ دوں ۔سوال کسی طریقے سے پوچھا جاتا ہے۔انہوں نے وزیراعظم کے یوٹرن کے سوال پر کہا کہ یوٹرن کا مطلب تصحیح کرنا ہوتا ہے حالات کے مطابق فیصلے بدلتے رہتے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم کے مشیراور معاون خصوصی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سابق حکومت کے خلاف 4 کیسز نیب کو بھیجیں گے۔

2013 سے 2018ء تک کی چیزیں ہم اٹھاتے ہیں۔نوازشریف ، مریم نواز اور شہباز شریف نے ہیلی کاپٹر اور جہاز کا غیرقانونی استعمال کیا ۔سابق دور میں ہوائی سفر پر 340 ملین غیرقانونی طور پر خرچ ہوئے۔گزشتہ دور میں وزیراعظم کے جہاز کا غیرقانونی استعمال ہوا۔مریم نواز کے وزیراعظم کے جہاز کا بھی کیس فائل کررہے ہیں۔برطانوی اخبار نے جس جائیداد کا ذکر کیا نوازشریف نے اس جائیداد کو چھپایا۔

لندن کی ایک اور پراپرٹی کو نوازشریف نے کہیں بھی ڈکلیئر نہیں کیا۔پراپرٹی مرحومہ کلثوم نواز کے نام پر لی گئی جوکہیں بھی ڈکلیئر نہیں کی گئی۔ شریف فیملی کیخلاف نئی جائیداد کا کیس بھی نیب کو بھجوائیں گے۔ برطانیہ سے تازہ دستاویزات منگوا لی ہیں۔ نوازشریف کی بطور وزیراعظم ذمہ داری تھی کہ اثاثوں سے متعلق بتاتے۔ایف بی آر اور الیکشن کمیشن کو ریکارڈ جمع نہیں کروایا گیا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ سندھ سے متعلق جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی ہے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی نے کہا کہ رائیونڈ کی سکیورٹی پر 60 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ایک دیوار بنانے کیلئے کروڑوں روپے لگائے گئے۔شہبازشریف کے سفری اخراجات کا معاملہ نیب کو بھجوا رہے ہیں۔ شہباز شریف نے 60 کروڑ روپے جہاز کے سفرکی مد میں خرچ کیے۔انہوں نے کہا کہ ایسے انکشافات کے بعد عوام کو سوچنا چاہیے کہ ہم نے کن کو منتخب کیا تھا۔نیب کے تمام کیسز جو ہم فائل کررہے ہیں ان پر سٹینڈ لیں گے۔