تکنیکی مسائل کی وجہ سے کے فور منصوبے کے اخراجات بڑھ رہے ہیں،وزیر اعلی سندھ

پاور پروجیکٹ کیلئے نیپرا سے بات چیت شروع ہوگئی ہے، اس وقت پروجیکٹ کی کل قیمت 75 بلین روپے ہے،مرا د علی شاہ کی میڈیا سے گفتگو

ہفتہ نومبر 21:23

تکنیکی مسائل کی وجہ سے کے فور منصوبے کے اخراجات بڑھ رہے ہیں،وزیر اعلی ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2018ء) وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کے فور منصوبے کے تکنیکی مسائل ہیں،جس کی وجہ سے اس کے اخراجات بڑھ رہے ہیں، کے فور پہلا پروجیکٹ ہے جو کراچی تک پانی لائے گا، کے فور کا منصوبہ ایک خواب تھا اور اس میں کبھی دن کی روشنی دیکھنے میں نہیں آئی اور اسے ری ڈیزائن نہیں کیاگیا اوراس منصوبے میں رہ جانے والی تمام تر جزیات کو شامل کیاگیا ہے اور یہ ان کی حکومت کی ایک مخلصانہ کاوش ہے جس کی بدولت اس منصوبے کو حقیقت کا روپ دیاگیا۔

انہوں نے یہ بات جمعہ کوایف ڈبلیو او کمانڈنگ آفیسر لیفٹنینٹ کرنل عثمان آفتاب سے کینجھر میں بریفنگ لینے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔ اس بریفنگ میں صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی،ڈی جی ایف ڈبلیو او میجر جنرل انعام حیدر ملک، ایم ڈی واٹر بورڈ خالد شیخ ، پی ڈی کے فور اسد ضامن، ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ محمد نواز سوہو اور ایف ڈبلیو او کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کے فور منصوبہ میں بہت ساری چیزیں نہیں تھیں، جس میں اہم نوری آباد ۔ ٹھٹھہ روڈ کینال پر پل،50 میگا واٹ پاور پلانٹس ،چھوٹے اور بڑے پل، لینڈ ایکوزیشن،پمپنگ اسٹیشن کو شامل نہیں کیاگیاتھا۔ جب منصوبے کا آغاز کیاگیا تو منصوبے کی لاگت بڑھتی چلی گئی کیونکہ اس میں ضروری جزویات کو شامل نہیں کیاجارہاتھا ۔مراد علی شاہ نے کہا کہ کے فور منصوبے کے تحت 650 ایم جی ڈی(1200 کیوسک)پانی کراچی کو فراہم کیا جانا تھا، جس پر 3 مراحل میں عملدرآمد ہوگا۔

منصوبے کی فزیبلیٹی اسٹڈی جولائی 2007 میں کی گئی جس میں کے فور منصوبی(متبادل روٹ موجودہ کے ڈبلیو ایف بی کے پانی کی فراہمی کا نظام براہ دھابیجی)کے روٹ کو حتمی شکل دی گئی۔متبادل روٹ کی9 آپشن تھے جس میں سے روٹ نمبر 8 ٹکنیکلی لحاظ سے اورکم لاگت کے حوالے سے منتخب کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ کے فور منصوبہ(پہلا مرحلہ)260 ایم جی ڈی کیلیے پی سی ون2010 میں تیار کی گئی۔

پروسیسنگ اور منظوری میں تاخیر کے باعث اس کی سال2014 میں ہیکینک نے حتمی منظوری دی۔کے فور پروجیکٹ (فیز ون میں اصل میں کا م کا آغاز جون 2016 یعنی فیزیبلیٹی اسٹڈی کے 9 سال کے بعد شروع ہوا۔کے فور منصوبے کی پی سی ون130 ایم جی ڈی کے لیے ستمبر 2007 میں تیار کی گئی جوکہ15.81بلین روپے کے لیے تھی یہ پی سی ون مئی 2010 میں 130 ایم جی ڈی کے لیے 19.29 بلین روپے کے لیے وصول کی گئی۔

مئی 2011 میں اس پر دوبارہ نظر ثانی کی گئی اور اسے 260 ایم جی ڈی کیاگیا اورپری لیمنری ڈیزائن کی بنیاد پر تخمینی لاگت 29.76 بلین روپے تھی جو کہ منظوری کے لیے پیش کی گئی۔پی ڈی ڈبلیو پی نے پی سی ون لاگت کا33 فیصد حصے کے مطابق یعنی وفاقی حکومت، سندھ حکومت اور سی ڈی ڈی کے کے مابین برابری کے حساب سے منظوری دی۔سی ڈی ڈبلیو پی نے منطقی پی سی ون کے تحت 2010 میں مارکیٹ ریٹ کے مطابق اس کا تخمینہ طے کیا۔

پی ڈی ڈبلیو پی نے جولائی 2014 میں 25.55 بلین روپے کے پی سی ون کی سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے مابین لاگت کا 50 فیصد کے حساب سے منظوری دی۔ہیکنک نے بھی پی سی ون کی منظوری دی اور اگست 2014 میں سندھ حکومت نے انتظامی منظوری جاری کی ۔سندھ حکومت نے کے فور منصوبی(فیز ون) میسرز فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن(ایف ڈبلیو او) کو 16 مارچ 2016 میں دیاگیا جس کے تحت پی سی ون کی لاگت کے اندر 24 ماہ کے اندر اسے مکمل کرنا تھا۔

ایف ڈبلیو او کی ابتدائی بڈ پی سی ون کی لاگت 25.5 بلین روپے سے بہت زیادہ تھی لہذا منصوبے کو پیکیجز اے اور بی میں تقسیم کیاگیا۔کنوینیئنس سسٹم(سول ورک کی لائینگ پر مشتمل جبکہ پیکیج بی الیکٹریکل اور میکنیکل کمپونیٹ پمپ ہائوسس کے سول ورکس اور فلٹر پلانٹس پر مشتمل تھا۔ مذاکرات کے بعد پیکیج اے کا م کے اسکوپ کو کم کرکی15.254 بلین روپے جولائی 2016 میں دستخط کیے گئے جبکہ پیکیج بی پر کافی تاخیر اور کام کے اسکوپ میں کمی کے بعد اگست 2017 میں 12.9 بلین روپے کے لیے دستخط کیے گئے ، اس طرح ایف ڈبلیو او کو مجموعی طورپر 28.187 بلین روپے کی لاگت کا کنٹریکٹ دیاگیا۔

اس وقت منصوبے کی مجموعی لاگت 29.136 تک پہنچ گئی ہی(بشمول کنسلٹنسی اینڈ کونٹینجیسی) جوکہ مذکورہ بالا پی سی ون کی لاگت کا 14.1 فیصد ہے۔منصوبے کی مجموعی لمبائی 708 میٹر ہے جس میں 300 میٹر ان ٹیک اور ویٹ پورشن،408 میٹر ان ٹیک ڈرائے پورشن شامل ہے، کینال کی لمبائی 93852 میٹر ہے،کینال38930 میٹر میں فل ہوتی ہے۔ کینال کٹ 54922 میٹر ہے۔ایم ایس سائیفن(4 x 84 ڈایاپائپ۔

) ،لمبائی 8500 میٹر،آر سی سی کنڈیوٹ کی لمبائی ا0072 میٹر ،کلورٹس 82،سپرفیسجیز 29 ٹرانزیکشن اسٹریکچر 29 ہے ۔پیکیج بی کی لمبائی رائزنگ مین(4x72 ڈایا ایم ایس پائپ)،3200 میٹر ،اوپن کینال ان ٹیک اسٹریکچر سے لمبائی 5046 میٹر ہے۔ اس کی2 پمپ اسٹیشن اور 3فلٹر پلانٹ اور تین اسٹوریج لاگونز ہوں گے۔بائونڈری وال کی تعمیر پر0.9بلین روپے لاگت آئے گی۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ پروجیکٹ اسٹیرنگ کمیٹی (پی ایس ٹی) کے فور منصوبے کے لیے کبھی تشکیل نہیں دی گئی ، لہذا متعدد مسائل سامنے آئے ۔

انہوں نے کہا کہ کے فور منصونے کے لیے پروجیکٹ اسٹیرنگ کمیٹی کے ساتھ ساتھ سپلیمنٹری منصوبوں کے ساتھ چیئرمین پی اینڈ ڈی کی زیر صدارت تشکیل دی گئی ۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ واٹر کمیشن نے کے فور منصوبے کی پروگریس میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے متعدد ہدایات جاری کیں ان میں کے فور (فیز ون) کی پروگریس کی باقاعدہ نگرانی، روٹ ری ایلامنٹ کے ایشو کی سیٹنلمنٹ،کے فور (فیز ون) کے سپلیمنٹری پروجیکٹ پر فوری عملدرآمد اور تیاری شامل ہیں۔

کے فور کے لیے زمین 5 بلین روپے میں حاصل کی گئی۔حاصل کی گئی زمین میں 1052ایکڑ زمین پرائیویٹ اور 11936 ایکڑ زمین سرکاری ہے۔صوبائی حکومت نی3.75 بلین روپے جاری کردیئے ہیں اورفنڈ کی دیگر اقساط پائپ لائن میں ہے۔کے فور رائٹ آف وی(آر او ڈبلیو)کا مکمل قبضہ ابھی تک ایف ڈبلیو او کے حوالے نہیں کیاگیا ہے جس کی متعدد وجوہات اور اسباب ہیں۔وزیراعلی سندھ نے میڈیا کو بتایا کہ آگمنٹیشن پروجیکٹ جوکہ کے فور پروجیکٹ کے ساتھ شروع ہونا تھا وہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے ابھی تک شروع نہیں ہے۔

آگمینٹشین پروجیکٹ کا ڈیزائن کا بالآخر اپریل 2018 میں آغاز کیاگیا جوکہ اب مکمل ہوچکا ہے۔ آگمنٹیشن پی سی ون کے ڈبلیو ایف بی آگمنٹیشن کمیٹی کے اجلاسوں اور کنسلٹنٹس کے ڈیزائن جس کی لاگت 19.962 بلین روپے ہے کی بنیا د پر جسے محکمہ بلدیات میں پیش کیاگیا ہے،پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ سے مزید منظوری کے لیے ۔ محکمہ بلدیات نے موڈیفائیڈ پی سی ون جس کی لاگت 18.679 بلین روپی(بشمول 4 بلین روپے زمین اور یوٹیلیز کے لیی) ہے جوکہ پی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں بھیجنے محکمہ پی اینڈ ڈی کو پیش کی گئی ۔

انرجی پروجیکٹ کے فور منصوبے کا سپلیمنٹری کمپونٹ ہے جو کہ دو پمپنگ اسٹیشن کے ساتھ ہے۔ ابتدائی طورپر 50 میگا واٹ پمپنگ اسٹیشن کوحیسکو کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔ اس حوالے سے کوئی بھی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔لوڈ فلو اسٹڈی کا 2017 میں کا فی تاخیر کے بعد آغاز کیاگیا۔گرڈ اسٹیشن کے لیے پی ایس ون اور پی ایس ٹو کو موجودہ حیسکو کے جھمپیر اور مکلی گرڈ اسٹیشن کے ساتھ منسلک کیاگیا، جسے حال ہی میں سیمنس نے مکمل کیاہے۔

فروری 2018 میں وزیر اعلی سندھ نے کے فور منصوبی(فیز ون) کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ(پی پی پی) موڈ کے تحت 50 میگا واٹ پاور پلانٹ کے قیام کا فیصلہ کیاگیا۔محکمہ بلدیات نے 30 اپریل 2018 کو کنسلٹینٹ سیلیکشن کمیٹی پہلے قدم کے طورپر نوٹیفائے کی۔کے فور منصوبے کے اہم جزیات میں 12 سڑکیں ،پلوں کے ساتھ، 17 پیڈاسٹرین پل، 20.5 کلومیٹر سڑک پلوں کے لیے ڈائیورجن،2 پمپنگ اسٹیشن اور 3 فلٹر پلانٹ کے ملازمین کے لیی5 اسٹاف کالونیاں، فینسنگ،آلات اور مشینری کے لیے 5 ورکشاپس شامل ہیں ۔

وزیراعلی سندھ نے میڈیا کو بتایا کہ منصوبے کی لاگت میں 75 بلین روپے تک اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم حقیقی مارکیٹ ریٹ کی بنیادپر، پی اینڈ ڈی،واٹر بورڈ اور ایف ڈبلیو او کے ماہرین مشترکہ طورپر لاگت کے تخمینے کے لیے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ وفاقی حکومت سے لاگت میں شیئرنگ کے لیے ایک بار پھر رجوع کریں گے۔ انہو ں نے کہا کہ میں نے اس معاملے پر وفاقی وزیر برائے پانی فیصل واوڈ سے بات کی ہے اور انہوں نے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔

سید مراد علی شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ سندھ حکومت نے 15.05 بلین روپے جاری کیے ہیں جبکہ وفاقی حکومت نے 12.15بلین روپے جاری کیے ہیں ۔ اور ابھی بھی 51.3 بلین روپے درکار ہیں جس میں سندھ حکومت کی جانب سے 26.7 بلین روپے اور وفاقی حکومت کی جانب سے 24.6 بلین روپے شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم منصوبے کی تفصیلی لاگت کو حتمی شکل دیں گے۔ جس کا تخمینہ75 بلین روپے ہے۔ کے فور کے پی ڈی اسد ضامن نے میڈیا کو کے فور کے لیے تعمیر کی جانے والی کینال اور پروجیکٹ کا کام جو کہ پوری رفتار کے ساتھ جاری ہے دکھایا۔