اگلے 2 ماہ میں 25 سے 30 سیاستدانوں کی گرفتاری کا امکان

نیب کی جانب سے سابق اور موجودہ حکومت میں موجود لوگوں کیخلاف کرپشن کے شواہد اکٹھے کرنے کا عمل جاری

muhammad ali محمد علی ہفتہ نومبر 21:14

اگلے 2 ماہ میں 25 سے 30 سیاستدانوں کی گرفتاری کا امکان
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔17نومبر 2018ء) اگلے 2 ماہ میں 25 سے 30 سیاستدانوں کی گرفتاری کا امکان، نیب کی جانب سے سابق اور موجودہ حکومت میں موجود لوگوں کیخلاف کرپشن کے شواہد اکٹھے کرنے کا عمل جاری۔ تفصیلات کے مطابق نیب کی جانب سے بڑی گرفتاریاں کرنے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے اگلے 2 سے 3 ماہ کے دوران کئی بڑی گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔

ممکنہ طور پر اگلے 2 ماہ میں 25 سے 30 سیاستدانوں کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔ نیب کی جانب سے سابق اور موجودہ حکومت میں موجود لوگوں کیخلاف کرپشن کے شواہد اکٹھے کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس حوالے سے تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات آ رہی ہیں کہ اپوزیشن سمیت حکومتوں کا حصہ رہنے والے پچیس تیس اہم افراد کی گرفتاریاں دسمبر اور جنوری کے شروع میں متوقع ہیں اور ان گرفتاریوں کے حوالے سے شواہد کی بنیاد پر مقدمات تیار ہو رہے ہیں اور یہ کام سنجیدگی سے جاری ہے۔

(جاری ہے)

قومی سیاست میں ایک مرتبہ پھر مؤثر احتسابی عمل کے لئے قومی احتساب کمیشن کی بازگشت سننے میں آئی ہے۔ سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ یکطرفہ احتساب نہیں چلے گا۔ احتساب ہونا ہے تو سب کا ہو صرف سیاستدانوں تک محدود نہیں رہنا چاہئے جس کیلئے قومی احتساب کمیشن قائم ہونا چاہئے، لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چارٹر آف ڈیموکریسی کرنے والی ملک کی دو بڑی جماعتوں کی جانب سے آنے والی قومی احتساب کمیشن کی تجویز پر عملدرآمد کیوں نہ ہو سکا۔

آج میاں رضا ربانی جیسا نظریاتی اور سنجیدہ شخص جب احتساب کمیشن کی بات کر رہا ہے تو انہیں کیا اپنی جماعت اور قیادت سے نہیں پوچھنا چاہئے کہ آخر کیونکر احتساب کمیشن پر پیش رفت نہ ہو سکی، مسلم لیگ ن جو پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں احتساب کمیشن پر حکومت پر دباؤ بڑھاتی نظر آتی تھی آخر کونسی ایسی وجوہات تھیں کہ جب وہ خود حکومت میں آئی تو نہ صرف یہ کہ احتساب کمیشن پر پیش رفت نہ ہو سکی بلکہ خود سابق صدر آصف زرداری کو کرپشن کی بنیاد پر سڑکوں پر گھسیٹنے کے دعوے کرنے والے پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کو اس معاملہ پر سانپ سونگھ گیا۔

حقائق یہی ہیں کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے عملاً ملک کے اندر کرپشن کے خاتمہ اور کرپشن میں ملوث عناصر کے گرد قانونی شکنجہ کسنے کیلئے کوئی پیش رفت نہیں کی بلکہ نیب کے ادارہ کو اپنے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا اور اسی بنیاد پر عمران خان نے کرپشن ، لوٹ مار کو بڑے مسئلہ کے طور پر عوام کے سامنے پیش کیا اور انہیں سیاسی محاذ پر پذیرائی ملی، انہوں نے قوم سے سچ بولنے، کرپٹ عناصر اور انتخابات جیتنے کی اہلیت رکھنے والوں کو اپنی صفوں میں شامل نہ کرنے کا اعلان کیا اور عوام کی طاقت سے سیاسی تبدیلی کا عزم ظاہر کیا۔