حوثی ملیشیا کا یمنی مذاکراتی ٹیم کے رکن وزیر کے ملکیتی مکانوں پر دھاوا، لوٹ مار

جنگجوئوں نے الحدیدہ میں عام شہریوں کو گرفتار اور صنعاء میں اپنے مخالفین کے گھروں پر حملے کررہے ہیںعثمان مجلی

اتوار نومبر 11:10

صنعا ئ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 نومبر2018ء) یمن کے دارالحکومت صنعاء میں حوثی شیعہ باغیوں نے ملک کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے وزیر زراعت اور آب پاشی عثمان مجلی کے ملکیتی مکانوں پر حملے کیے ۔عثمان مجلی یمنی حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے بھی رکن ہیں اور انھوں نے اب تک اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے تمام ادوار میں شرکت کی ہے۔

انھوں نے عرب ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ حوثی ملیشیا کے مسلح عناصر نے صنعاء میں ان کے مکانوں پر دھاوا بولا ہے اور وہاں سے سامان لوٹ کر لے گئے ۔انھوں نے کہا کہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن کے مکانوں پر یہ حملہ حوثی ملیشیا کی جانب سے ایک واضح پیغام ہے اور وہ یہ کہ ایران نواز ملیشیا بحران کا سیاسی حل نہیں چاہتی اور اس کو ملک میں قیام امن میں بھی کوئی دلچسپی نہیں ۔

(جاری ہے)

عثمان مجلی کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کو اس وقت مختلف محاذوں پر پے درپے شکست کا سامنا ہے اور وہ ہسٹریا کا شکار ہوچکے ہیں۔انھوں نے الحدیدہ شہر میں عام شہریوں کو گرفتار کرنا شروع کردیا ہے اور صنعاء میں اپنے مخالفین کے گھروں پر حملے کررہے ہیں۔دریں اثناء اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں عالمی ایلچی مارٹن گریفتھس نے بتایا کہ یمن کی قانونی حکومت اور حوثی ملیشیا نے بحران کے سیاسی حل کے عزم کی تجدید کی ہے اور انھوں نے سویڈن میں مجوزہ مذاکرات میں شرکت کی پختہ یقین دہانی کرائی ہے۔