وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا پنجاب میں ممکنہ تنازعے پر اظہار

پرویزالہیٰ اورعثمان بزدار آمنے سامنے آئے تو ہم عثمان بزدارکےساتھ ہونگے

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس اتوار نومبر 11:24

وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا پنجاب میں ممکنہ تنازعے پر اظہار
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-18 نومبر 2018ء) :وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے خبردار کیا ہے کہ اگر پنجاب میں اسپیکر صوبائی اسمبلی پرویزالہیٰ اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار آمنے سامنے آئے تو ہم عثمان بزدارکےساتھ ہونگے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے ایک ویڈیو لیک ہوئی جس کے بعد اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنماء جہانگیر ترین کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

دونوں کی ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور گورنر چوہدری سرور سے متعلق بات ہوئی۔منظر عام پر آنے والی ویڈیو کے مطابق اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنماء جہانگیر ترین کے درمیان ملاقات میں طارق بشیر چیمہ بھی موجود تھے، چودھری پرویز الٰہی نے جہانگیر ترین سے کہا کہ ’’یار اس سرور نوں کنٹرول کرو‘‘ جس پر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ آپ کے چیف منسٹر کو اس نے چلنے نہیں دینا۔

(جاری ہے)

جس کے بعد یہ تاثر پیدا ہو گیا کہ پنجاب میں طاقت کا تنازعہ چل رہا ہے اور اقتدار کے لیے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ، گورنر چوہدری سرور ، اسپیکر پرویز الہٰی اور سینیر وزیر عبدالعلیم خان میں تنازعہ چل رہا ہے۔ایسے میں معروف صحافی خوشنود علی خان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سمجھتے ہیں ان کے ساتھ جو بھی لگتا ہے وہ پارس بن جاتا ہے۔لیکن مجھے یہ لگتا ہے کہ پرویز الہیٰ،جہانگیر ترین اور علیم خان جیسے رہنما پنجاب میں عمران خان کی کامیابیوں پر پانی پھیر دیں گے۔

اور تحریک انصاف پنجاب کے پاس صرف ایک ہی صورت میں رہ سکتا ہے اگر پرویز الہیٰ کا وزیر اعلیٰ پنجاب بنا دیا جئاے ورنہ پاکستان مسلم لیگ ن پرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ بنا دے گی۔اس پر یہ تاثر تقویت پکڑ گیا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ ، وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے سامنے آنا چاہتے ہیں۔تاہم اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کا موقف کھل کر سامنے آ گیا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ پرویزالہیٰ اورعثمان بزدار آمنے سامنے آئے تو ہم عثمان بزدارکےساتھ ہونگے۔ان کے اس بیان نے حکومتی پالیسی واضح کر دی ہے اور بتا دیا ہے کہ اختلافات کی صورت میں حکومت کا اگلا قدم کیا ہوسکتا ہے۔