مقبوضہ کشمیر : اشرف صحرائی کا غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیریوں کی حالت زار پر اظہار تشویش

بھارت طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کشمیریوں کی آواز کو دبا نہیں سکتا۔ چیئرمین تحریک حریت

اتوار نومبر 13:00

سرینگر ۔18 نومبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 نومبر2018ء) مقبوضہ کشمیر میں تحریک حریت جموںوکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے مقبوضہ علاقے کی اور بھارتی جیلوں میں نظر بند کشمیریوں کی حالت زار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کوسیاسی اختلافات کی بنیاد پر جھوٹے مقدمات میں گرفتارکیا گیا ہے اور اب ان کی نظربندی کو اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے طول دیا جارہا ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق محمد اشرف صحرائی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ وادی سے تعلق رکھنے والوں کی جموں خطے اور مختلف بھارتی ریاستوں کی دور دراز جیلوں میں رکھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی پسند قائدین، کارکنوں ا ور عام نوجوانوں کو پہلے جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیا جاتا ہے جس کے بعد بغیر کسی ٹرائل کے انہیں برسہابرس تک نظر بند رکھا جاتا ہے جو انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بھارت نے قیدیوں سے متعلق جنیوا کنونشن پر بھی دستخط کر رکھے ہیں لیکن وہ نظر بندوں سے متعلق تمام بین الاقوامی قوانین سے انحراف کرکے ان کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرر ہا ہے۔ محمداشرف صحرائی نے کہا کہ بھارت کے حکمران جموں کشمیر میں کالے قوانین آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر جابرانہ ہتھکنڈے استعمال کرکے یہاں کی سیاسی آواز کو دبانا چاہتے ہیں لیکن وہ بھارت کے حکمرانوں پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ظلم و جبر اور طاقت کے وحشیانہ استعمال سے وہ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو ہرگز دبا نہیں سکتے۔

انہوں نے تمام سیاسی نظربندوں کی فوری رہائی پر زور دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ جموں کشمیر کے مظلوم قیدیوں کی حالت زار اور ان کے ساتھ روا رکھا جانے والے غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیرقانونی سلوک کا سنجیدہ نوٹس لے اور تنازع کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کیلئے اقدامات کرے۔محمد اشرف صحرائی نے 75سالہ حریت راہنما غلام محمد خان سوپوری کو کوٹ بھلوال جموں جیل سے ہریانہ جیل منتقل کرنے کی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وادی کشمیر کے رہائشیوں کو سیاسی انتقام گیرانہ پالیسی کے تحت گھروں سے دور قید کر کے ان کے اہل خانہ کو ان سے ملنے سے روکا جاتاہے۔

انہوںنے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں کرائے جانے والے پنچایتی انتخابات کی کوئی ہمیت نہیں اور کشمیری میونسپل انتخابات کی طرح انکا بھی مکمل بائیکاٹ کر کے بھارت کے ساتھ ساتھ عالمی برادری پر بھی واضح کریں گے کہ وہ صرف اور صرف اپنا پیدائشی حق، حق خود ارایت چاہتے ہیں۔