حاجی عبدالوہاب کے ہاتھوں پر ہزاروں غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئے

اتوار نومبر 14:00

حاجی عبدالوہاب کے ہاتھوں پر ہزاروں غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئے
رائے ونڈ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 نومبر2018ء) امیر تبلیغی جماعت حاجی عبدالوہاب کے ہاتھوں پر ہزاروں غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئے ۔حاجی عبدالوہاب نے اپنی پوری زندگی اسلام کی اشاعت اور کلمہ کی دعوت کو عام کرنے میں گزاری ۔ امیر تبلیغی جماعت حاجی عبدالوہاب 1922میںبھارت کے علاقہ سہارن پور اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے آبا ئواجداد کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آگئے ۔

انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور سے گریجویشن کیا اور اپنی عملی زندگی کا آغاز بطور تحصیلدار کیا لیکن کچھ عرصہ بعد ہی اپنا پیشہ چھوڑ کر دینی جماعت سے وابستہ ہو گئے۔انہوں نے بانی تبلیغی جماعت مولانا محمد الیاس کاندھلوی کے ساتھ6ماہ کا عرصہ گزارا۔حاجی عبدالوہاب بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاس کاندھلوی،مولانا محمد یوسف کاندھلوی،مولانا انعام الحسن کاندھلوی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔

(جاری ہے)

تبلیغی جماعت کے پہلے امیر محمد شفیع قریشی ،دوسرے امیر حاجی محمد بشیر مقرر ہوئے اورانکی وفات کے بعد حاجی عبدالوہاب کو عالمی تبلیغی جماعت کا تیسرا امیر مقرر کیا گیا ۔امیر تبلیغی جماعت حاجی عبدالوہاب نے دنیاوی معاملات کو کبھی ترجیح نہیں دی ،حاجی عبدالوہاب نے اپنی زندگی میں ایک شادی کی جس سے کوئی اولاد نہیں ہوئی ،حاجی عبدالوہاب نے مولانا محمد فہیم کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا جنہوں نے انکی بھرپور خدمت کی ،حاجی عبدالوہاب کے آخری ایام بھی مولانا محمد فہیم نے انکی خدمت گزاری میں صرف کئے۔

حاجی عبدالوہاب نے اپنی پوری زندگی تبلیغ اور دین کی اشاعت کے لیے وقف کر رکھی تھی ۔اکتوبر 2014 کو عمان کے تحقیقی ادارے رائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹیڈیز سینٹر نے دنیا کی 500 بااثر ترین مسلمان شخصیات کی فہرست شائع کی تھی جس میں پاکستان کی عالمی سطح پر سب سے بااثر قرار پائی جانے والی شخصیات میں تبلیغی جماعت کے سربراہ حاجی محمد عبدالوہاب کا 10واں نمبر تھا۔

اس کے علاوہ اردن کے رائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹر نے دنیا بھر کی500با اثر ترین مسلم شخصیات سے متعلق اپنی 2018 کی رپورٹ جاری کی تھی۔اسلامک اسٹڈیز سینٹر کی شائع ہونے والی رپورٹ 272 صفحات پر مشتمل تھی جس میں اسلامی دنیا کی سب سے بااثر شخصیت الاظہر یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر شیخ احمد کو قرار دیا گیا تھا جب اس فہرست میں پاکستان میں تبلیغی جماعت کے سربراہ حاجی محمد عبدالوہاب بھی شامل تھے۔

تبلیغی جماعت کے امیر حاجی عبدالوہاب کے انتقال پر حکومتی ،سیاسی اور سماجی شخصیات سمیت دیگر نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور ، وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے اپنے تعزیتی بیان میں تبلیغی جماعت کے امیر حاجی عبد الوہاب کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے دین اسلام کیلئے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ۔

مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین ، سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی ،سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف، پارٹی کے صدر شہباز شریف، پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز، ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب ،امیر جماعت اسلامی سراج الحق ،لیاقت بلوچ ،حافظ محمد ادریس نے تبلیغی جماعت کے امیر حاجی محمد عبدالوہاب کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حاجی عبدالوہاب ان بزرگوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں جنہوں نے دین کی تبلیغ کے لیے اپنی زندگی وقف کی اور اسلامی طرز زندگی کے احیا ء اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت طیبہ کی تعلیم و تربیت میں آپ کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

حاجی عبد الوہاب نے تبلیغ کو ایک تحریک کی شکل دی اور اسے پوری دنیا میں پھیلایا۔اللہ تعالی کے پیغام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کی دعوت و تبلیغ میں آپ کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔رہنمائوں کا کہنا تھا کہ مولانا عبدالوہاب نے انسانوں کے اخلاق و عمل کو دین اسلام کے اصولوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے شاندار خدمت انجام دی اور تبلیغی جماعت کی صورت میں ان کا یہ کار خیر انشااللہ جاری و ساری رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ حاجی عبدالوہاب نے لوگوں کو سکھایا کہ اخلاق، محبت اور اخلاص کے کی قوت سے زندگیاں تبدیل کی جا سکتی ہیں اور دین اسلام کی موجودہ دور کی ایک بڑی شخصیت کا انتقال عالم اسلام کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔رہنمائوں نے کہا کہ حاجی عبد الوہاب نے پوری زندگی اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام کیا اور وہ دین کو دنیا کے ہر فرد تک پہنچانے کے لیے کوشاں رہے جبکہ اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔علاوہ ازیں نجی ٹی وی کے مطابق مولانا طارق جمیل امیر تبلیغی جماعت حاجی عبد الوہاب کے انتقال کی خبر سن کر کراچی کا دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس لاہور آ گئے تاہم انہو ں نے دوروں پر نکلی ہوئی تمام تنظیموں کو تبلیغ کا کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔