پاکستان میں محنت کشوں کی تعداد تقریبا 05 کروڑہے لیکن بدقسمتی سے صرف 15 لاکھ مزدور منظم ہیں‘چوہدری محمد یاسین

ہم پی ڈبلیو ایف اور ایل او/ ایف ٹی ایف کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے میری درخواست پر اسلام آباد کے بلدیاتی نمائندوں کے لیے تربیتی و آگاہی پروگرام منعقد کئے‘جنرل سیکرٹری سی ڈی اے مزدور یونین

اتوار نومبر 15:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 نومبر2018ء) پاکستان ورکرز فیڈریشن،ایل او/ ایف ٹی ایف اور سی ڈی اے مزدور یونین کے زیراہتمام ایک روزہ تربیتی پروگرام بعنوان باوقار روزگارسی ڈی اے مزدور یونین کے مرکزی دفتر میں منعقد ہوا۔جس میں سی ڈی اے مزدوریونین کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یسین،ڈپٹی جنرل سیکرٹری سی ڈی اے مزدور یونین،ماسٹر ٹرینر پی ڈبلیو ایف اسد محمود،ٹرینر عاطف حسین،احمد علی شیرازی،محمد سرفراز ملک کے علاوہ اسلام آباد میٹروپولیٹن کارپوریشن کی مختلف یونین کونسل کی خواتین ومردکونسلرزنے شرکت کی۔

پروگرام میں مزدوروں کی موجودہ صورتحال،سماجی تحفظ کے اداروں اور باوقار روزگار کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا،اس موقع پر سی ڈی اے مزدور یونین کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یسین نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پی ڈبلیو ایف اور ایل او/ ایف ٹی ایف کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے میری درخواست پر اسلام آباد کے بلدیاتی نمائندوں کے لیے تربیتی و آگاہی پروگرام منعقد کیے جس سے یقینی طور پر ہمارے بلدیاتی کونسلرز کو مزدوروں کے مسائل کے متعلق آگاہی حاصل ہوگی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ پاکستان میں محنت کشوں کی تعداد تقریبا 05 کروڑہے لیکن بدقسمتی سے صرف 15 لاکھ مزدور منظم ہیں باقی مزدوروں کے لیے کوئی لیبر قوانین نہیں ہیں۔اورنہ ہی انکو سماجی تحفظ حاصل ہے جسکی وجہ سے وہ بے شمار مسائل کا شکار ہیں۔اسلام آباد جیسے شہر میں کم از کم اجرت جو حکومت نے مقرر کی ہے اسکا نہ ملنا لمحہ فکرہے۔ہمارے ملک میں بے شمار لیبر قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ۔

اور مزدور وں کا معاشی استحصال کیا جا رہا ہے۔اس موقع پر انہوں نے موجودہ حکومت اورخصوصا وزیراعظم پاکستان عمران خان، زلفی بخاری معاون خصوصی برائے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مزدوروں کی بڑھاپا پنشن میں اضافہ کا اعلان کیا۔چوہدری محمد یسین نے حکومت پاکستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ ای او بی آئی سمیت سماجی تحفظ کے اداروں کی دیگر مراعات جو مزدوروں کو ملنی چاہیے اور ان سے متعلقہ قوانین پر مکمل عمل درآمد کروایا جائے انہوں نے کہا کہ ہم بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ ملکر مزدوروں کے لیے جدوجہد کریں گے اور مشترکہ طور پر ایک مہم چلائیں گے تاکہ غیر منعظم مزدوروں کو منعظم کیا جا سکے اور سماجی تحفظ کے اداروں کی مراعات کا دائرہ کا بڑھایا جائے تاکہ ہر مزدور اس سے مفید ہو سکے۔