مظفرآباد کے مختلف علاقوں میں جعلی ڈاکٹروں کی بھرمار ‘ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا سلسلہ جاری

اتوار نومبر 15:10

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 نومبر2018ء) دارلحکومت مظفرآباد کے مختلف علاقوں میں جعلی ڈاکٹروں کی بھرمار ، مڈل فیل ڈاکٹروں نے بھی بڑی بڑی ڈگریوں کی نیم پلیٹ لگا رکھی ہے ، عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا سلسلہ جاری ، لوئر پلیٹ ،سنٹرل پلیٹ،چہلہ بانڈی ، سماں بانڈی ، ٹاہلی منڈی،اپر اڈہ ، نیا محلہ،پرانا کچہری روڈ ، تانگہ اسٹینڈ میں بھرمار ، ضلعی انتظامیہ،محکمہ پولیس نوٹس لیں ۔

تفصیلات کے مطابق مظفرآباد کے مختلف علاقوں میں جہاں گزشتہ دراز سے مختلف مقامات پر رہائشیں اور بلڈنگیں لے کر مختلف ہسپتالوں کھول رکھی ہیں جن میں مڈل فیل ڈاکٹرز بھی بڑی بڑی ڈگریوں کے نام اپنی نیم پلیٹ پر چسپا ں کر عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں دوسری جانب جعلی ڈاکٹروں نے مریضوں کی زندگیاں بھی خطرے میں ڈال دی جن کا مرکز سی ایم ایچ کے اندر اور باہر سمیت مختلف علاقوں میں ڈھیرے ڈال رکھے ہیں ، عوام فیس کے نام پر کمی جبکہ جعلی ادویات فروخت کرنے کیلئے بڑی بڑی بلیں عوام کے ہاتھوں میں تھما دیتے ہیں جس کی وجہ سے مریض تو بے چارہ کم فیس کے چکر میں پھنس جاتا ہے مگر ادویات کے بل کے نام پر لٹ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ دارلحکومت مظفرآ باد کے مختلف علاقوں میں جعلی ڈاکٹروں کی وجہ سے مریض بجائے ٹھیک ہونے کے ہسپتالوں میں پہنچ جاتے ہیں جہاں جعلی ادویات استعمال کرنے کے باعث جب وہ دوسرے بڑے ہسپتالوں میں ریفر کئے جاتے ہیں تو زیادہ تر افراد کی موت واقع ہوجاتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ مظفرآباد کی سب سے بڑی ہسپتال،سی ایم ایچ ہسپتال میں بھی ڈاکٹروں اور ٹریننگ یافتہ عملے کی وجہ سے مریضوں کا بھی برا حال ہے،جہاں گردے کی تکلیف میں اپینڈکس کا آپریشن کیا جاتا ہے جبکہ گلے میں تکلیف ،ناک کے آپریشن مگر وہ بھی کامیاب نہیں ہوتا ڈاکٹروں کی بد تمیزی ، عملے کی ناک چڑی کی وجہ سے مریض بھی خاموشی کا روزہ رکھنا شروع کردیا ہے جبکہ نہ تو ضلعی انتظامیہ نے جعلی ڈاکٹروں کا نوٹس لیا نہ ہی سی ایم ایچ ہسپتال کی انتظامیہ نے اپنے ڈاکٹروں اور عملے کی حرکات پر کنٹرول کرسکے جو کہ سوالیہ نشان ہے ۔

(جاری ہے)

مظفرآباد کی سب سے بڑی ہسپتال سی ایم ایچ جہاں آزادکشمیر بھر کے زیادہ تر لوگ اٹھ مقام ،کیل،شاردہ،لیپہ سے آتے ہیں مگر اُن کی بھی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی کے بعد نام نہاد اور جعلی ڈاکٹروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جہاں اُنہیں اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے ،وزیر صحت نوٹس لیں اور حکومت آزادکشمیر کو بھی خاص کر ہسپتالوں،جعلی ڈاکٹروں اور ادویات کا نوٹس لیتے ہوئے ایسے ہسپتالوں کو فوری طور پر بند کرکے جعلی ڈاکٹروں کے خلاف قانونی کاروائی کرنی چاہیے مگر اب ضرورت اِس امر کی ہے کہ کیا ڈرگ انسپکٹر یا ضلعی انتظامیہ نوٹس لیتی ہے یا پھر خاموشی کا روزہ رکھنے پر اتفا ق ۔

متعلقہ عنوان :