عدالتی احکامات پرسندھ حکومت 5 برس سے تاخیرکا شکار فرانزک لیب قائم کرنے کے لیے اچانک متحرک ہوگئی

ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے کراچی یونیورسٹی اورلمس میں قائم لیب کواپ گریڈ کرنے کے لیے بھی فنڈزفراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا فرانزک لیب بنانے کے منصوبے پردو ارب ساٹھ کروڑ لاگت آئے گی،سپرہائی وے پرفرانزک لیب کے قیام کے لیے 30ایکڑاراضی فراہم کردی گئی

اتوار نومبر 19:10

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 نومبر2018ء) عدالتی احکامات پرسندھ حکومت 5 برس سے تاخیرکا شکار فرانزک لیب قائم کرنے کے لیے اچانک متحرک ہوگئی۔ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے کراچی یونیورسٹی اورلمس میں قائم لیب کواپ گریڈ کرنے کے لیے بھی فنڈزفراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔فرانزک لیب بنانے کے منصوبے پردو ارب ساٹھ کروڑ لاگت آئے گی،سپرہائی وے پرفرانزک لیب کے قیام کے لیے 30ایکڑاراضی فراہم کردی گئی۔

پانچ برس گذرنے کے باوجود سندھ حکومت صوبے میں فرانزک لیب بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے سپریم کورٹ نے مقدمات میں شواہد کی کمی کے باعث ملزمان کی رہائی اور صوبے میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے نمونے صوبے سے باہر لے جانے اور تحقیقات میں طوالت کے پیش نظر سندھ میں ایک برس کی مدت میں جدید فرانزک لیب کا قیام عمل میں لانے کا حکم دیا تھا،لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز میں فرانزک لیبارٹری میں تحقیق کا کام ہوتا ہے مگر جدید آلات پر مشتمل نہ ہونے کی وجہ سے مطلوبہ نتائج نہیں مل سکے جبکہ ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے ایک فارنسیک اور مالیکیولر بائولوجی لیبارٹری کراچی یونیورسٹی میں بھی کام کررہی ہے جوجدید آلات سے لیس نہ ہونے کی بناء پرمطلوبہ نتائج نہیں دے سکی ہے۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں عدالتی حکم پرسندھ حکومت نے فرانزک لیب کے لیے علاوہ کراچی یونیورسٹی اورلمس میں قائم ڈی این اے لیبارٹریز کوبھی اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ چیف سیکریٹری سندھ سید ممتازعلی شاہ کی زیرصدارت اجلاس میں سندھ فارانزک لیبارٹری کے جلد قیام کے لئے پراجیکٹ ماہرین کی خدمات حاصل کرنے اور کرائم سین سے ڈی این اے اور کیمیکل نمونے حاصل کرنے کے لئے پولیس اور ایم ایل او کی ٹریننگ کرانے سمیت دیگراہم امورکوحتمی شکل دی گئی ۔

اجلاس میں سیکریٹری صحت، سیکریٹری داخلہ، وائیس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر اجمل خان، وی سی جامعہ لمس جامشورو ڈاکٹر بیکا رام، چیئرمین سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر جی پی ایم سی، اور دیگر افسران شریک تھے اجلاس کو بتایا گیا کہ جدید فرانزک لیب کے منصوبے کا پی سی ون تیا ر ہے جس کی منظور ی کے بعد سپر ہائی وے ڈی ایچ اے کے علاقے میں 30 ایکڑ زمین پر لیب کا کام ترجیحی بنیادوں پر شروع کردیا جائے گا۔

علاوہ ازیں چیف سیکریٹری سندھ سید ممتازعلی شاہ نے بتایا کہ آئندہ 2 روز میں کراچی یونیورسٹی کو 220 ملین روپے جاری کئے جائیں گے۔واضح رہے کہ سندھ میں فرانزک لیب نہ ہونے کے باعث زیادتی وسنگین نوعیت کے جرائم میں جہاں کوئی عینی شاہد نہیں ہو تا ملزمان کومقدمات میں فائدہ پہنچ رہا ہے اورعدالتوں سے بڑی تعداد میں ملزمان کے بری ہونے پرسندھ کے سرکاری پراسیکوٹرز کی کارگردگی سوالیہ نشان بنی ہوئی تھی جس کی بناء پرسپریم کورٹ نے سندھ حکومت سے پولیس کے تفتیشی نظام کو بہتر بنانے اور دور جدید کی ٹیکنالوجی وشواہد کے حصول کے لیے بہتر سہولتیں پہنچانے کی سفارش کی تھی۔

مشیر اطلاعات سندھ مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ سندھ فرانزک لیب کے لیے ضلع ملیر کراچی میں زمین کی ڈیمارکیشن اور فنڈ کی ایلوکیشن مکمل ہوچکی ہے دو سے ڈھائی سال کی مدت میں سندھ فرانزک لیب اسٹیٹ آف دی آرٹ کی شکل میں سندھ حکومت کا عوام کے لیے نادر تحفہ ہوگی سندھ فرانزک لیب میں دنیا کے جدید آلات اور ٹیکنالوجی ہوگی اور اس لیبارٹری کو آنے والے وقتوں میں اپ گریڈ کرنے اور توسیع کرنے کے انتظامات بھی ہوں گے۔