چوروں اور ڈاکوؤں سے عوام کا پیسہ نکال کر دم لیں گے، فواد چوہدری

سالوں میں خرچ کئے گئے کھربوں روپے کا حساب مانگیں تو جمہوریت خطرے میں پڑجاتی ہے،سعد رفیق کے پاس موٹرسائیکل تک نہیں تھا آج 10۔10’’مرلے ‘‘ کی گاڑیاں موجود ہیں،عوام کے پاس پینے کا صاف پانی تک نہیںِ، وزیر اطلاعات و نشریات کا جہلم میں عوامی اجتماع سے خطاب

اتوار نومبر 19:20

جہلم(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 نومبر2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جب پارلیمنٹ میں جاکر 10سالوں میں خرچ ہونے والے کھربوں روپے کا حساب مانگتا ہوں تو جمہوریت خطرے میں پڑجاتی ہے، اور سیاستدانوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہو جاتی ہے، سعد رفیق کے پاس موٹرسائیکل تک نہیں تھا، آج 10-10’’مرلے ‘‘کی گاڑیاں رکھے ہوئی ہیں، حکومت چور ڈاکوؤں سے قوم کا پیسہ واپس لے کر دم لیں گے،ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے جہلم میں ایک عوامی اجتماعی خطاب کے دوران کیا، انہوں نے کہا کہ ہمارے بچوں کو انگریزی پڑھانے والا استاد نہیں ہے اور سیاستدانوں کے بچے لندن میں پڑھتی ہیں، ہمارے علاقوں میں بنیادی سہولیات، صحت کا نظام، پانی کا نظام بہتر نہیں ہے لیکن سیاستدانوں کے بچوں کو کھانسی آجائے تو وہ علاج کیلئے لندن چلے جاتے ہیں،یہ تمام مسئلہ دیکھ کر ہمارے دکھ تازہ ہو جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر ہم احتساب کے بات کرتے ہیں تو وسائل پر اپنا حق مانگنے کی بات کرتے ہیں، پاکستان کو فلاحی ریاست بننا ہے تو پھر وسائل کی تقسیم برابری سے کرنا ہو گی،فواد چوہدری نے کہا کہ 10 سالوں میں کراچی اورلاہور میں تو ترقی کی گئی لیکن جہلم جیسے پسماندہ علاقوں کو چھوڑ دیا گیا، جہاں پر پینے کا پنی تک نہیں ہے، یہ عوام کے ساتھ کتنے بڑے زیادتی ہے کہ پچھلے سالوں میں ترقی کی مد میں لاہور میں فی کس 70ہزار روپے خرچ کئے گئے، لیکن جنوبی پنجاب کے علاقے میں راجن پور میں فی کس پر 24سو روپے لگائے گئے پھر ایسے ڈاکوؤں کو نا چھوڑنے کا بیان پارلیمنٹ میں دیتا ہوں تو اپوزیشن واک آؤٹ کر جاتے ہیں، اور کیسے کا نام لیے سوال کروں تو اپوزیشن کہتی ہے کہ پارلیمنٹ کو نہیں چلنے دیتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی میں پوچھا کہ 15سو ارب روپے بلوچستان میں کہا گئے وہاں پر کوئٹہ میں ایک ہسپتال تک نہں بنایا گیا کوئی حادثہ ہوتا ہے تو جہازوں پر لوگوں کو کراچی منتقل کیا جاتا ہے، تو پھر اپوزیشن سروں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ یہ کیا ظلم کر دیا اور پھر سے جمہوریت خطرے میں پڑجاتے ہیں، فواد چوہدری نے مزید کہا کہ پاکستان کا فیصلہ کرنے والے لوگوں کو بتاؤ کہ اسطرح پارلیمنٹ نہیں چلے گی، کیونکہ ہم پارلیمنٹ کو قبرستان نہیں بننا چاہتے ہیں جہاں پر خاموشی سے وقت گزارا جائے اور کوئی کسی سے کچھ بھی نہ پوچھے کہ پھچلے 10سالوں میں آیا کھربوں روپے قدر خرچ ہوئے، انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ عام آدمیوں کے نمائندگی نہیں کرے گی تو پھر جمہوریت کس طرح چلی گئی ہمیں کھربوں روپے کا حساب چاہئے اس لیے عمران خان بلدیاتی طاقتور نظام کی بات کرتے ہیں، تاکہ سرکاری پیسے گاؤں کی سطح پر پہنچ سکے، جو کہ محرومیوں کا شکار ہوتے ہیں، فواد چوہدری نے مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سعد رفیق کے پاس سیاست میں آنے سے پہلے سائیکل اور موٹرسائیکل بھی نہیں تھا لیکن آج اس کے پاس 10.10مرلے کے گاڑیاں موجود ہیں، اور جب موصوف سے پوچھیں گے تو جمہوریت خطرے میں پڑجائے گی لیکن حکومت نے بھی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ہم چوروں اور ڈاکوؤں سے پیسے واپس لے کر ہی دم لیں گے

(جاری ہے)

۔