سپریم کورٹ کا حکم سندھ حکومت کے لیے چیلنج سے کم نہیں، حکومت کو درکار 360 ایکڑ زمین میں سے 70 ایکڑ پر قبضہ

اتوار نومبر 19:21

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 نومبر2018ء) سپریم کورٹ کا حکم سندھ حکومت کے لیے چیلنج سے کم نہیں، کیونکہ حکومت کو درکار 360 ایکڑ زمین میں سے 70 ایکڑ پر قبضہ ہے، اگر حکومت عدالتی احکامات پر عمل کرپائی تو عوام بھی ٹرام پرسفر کرسکیں گے۔1962 میں روشنیوں کے شہر کراچی میں شروع ہونے والی 140 کلو میٹر طویل سرکلر ریلوے شہریوں کیلئے بہترین سفری سہولت تھی، 1969 میں 23 نئے اسٹیشنز بنائے گئے جہاں سے یومیہ 140 ٹرینیں لاکھوں شہریوں کو منزل تک پہنچاتی تھیں۔

1990 میں سرکلر ریلوے کی آمدن میں واضح کمی آنا شروع ہوگئی۔ 1994 میں مالی بحران کئی ٹرینوں کی بندش کا سبب بنا اور پھر1999 میں کراچی سرکلر ریلوے کو مکمل طور پر بند کردیا گیا۔تقریباً 11 سال بعد 2010 میں ایک بار پھر سرکلر ریلوے کی بحالی کا خواب دیکھا گیا۔

(جاری ہے)

اِس دوران جاپانی کمپنی جائیکا نے منصوبے میں دلچسپی کا اظہار کیا، جس کیلئے دو سال سروے ہوئے لیکن ٹریک پر موجود تجاوزاتراہ میں رکاوٹ بنی رہیں۔

بالآخر کمپنی جائیکا خود ہی پیچھے ہٹ گئی۔اب سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد پھر اٴْمید روشن ہوئی، لیکن حکومت سندھ کو سرکلر ریلوے منصوبے کیلئے 360 ایکڑ زمین درکار ہے، جس میں سے 70 ایکڑ پر قبضہ ہے۔ جہاں 4500 کے قریب مکانات اور 3000 دیگر تعمیرات موجود ہیں۔تجاوزات کیخلاف حالیہ آپریشن سے لگتا تو ہے کہ شہری ایک بار پھر سرکلر ریلوے کے سرکل میں آسکیں گے۔#