کوئی بھی نظام اس وقت تک نہیں چل سکتا جب تک اس کی گورننس کا ڈھانچہ کام نہیں کرے گا،جس معاشرے میں گورننس فیل ہوجاتی ہے وہاں حکومت اور نظام کام نہیں کرتے، تبدیلی کے اس عمل میں عوام بالخصوص نوجوانوں کا بڑا کردار ہوگا

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا تقریب سے خطاب

اتوار نومبر 20:50

کوئٹہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 نومبر2018ء) وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ کوئی بھی نظام اس وقت تک نہیں چل سکتا جب تک اس کی گورننس کا ڈھانچہ کام نہیں کرے گا۔ جس معاشرے میں گورننس فیل ہوجاتی ہے وہاں حکومت اور نظام کام نہیں کرتے۔ حکومت بلوچستان ہمیشہ سے کارکردگی ، استعداد کار، گورننس اور نظام کے حوالے سے تنقید کی زد میں رہی ہے اور اس حوالے سے پائے جانے والا تاثر حقیقت پر مبنی بھی ہے، مخلوط صوبائی حکومت محسوس کرتی ہے کہ گورننس کی بہتری کے ذریعہ نظام میں تبدیلی لانا ناگزیر ہوچکا ہے، تبدیلی کے اس عمل میں عوام بالخصوص نوجوانوں کا بڑا کردار ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت صوبے کے مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلباء اور طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی بھی کاروبار، ادارے اور حکومت کو چلانے کے لئے بہترین گورننس کا قیام ضروری ہے، لوگ مسائل کے حل کے لئے نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں، گورننس نہ ہونے کی وجہ سے اربوں اور کھربوں روپے کی مالیت کے منصوبوں کی افادیت عوام تک نہیں پہنچی، وسائل عوام کے ہیں اور عوام نے خود بھی فیصلہ کرنا اور کھڑے ہونا ہے کہ ان کے پیسے کا ضیاع نہ ہوتبھی صحیح معنوں میں تبدیلی آسکتی ہے، وزیراعلیٰ نے کہاکہ اسکیمیں صرف اس لئے نہیں بننی چاہئے کہ کسی فرد یا چند افراد کو اس کا فائدہ پہنچے بلکہ انہیں اس بنیاد پر بنانا چاہئے کہ ان کا فائدہ عوام کو پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ ہم گورننس کو بہتر بناکر عوام کے پیسے عوام پر خرچ کریں گے کیونکہ اب وقت آگیا کہ ہم فیصلہ کریں کہ دستیاب فنڈز کا استعمال عوام کے لئے ہو، وزیراعلیٰ نے کہا کہ دنیا کے ہر ملک کے دشمن ہوتے ہیں جو نہیں چاہتے کہ وہ ملک ترقی کرے لیکن یہ ملک بہتر حکمت عملی کے ذریعہ اپنے دشمنوں کا کامیابی سے مقابلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان کے بھی بہت سے اندرونی اور بیرونی دشمن ہیں جو نہیں چاہتے کہ پاکستان اور بلوچستان ترقی کرے۔

یہ دشمن ہمیں مذہب، فرقے اور قومیت کی بنیاد پر لڑانے اور ہم میں تفرقہ ڈالنے کی سازش کررہے ہیں۔ ہمیں مل کر منفی سوچ کی حامل ان قوتوں اور عناصر کاراستہ روک کر انہیں اپنے معاشرے سے نکالنا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم سب پاکستانی ہیں اور مختلف شعبوں سے منسلک ہیں، پاکستان ہماری شناخت ہے جس پر ہمیں فخر ہے، اس حوالے سے ایک دوسرے پر تنقید نہیں ہونی چاہئے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں اپنی زبان، قومیت اور ثقافت پر بھی فخر ہونا چاہئے جو دنیا بھر میں ہماری پہچان ہے، جوعناصر زبان اور قومیت کی بنیاد پر نوجوان نسل کو بہکا تے ہیں ان کی بھی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے، جن لوگوں نے ماضی میں نوجوانوں اور عوام کو بہکاکر پہاڑوں پر بھیجا ان میں بہت سے ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں اور اپنے اس عمل پر پچھتاوے کا اظہار کرتے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ پہاڑوں سے اتر کر ہتھیار ڈالنے والے بھی یہ محسوس کررہے ہیں کہ ان کی زندگی کے بہترین سال ضائع ہوئے اور اب وہ کس سے حساب مانگیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں ان کے اس تجربہ سے سبق سیکھنا ہوگا اور غلطی کہاں ہوئی اس کا جائزہ لے کر اسے ٹھیک کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان کچھ بننا اورزندگی کا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے بہتر مستقبل کے صحیح راستے اور سمت کا انتخاب کرنا ہوگا اور ہر قسم کے منفی پروپیگنڈے اور بہکاوے میں آنے سے خود کو محفوظ رکھنا ہوگا، کیونکہ اگر تعلیمی ادارے ہڑتال کی وجہ سے بند رہیں گے تو طلباء کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا ،انہوں نے کہا کہ ہمارے طلباء وطالبات کو جو مواقع آج حاصل ہیں ماضی میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا لہٰذا طلبا ان مواقعوں کا بھرپور فائدہ اٹھائیں، اور ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال کے ذریعہ اپنے علم اور کارکردگی میں اضافہ اور اپنی کردار سازی کریں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ طلباء کا مستقبل ان کے ہاتھ میں ہے وہ اپنے آپ کو انفرادی طور پر کسی سے کم نہیں سمجھیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو اپنی اور معاشرے کی بہتری کے لئے بروئے کار لائیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم آنے والے سالوں میں بلوچستان کو وہ سب کچھ دینا چاہتے ہیں جس کا یہ حقدار ہے، وزیراعلیٰ نے کہ ہمیں ماضی سے باہر آنا اور غلطیوں سے سبق سیکھناہوگا، انہوں نے کہا کہ سماجی احتساب سب سے اہم ہے جو احتساب کے ہر ادارے اور عدالتوں سے بڑھ کر ہے، نوجوان نسل ہماری کارکردگی پر نظر رکھتے ہوئے ہماری کوتاہیوں اور غلطیوں کی نشاندہی کرے تاکہ ہمیں اپنی سمت درست رکھنے کے لئے رہنمائی ملتی رہے، انہوں نے کہا کہ لیپ ٹاپ ایک جدید ٹول ہے جو طلباوطالبات کو معلومات تک رسائی کے ذریعہ اپنے مستقبل کے تعین کی سہولت فراہم کرتا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ لیپ ٹاپ اسکیم ان منصوبوں سے بہتر افادیت رکھتی ہے جن پر خطیر فنڈز خرچ ہوئے لیکن ان کی افادیت لوگوں تک نہیں پہنچی، انہوں نے کہا کہ کوئی بھی منصوبہ بیشک چھوٹا ہی کیوں نہ ہو لیکن اگر عوام اس سے مستفید ہوتے ہیں تو وہ افادیت نہ رکھنے والے بڑے منصوبوں سے زیادہ بہتر ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں ترقیاتی فنڈز کے غلط استعمال اور نامکمل ترقیاتی منصوبوں کا ہمیں سیاسی ومعاشی نقصان بھی پہنچ رہا ہے انہوں نے لسبیلہ کے نامکمل پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ادارہ مقررہ وقت پر مکمل ہوجاتا تو اس سے اب تک کئی بچے ہنر سیکھ کر روزگار حاصل کررہے ہوتے، انہوں نے کہا کہ 15سال پہلے کوئٹہ گریٹر واٹر اسکیم کا آغاز ہوا جس پر اربوں روپے کے فنڈز کا ضیاع کیا گیا اگر اس منصوبے کا مقصد صرف پانی کی فراہمی تھا تو آج اس کی مشینری بند نہ پڑی ہوتی اور نہ ہی کوئٹہ کے شہری پانی کو ترس رہے ہوتے، ایسے بہت سے اور منصوبے بھی یا تو بند پڑے ہیں اور یا پھر نامکمل چھوڑدیئے گئے ہیں۔

اسی طرح بارہ سال قبل نصب کیا جانے والا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی غیر فعال ہے جسے اب موجودہ حکومت فعال کررہی ہے جبکہ افادیت کے حامل دیگر نامکمل منصوبوں کو بھی مکمل کیا جائے گا جس کے لئے فنڈز کا اجراء شروع کردیا گیا ہے، تقریب سے صوبائی وزراء سردار عبدالرحمن کھیتران، ملک نعیم بازئی، اراکین صوبائی اسمبلی بشریٰ رند اور مبین خلجی نے بھی خطاب کیا، صوبائی وزیرنورمحمد دمڑ، رکن صوبائی اسمبلی محترمہ ماہ جبین،وزیراعلیٰ کے معاونین خصوصی کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی، رامین محمد حسنی، حسنین ہاشمی اور اعلیٰ حکام بھی تقریب میں موجود تھے، بعدازاں وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء نے طلباء وطالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کئے، تقریب کے اختتام پر وزیراعلیٰ طلباء وطالبات میں گھل مل گئے اور ان سے ان کی تعلیم اور مشاغل کے بارے میں دریافت کیا۔