ٹرمپ کی پاکستانی قربانیوں کےاعتراف کی بجائے تنقید

پاکستان نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا، پاکستان کو سالانہ ایک ارب 30 کروڑڈالر سے زیادہ دیتے تھے، لیکن اسامہ بن لادن وہاں رہتا تھا، ہم نے اس لیے پاکستان کی امداد بند کردی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انٹرویو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار نومبر 23:10

لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔18 نومبر 2018ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنے کی بجائے تنقید کی بوچھاڑ کردی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا، ہم پاکستان کو سالانہ ایک ارب 30 کروڑڈالر سے زیادہ دیتے تھے، لیکن اسامہ بن لادن وہاں رہتا تھا، ہم نے اس لیے پاکستان کی امداد بند کردی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کی قربانیوں کی تعریف کی بجائے احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے امریکی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستان کی قربانیوں کی بجائے تنقید کی بوچھاڑ کردی۔ ٹرمپ انٹرویو کے دوران سابق امریکی صدر اوباما اور وزیر خارجہ ہیلی کلنٹن پرتنقید کرتے ہوئے پاکستان کا ذکر بھی لے آئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا،۔ ہم پاکستان کو سالانہ ایک ارب 30 کروڑڈالر سے زیادہ دیتے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ہم پاکستان کوسپورٹ کررہے تھے اوراسامہ بن لادن وہاں رہتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان کی یہ امداد اس لیے بند کی کیوںکہ پاکستان نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔