اسرائیل کا گولان کی پہاڑیوںپر قبضے کے حق میں ووٹ دینے پرامریکا کا خیر مقدم

صدر ٹرمپ اور سفیر نکی ہیلی کا شکرگزار ہوں جنہوں نے ہماری پالیسی کے تحت ووٹ دیا. نیتن یاہو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر نومبر 12:08

اسرائیل کا گولان کی پہاڑیوںپر قبضے کے حق میں ووٹ دینے پرامریکا کا خیر ..
یروشلم(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔19 نومبر۔2018ء) اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی گولان کی پہاڑیوںپر قبضے سے متعلق قرارداد مذمت کے خلاف پہلی مرتبہ امریکا کی جانب سے ووٹ دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے. اسرائیلی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سفیر نکی ہیلی کا اس اہم معاملے پر شکرگزار ہوں جو میری پالیسی کے مطابق صرف ووٹ دیا.

انہوں نے کہا کہ اسرائیل ہمیشہ گولان کی پہاڑیوں پر رہے گا اور گولان کی پہاڑیاں ہمیشہ ہمارے ہاتھ میں رہیں گی. واضح رہے کہ امریکا نے اپنے اجتناب کرنے کے عمل کو چھوڑ کر اقوام متحدہ کی قرار داد کے خلاف ووٹ دیا.

(جاری ہے)

جنرل اسمبلی کمیٹی میں ناقبل پابند قرارداد کے متن کو 151 ووٹ ملے جبکہ 2 ووٹ مخالفت میں آئے، امریکا اور اسرائیل صرف واحد 2 ممالک تھے جنہوں نے اس اقدام کی مخالفت کی جبکہ 14 ممالک نے ووٹ دینے سے اجتناب کیا.

امریکی سفیر نکی ہیلی نے اس قرارداد کو بے کار اور اسرائیل کے خلاف جانبدارانہ قرار دیا اور اس اقدام کی مخالفت کے لیے شام میں ایران کے فوجی کردار پر خدشات کا اظہار کیا. امریکا کی جانب سے ووٹ کا یہ عمل ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیلی کی حمایت میں اٹھائے اقدامات کی حمایت کا تسلسل ہے.رواں سال ستمبر میں اسرائیل کے لیے امریکی سفیر ڈیوڈ فرائڈمین نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ گولان کی پہاڑیاں ہمیشہ اسرائیل کے کنٹرول میں رہے گا.

1967 کی جنگ میں اسرائیل نے شام کی ملکیت گولان کی پہاڑیوں کے بہت سے حصے پر قبضہ کرلیا تھا، تاہم بعد ازاں بین الاقوامی برادری کی جانب سے اس اقدام کو کبھی نہیں تسلیم کیا گیا. اقوام متحدہ کی قرارداد میں گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا گیا اور مطالبہ کیا کہ اسرائیل اپنے اس اقدام کو ختم کرے.