بھارتی حکومت کا شہروں کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ، حکومت تنقید کی زد میں آگئی

کامیڈین واسو نے حکومتی فیصلے کو آڑے ہاتھوں لے لیا، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر نومبر 13:55

بھارتی حکومت کا شہروں کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ، حکومت تنقید کی زد ..
بھارت (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19 نومبر 2018ء) : مودی سرکار نے بھارت کے کئی شہروں کے نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد سے حکومت کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔بھارتی ریاست اترپردیش کے تاریخی شہر الہٰ باد اورفیض آباد کے نام تبدیل کرنے کے بعد اب آگرہ کا نام بھی تبدیل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ایک بھارتی کامیڈین واسو پرملانی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے مضحکہ خیز انداز میں بھارتی حکومت کے اس فیصلے کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

ویڈیو پیغام میں واسو نے کہا کہ بھارتی حکومت نے الٰہ آباد کا نام پریاگ راج اور فیض آباد کا نام ایودھیا رکھ دیا ہے۔ اب بھارتی حکومت تاج محل کا نام تبدیل کر کے راج محل کا نام دینے پر غور کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

آگرہ کو بھی اگروال کے نام سے جانا جائے گا کیونکہ یہاں اگروال رہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کی یہ بہت اچھی اور ترقی پسند سوچ ہے۔ میرے بھارت سے درخواست ہے کہ بھارت میں صرف نام ہی تبدیل نہ کیے جائیں بلکہ رویوں میں بھی تبدیلی لائی جائے۔

اس معاملے میں میرے طرف سے کچھ تجاویز ہیں ، میرے مطابق جو سب بھارتی سنسکرتی اور ثقافت میں نہ ہو ، ہمیں وہ سب کچھ چھوڑ دینا چاہئیے۔ دیوالی میں ''علی'' ہے۔ممبئی دو لفظوں ''مم'' اور ''بائی'' سے مل کر بنا ہے۔بائی ایک مہاراشٹری زبان کا لفظ ہے یہ ٹھیک ہے لیکن ''مم'' انگریزی زبان کا لفظ ہے لہٰذا ہمیں اسے بھی تبدیل کردینا چاہئیے۔ احمد آباد میں ''احمد'' آتا ہے یہ ہمیں منظور نہیں ہے۔

بھارتی حکومت پر تمسخرانہ تنقید کرتے ہوئے واسو نے کہا کہ گجرات میں انگریزی لفظ Rat آتا ہے جس کا مطلب ہے بڑا چوہا، یہ بھی ہمیں منظور نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ائیر فورس پر بھی بند کردینا چاہئیے، صرف پُشپک ویمان کا استعمال ہونا چاہئیے۔ ہتھیار کے نام پر استعمال ہونے والے بم ، میزائلز اور بندوقیں بھارت کی نہیں ہیں ، ہمیں ان کا استعمال نہیں کرنا چاہئیے۔

اور کرکٹ تو بالکل نہیں ہونی چاہئیے ، کرکٹ کی جگہ پانچ روزہ یا ایک روزہ یوگا میچز ہونے چاہئیں۔گاڑیاں، ریل گاڑیاں اور ہوائی جہاز ، یہ سب کچھ بھی ہماری ثقافت کے خلاف ہے،یہاں تک کہ پکی سڑکیں بھی ہماری ثقافت میں نہیں ہیں۔ ہماری ثقافت میں کچی سڑکیں ہوتی تھیں، جس پر بیل گاڑیاں چلتی تھیں۔ واسو نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی اور موبائل فون سمیت سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال کرنے کی بجائے ہمیں اپنی پُرانی روایات کے تحت پیغام رسانی کے لیے کبوتروں کا استعمال کرنا چاہئیے۔

یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ہمارے سیاستدان مائیک کا استعمال کرتے ہوئے خطاب کرتے ہیں،مائیک بھی ہماری سنسکرتی کا حصہ نہیں ہے، یہاں تک کہ بجلی بھی ہماری سنسکرتی کے خلاف ہے۔ اگر آپ نے خطاب کرنا ہے تو اپنی آواز کا استعمال کرتے ہوئے خطاب کریں۔ واسو نے حکومتی فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب ہماری گاؤ ماتا ایک جھونپڑے میں رہتی ہیں تو کیا اراکین پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے تمام اجلاس بھی ایک جھونپڑے میں نہیں ہو سکتے؟ پٹرول بھی بھارت سے نہیں آتا، عرب ممالک سے آتا ہے،یہ مسلمان پٹرول ہے اور میرے مطابق یہ پاکستان کی بھارت کے خلاف ایک چال ہے۔

واسو نے اس ویڈیو میں حکومت کے اس فیصلے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ پھر تو آپ سب عینک کا بھی استعمال نہ کریں اور آپ کو بھگوان رام نے جتنی بھی نظر دی ہے صرف اُسی سے دیکھیں، ویڈیو میں واسو نے مزید کہا کہ ہم جو پیاز ،آلو کھاتے ہیں یہ سب بھی بھارت کا نہیں ہے،یہ ہماری سنسکرتی میں تھا ہی نہیں،کوک پیپسی ، چائے اور کافی بھی ہماری سنسکرتی میں نہیں ہے،ان پر پابندی عائد کر دی جائے ۔

ویڈیو کے آخر میں واسو نے کہا کہ میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ تھوڑا کام نہ کریں اور شہروں کے نام تبدیل کرنے پر ہی اکتفا نہ کریں،جو جو چیز بھارتی سنسکرتی کے خلاف ہے اس سب کو مسترد کیا جائے۔ واسو کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کو آپ بھی ملاحظہ کیجئیے:

واسو کی اس ویڈیوکو سوشل میڈیا پر کافی پذیرائی ملی۔

سوشل میڈیا صارفین نے بھی حکومتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بھارتی حکومت تعمیراتی کاموں پر توجہ دینے کی بجائے شہروں اور جگہوں کے نام تبدیل کرنے میں لگی ہے، اگر ایسا ہے تو ہھر بھارت کو درآمدات بھی نہیں کرنی چاہئیں اور اپنی ہی پیداوار پر گزارا کرنا چاہئیے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پہلے چند شہروں کے نام تبدیل کئے جا رہے تھے لیکن اب  ایسا لگتا ہے کہ عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹا کر جان بُوجھ کر تمام شہروں کے ناموں کی تبدیلی کی جانب مبذول کروائی جا رہی ہے۔