حکومت ملک سے پولیو کے خاتمے کے لئے پٴْر عزم ہے، پاکستان کو پولیو سے پاک ملک بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی، وفاقی وزیرصحت محمد عامر کیانی کا جائیکا اور یونیسف کی جانب سے امداد کی دستاویزات پر دستخط کرنے کی تقریب سے خطاب

پیر نومبر 17:38

حکومت ملک سے پولیو کے خاتمے کے لئے پٴْر عزم ہے، پاکستان کو پولیو سے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 نومبر2018ء) وفاقی وزیرصحت محمد عامر کیانی نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت ملک سے پولیو کے خاتمے کے لئے پٴْر عزم ہے، پولیو کا خاتمہ ان کی وزارت کی ترجیحات میں شامل ہے اور پاکستان کو پولیو سے پاک ملک بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیرکو یہاں جاپان حکومت، جاپان کی بین الاقوامی تعاون کی ایجنسی (JICA) اور یونیسف کی جانب سے امداد کی فراہمی کے سلسلہ میں دستاویزات پر دستخط کرنے کی تقریب میں کیا۔

انہوں نے اس موقع پر جاپان کی حکومت اور دیگر شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا جن کی کاوشوں سے پاکستان پولیو کے خاتمے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جاپانی حکومت پولیو ویکسین کی خریداری کے لئے پاکستان کو 510 ملین جاپانی ین کی امداد فراہم کرے گی، یہ رقم اس 2018-19 ء کے دوران اس وقت استعمال میں لائی جائے گی جب پولیو وائرس قدرے سست ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ اس موقع پر دستاویز پر جاپان حکومت، جاپان کی بین الاقوامی تعاون کی ایجنسی (جائیکا) اور یونیسف نے دستخط کرتے ہوئے دستاویز کا باہمی تبادلہ کیا۔ جاپان کی حکومت کے عزم کا اعتراف کرتے ہوئے پولیو کے تدارک کے لئے وزیرِ اعظم کے فوکل پرسن بابر بن عطا نے کہا کہ کئی برسوں سے جاپان کی حکومت اورعوام ہمارے ساتھ ہر مشکل وقت میں کھڑے رہے ہیں۔

پاکستان میں انسدادِ پولیو کا پروگرام اس وقت دنیا بھر میں صحتِ عامہ کی خدمات فراہم کرنے والے اقدامات میں بہترین اقدام تسلیم کیا جاتا ہے۔ ہمیں پولیو پروگرام کی اب تک حاصل کردہ کامیابیوں پر فخر ہے اور ہم بہت جلد ملک میں پولیو وائرس کی گردش کو روکنے کیلئے خواہاں ہیں۔ میں اس موقع پر جاپان کی حکومت، عوام اور دیگر تمام معاون اداروں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جن کے تعاون نے ہمیں گزشتہ چند سال کے دوران اس مقام پر پہنچایا جہاں آج ہم موجود ہیں۔

اس موقع پر پاکستان میں جاپان کے سفیر اور مقتدرِ اعلیٰ تاکاشی کٴْرائی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیو دراصل صحت عامہ کا ایک عالمگیر مسئلہ ہے اور انسان کو معذوری سے دوچار کرنے والی اس بیماری کو صرف ویکسین کی مدد سے روکا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے کے لئے جاپان کی امداد جاری ہے اور مجھے اٴْمید ہے کہ بہت جلد ہم پولیو سے پاک پاکستان کی اٴْس منزل تک پہنچ جائیں گے جو ہمیں بے حد عزیز ہے۔

پاکستان میں جاپان کی بین الاقوامی تعاون کی ایجنسی کے نمائندہ یاسوہیرو ٹوجو نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پولیو کے کیسز کی انتہائی کم تعداد پاکستان کے پولیو کے خاتمے کے عزم کی آئینہ دار ہے۔ ہمیں اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ ہم پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے کی ان قابلِ ستائش کاوشوں اور سرگرمیوں کا حصہ ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ مزید پولیو ویکسین کے حصول سے پاکستان کو پولیو کے خاتمے کی منزل کے حصول میں مدد ملے گی۔

پاکستان میں یونیسف کی ڈپٹی نمائندہ مس کرسٹین منڈیٹ نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جاپان کی طرف سے یہ امداد اس وقت فراہم کی جارہی ہے جب پاکستان میں پولیو وائرس کی گردش کو روکنے کے لئے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں۔ مجھے اعتماد ہے کہ حکومتِ پاکستان اور دیگر شراکت داروں کی مسلسل حمایت سے ہم سب بہت جلد پولیو وائرس کے مکمل خاتمے میں کامیاب ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پولیو سے ایسے پاک کرنے کی کوشش کہ یہاں پولیو وائرس بچوں کی زندگیاں کبھی تباہ نہ کرسکے ایک قابل تحسین امر ہے۔ یہ کامیابی بہتر منصوبہ سازی کی حامل اعلیٰ معیار کی مہمات کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے جس کے ذریعے پولیو وائرس کے بچوں تک پہنچنے اور حملہ آور ہونے سے پہلے ان تک پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پہنچائی جا رہی ہے۔

گزشتہ چار سال کے دوران پاکستان پولیو کے خاتمے کی منزل کی طرف تیزی سے پیش قدمی کررہا ہے۔ یہاں 2014 میں پولیو کیسز کی تعداد 306 تھی جو کم ہوتے ہوئے 2015 میں 54 جبکہ 2016 میں 20 اور 2017 میں آٹھ تک رہ گئی۔ 2018 میں اب تک پولیو کے آٹھ کیس سامنے آئے ہیں۔ بچوں کو کئی بار پولیو ویکسین پلانے کا مقصد ہر انفرادی بچے کے ساتھ ساتھ سماج میں موجود تمام بچوں کو پولیو سے بچانا اور آبادی میں پولیو وائرس کے خلاف معدافت کو قائم رکھنا ہے تاکہ پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔

پولیو کے خاتمے کے قومی ہنگامی لائحہ عمل کے تحت انسدادِ پولیو کے پروگرام نے سال 2018-19 ئکے اس موسم کے دوران کہ جب پولیو وائرس کی منتقلی کا عمل سست ہوتا ہے نو قومی اور علاقائی سطح کی مہمات کی منصوبہ بندی کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ منتخب علاقوں میں مدافعاتی خلا کو پر کرنے کیلئے عبوری اور مستقل منتقلی کے مقامات پر بھی پولیو ویکسینیشن کی کاوشیں مسلسل جاری ہیں۔

پولیو وائرس کے خلاف یہ جارحانہ منصوبہ بندی مطلوبہ سرگرمیوں کے دوران او پی وی کی طلب میں اضافے کا باعث بنی ہے جس کی رسد جاپان کی موجودہ امداد سے ممکن ہوگی اور یہ امداد پولیو وائرس کے خلاف اس جارحانہ اقدام کو ممکن بنائے گی۔ جاپان کی حکومت 1996ء سے پاکستان سے پولیو کے خاتمے کے لئے مسلسل تعاون کررہی ہے۔ جاپان اس وقت تک 24,483 ملین جاپانی ین (تقریباً 225.12 ملین امریکی ڈالرز) کی امداد اور قرض فراہم کرچکا۔