وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس

آبادی میں تیزی سے اضافہ کے مسئلہ سے موثر انداز میں نبرد آزما ہونے کے لئے قومی سطح پر وزیراعظم جبکہ صوبائی سطحوں پر متعلقہ وزرائے اعلیٰ کی قیادت میں قومی اور صوبائی ٹاسک فورسز تشکیل دینے کا فیصلہ ،قابل تجدید توانائی کے استعمال اور ملک میں کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے عمل کو مزید بہتر بنانے پر بھرپور توجہ مرکوز کرنے پر مکمل اتفاق

پیر نومبر 20:06

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 نومبر2018ء) مشترکہ مفادات کونسل نے آبادی میں تیزی سے اضافہ کے مسئلہ سے موثر انداز میں نبرد آزما ہونے کے لئے قومی سطح پر وزیراعظم جبکہ صوبائی سطحوں پر متعلقہ وزرائے اعلیٰ کی قیادت میں قومی اور صوبائی ٹاسک فورسز تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ قابل تجدید توانائی کے استعمال اور ملک میں کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے عمل کو مزید بہتر بنانے پر بھرپور توجہ مرکوز کرنے پر مکمل اتفاق پایا گیا۔

مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس پیر کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر برائے بین الصوبائی ہم آہنگی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر قانون و انصاف محمد فروغ نسیم، وزیر نجکاری محمد میاں سومرو، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیر اعلی سندھ مراد علی، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان، وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و صنعت عبدالرزاق دائود، وفاقی و صوبائی سیکرٹریز اور سینئر حکام نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اجلاس میں ملک کی آبادی میں تیزی سے اضافہ کے مسئلہ پر غور کیا گیا جو اس وقت 2.4 فیصد سالانہ کی شرح اضافہ کے ساتھ 20 کروڑ 78 لاکھ ہے۔ اس ضمن میں قومی سطح پر وزیراعظم جبکہ صوبائی سطحوں پر متعلقہ وزرائے اعلیٰ کی سربراہی میں قومی اور صوبائی ٹاسک فورسز تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ٹاسک فورسز کے قیام کا عمل 48 گھنٹوں میں مکمل کیا جائے گا۔ قومی اور صوبائی سطحوں پر تشکیل پانے والی ٹاسک فورسز قبل ازیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات پر قائم ہونے والی ٹاسک فورس کی سفارشات پر غور کریں گی اور مشترکہ مفادات کونسل کو جامع لائحہ عمل پیش کریں گی جس میں لائحہ عمل پر آئندہ کی عملدرآمدی حکمت عملی، مالیاتی پہلوئوں اور جامع پاپولیشن کنٹرول پروگرام کی کامیابی کے لئے معاشرے کے تمام طبقات کی حمایت حاصل کرنے سے متعلق دیگر امور کو مدنظر رکھا جائے گا۔

اجلاس میں دو آر ایل این جی پلانٹس نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ کی ملکیت 1223 میگاواٹ کے بلوکی اور 1230 میگاواٹ کے حویلی بہادر شاہ کو جلد عملدرآمد کے لئے نجکاری پروگرام کی فعال فہرست میں شامل کرنے کی تجویز کی اصولی منظوری دی گئی۔ مشترکہ مفادات کونسل نے موجودہ انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے پر متفقہ طور پر زور دیا۔ شرکاء میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور ملکی برآمدی صلاحیت سے استفادہ کرتے ہوئے صنعت کے فروغ کے لئے ملک میں کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے عمل کو مزید بہتر بنانے پر وسیع تر توجہ مرکوز کرنے پر مکمل اتفاق پایا گیا۔