صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ پر عمران خان کا سخت رد عمل ،ْ ریکارڈ درست کر نے کی ضرورت ہے ،ْ وزیر اعظم

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 75ہزار جانیں قربان کیں ،ْ 123ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھایا ،ْعمران خان نائن الیون حملوں میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا لیکن دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ،ْ امریکہ نے صرف 20ارب ڈالر کی معمولی امداد فراہم کی ،ْ سوشل میڈیا پر بیان

پیر نومبر 20:36

صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ پر عمران خان کا سخت رد عمل ،ْ ریکارڈ درست کر نے کی ضرورت ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 نومبر2018ء) وزیر اعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف ٹوئٹ پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نائن الیون حملوں میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا لیکن دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ،ْ75ہزار جانیں قربان کیں ،ْ 123ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھایا ،ْ امریکہ نے صرف 20ارب ڈالر کی معمولی امداد فراہم کی۔

پیر کو سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں وزیر اعظم عمران خان نے امریکی صدر کے پاکستان کے خلاف ٹوئٹ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ اس حوالے سے ریکارڈ درست کر نے کی ضرورت ہے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ نائن الیون حملوں میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا لیکن پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ۔

(جاری ہے)

وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان نے اس جنگ میں 75ہزار جانیں قربان کیں اور معیشت کو123ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ۔

امریکہ کی طرف سے صرف20ارب ڈالرکی معمولی امداد فراہم کی گئی ۔عمران خان نے کہاکہ ہمارے قبائلی علاقے تباہ ہوگئے اور کئی ملین افراد کو بے گھر ہونا پڑا ۔دہشتگردی کے خلاف جنگ نے عام پاکستانی شہریوں کی زندگی پر انتہائی سخت اثرات مرتب کئے ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان نے زمینی اور فضائی راستے فراہم کئے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ کیا مسٹر ٹرمپ کسی اور اتحادی کا نام بتا سکتے ہیں جس نے اتنی قربانیاں دی ہوں ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اپنی ناکامیوں پر پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے امریکہ کو اس بات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے کہ ایک لاکھ چالیس ہزار نیٹو فوجیوں اور ڈھائی لاکھ افغان فوجیوں کی موجودگی اور مبینہ طورپر ایک ٹریلین ڈالر افغان جنگ پر خرچ کر نے کے باوجود طالبان پہلے کی نسبت آج کیوں زیادہ مضبوط ہیں ۔