وزیر اعظم عمران خان کی زندگی کا سب سے بڑا یوٹرن

1994 میں زندگی نامہ ہفت روزہ میں انٹرویو دیتے ہوئے سیاست میں ںہ آنے کا اعلان کیا تو 2 سال بعد 1996 میں یوٹرن لے کر سیاست میں انٹری ڈال دی

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس پیر نومبر 23:47

وزیر اعظم عمران خان کی زندگی کا سب سے بڑا یوٹرن
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-19 نومبر 2018ء) :وزیر اعظم عمران خان نے 1994 میں زندگی نامہ ہفت روزہ میں انٹرویو دیتے ہوئے سیاست میں ںہ آنے کا اعلان کیا تو 2 سال بعد 1996 میں یوٹرن لے کر سیاست میں انٹری کی جس کے 22 سالوں نے پاکستان کا سیاسی منظر نامہ بدل دیا۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے 3 روز قبل یوٹرن کے حوالے سے بیان دیا۔جس کے باعث وہ شدید تنقید میں بھی ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے یوٹرن سے متعلق کہا تھا کہ انہوں نے یوٹرن کے سوال پر کہا کہ نوازشریف نے عدالت میں یوٹرن نہیں لیا بلکہ جھوٹ بولا۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کریں گے۔نپولین اور ہٹلر نے یوٹرن نہ لے کرتاریخی شکست کھائی۔ حالات کے مطابق یوٹرن نہ لینے والا کبھی اچھا لیڈر نہیں بن سکتا۔

(جاری ہے)

جو یوٹرن لینا نہ جانتا ہوں اس سے بڑا بیوقوف کوئی نہیں ہے۔

اس بیان کے بعد انہیں ایک جانب جہاں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے وہیں ان کے حامی اس بیان کو غلط نہیں بلکہ مثبت معنوں میں لے رہے ہیں۔تاہم تاحال ان کے اس بیان پر ردعمل سامنے آ رہا ہے۔خواجہ آصف نے یوٹرن والے بیان پر ردعمل دیا۔انہوں ٹوئیٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان یو ٹرن والے بیان پر بھی یو ٹرن لیں گے،عمرا ن خان کے یو ٹرن کا انتظار فرمائیں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے وزیر اعظم کے یوٹرن والے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ٹوئیٹ کیا۔
انکا کہنا تھا کہ ایک ایسا لاچار شخص جو اپنے سرپرستوں سے سے بات کی بھی ہدایت لیتا ہے کہ اس نے کس سے شادی کرنی ہے اور کس سے نہیں۔کس کو پارٹی میں شامل کرنا ہے۔کب غصہ دکھا نا اور کب مسکراہٹ ۔انکا کہنا تھا کہ جو شخص کسی کی ہدایت پر اپنے بیٹوں کو بھی اپنے تقریب حلف برداری میں مدعو نہ کر سکے،اس سے یوٹرن کی امید نہ رکھنا ،بہت عجیب ہے۔

تاہم وزیر اعظم عمران خان نے اب کی بار یوٹرن والے بیان سے یوٹرن نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے یوٹرن کی فضیلت بیان کی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کسی مقصد تک پہنچنے کے لیے یو ٹرن لینا رہنما کی نشانی ہے بالکل ویسے ہی جیسے اپنے کالے دھن کو چھپانے کے لے جھوٹ بولنا بدماش کی نشانی ہے۔

تاہم وزیر اعظم عمران خان کی زندگی کا سب سے بڑا یوٹرن انکی سیاست میں انٹری تھی۔
1994 میں ایک ہفت روزہ زندگی نے اپنے دسمبر میں وزیر اعظم عمران خان کا انٹرویو شائع کیا تھا ، جس کے سرورق پر ان کے انٹرویو سے اخذ کردہ یہ جملہ لکھا تھا کہ میں سیاستدان نہیں بننا چاہتا کیونکہ سیاست بہت مہنگی ہو چکی ہے اور پارٹی بازی نے قوم کو تقسیم کردیا ہے ۔تاہم اپنے اسی بیان سے یوٹرن لینے ہوئے عمران خان نے کچھ عرصہ کے بعد سیاست میں انٹری کی اور 22 سال کی جد وجہد میں وہ سیاسی انقلاب کی علامت بن گئے،ایک نشست سے وزیر اعظم پاکستان تک کا سفر طے کر کے سیاست کا روشن مینارہ بن گئے۔