وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے لیگی دور کی ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اُٹھایا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل نومبر 11:17

وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے لیگی دور کی ایمنسٹی اسکیم ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20 نومبر 2018ء) :وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے لیگی دور کی ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اُٹھایا ۔ تفصیلات کے مطابق علیمہ خان کی جانب سے غیر قانونی اثاثہ جات کی مجموعی مالیت کے 50 فیصد ٹیکس و جُرمانے کی بجائے ن لیگ کے دور حکومت میں اعلان کردہ ایمنسٹی اسکیم سے استفادہ حاصل کرنے کا انکشاف ہوا۔ ایف بی آر نے وزیرمملکت برائے ریونیو حماز اظہر کو تفصیلی رپورٹ جمع کروادی ہے۔

ایف بی آر کے ایک سینئیر افسر نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے سابق حکومت کی جانب سے ملکی و غیر ملکی اثاثہ جات کو قانونی حیثیت دلوانے کے لیے متعارف کردہ ایمنسٹی اسکیم کے تحت اپنے غیر قانونی ملکی و غیر ملکی اثاثہ جات کو ظاہر کیا۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ ایف بی آر نے ایف آئی سے موصول ہونے والے فہرست میں وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان سمیت 5 سو سے زائد لوگوں کو نوٹس بھجوائے تھے جن میں بڑی تعداد میں لوگوں کا ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اُٹھانے کا انکشاف ہوا۔

ذرائع کے مطابق علیمہ خان کی جانب سے سیکشن 122 کے نوٹس کے جواب میں بتایا گیا کہ وہ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اُٹھا چکی ہیں اور ایمنسٹی اسکیم کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کر چکی ہیں جبکہ قانون کے مطابق انہیں تحفظ حاصل ہے اور ایمنسٹی اسکیم کے تحت ظاہر کردہ اثاثہ جات کے ذرائع نہیں پوچھے جا سکتے۔ ذرائع کے مطابق اگر علیمہ خان کی جانب سے اثاثے چھُپانے کی شق کے تحت 25 فیصد ٹیکس اور 25 فیصد جُرمانہ جمع کروایا جاتا تو اس صورت میں ٹیکس قوانین کے مطابق ان کے خلاف انسداد منی لانڈرنگ سمیت دیگر فوجداری کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی تھی کیونکہ اب ٹیکس چوری بھی اینٹی منی لانڈرنگ کے زُمرے میں آتی ہے اور جہاں چھُپائے جانے والے اثاثہ جات پر عائد ٹیکس کی رقم 5 لاکھ سے زیادہ ہو تواس صورت میں جیل بھی بھجوایا جا سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کی سیکشن 122 کے تحت نوٹسز جاری کیے گئے ان سے ذرائع آمدن بھی پوچھے جا رہے ہیں اور ذرائع آمدن نہ بتانے والے لوگوں کے خلاف سیکشن 182 کے تحت ان اثاثوں کو ان کی آمدنی میں شامل کر کے ان پر پچیس فیصد ٹیکس اور پچیس فیصد جُرمانے عائد کیے جائیں گے۔