امریکا کے ساتھ جنگ بندی کی کوئی ڈیڈ لائن مقررنہیں ہوئی. افغان طالبان

زلمے خلیل زاد کا ڈیڈلائن کا یکطرفہ اعلان ظاہر کرتا ہے کہ امریکا اپنی فورسز کو واپس بلانے کے لیے کتنا بے چین ہے.ترجمان

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل نومبر 11:18

امریکا کے ساتھ جنگ بندی کی کوئی ڈیڈ لائن مقررنہیں ہوئی. افغان طالبان
کابل(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔20 نومبر۔2018ء) افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی سفیر کی جانب سے افغان جنگ کے خاتمے کی تاریخ کے اعلان پر طالبان نے کہا ہے کہ امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے 3 روز تک جاری رہنے والی ملاقات بغیر کسی معاہدے کے اختتام پذیر ہوئی. افغان طالبان کی جانب سے یہ بیان امریکی سفیر کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے اپریل 2019 کو 17 سالہ طویل افغان جنگ کے خاتمے کی ڈیڈلائن قرار دیا تھا.

یاد رہے کہ 2014 میں نیٹو کی جانب سے آپریشنز کے اختتام کے بعد سے افغانستان کی سیکورٹی صورتحال ابتر ہے، جیسا کے 2001 میں طالبان کی جانب سے اقتدار کھونے کے بعد تھی.

(جاری ہے)

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ طالبان کے راہنماﺅں اور امریکا کے خصوصی سفیر زلمے خلیل زاد کے درمیان قطر میں سیاسی ہیڈکوارٹرز میں گزشتہ ہفتے دوسری مرتبہ ملاقات ہوئی تھی‘یہ ابتدائی مذاکرات تھے اور ان کا اختتام کسی معاہدے پر نہیں ہوا.

علاوہ ازیں 3 طالبان عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ’طالبان راہنماﺅں نے امریکا کی جانب سے مذاکرات مکمل کرنے کی کسی ڈیڈ لائن کو منظور نہیں کیا. دوسری جانب کابل میں موجود امریکی سفارتخانے کی جانب سے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گزیر کیا گیا. واضح رہے کہ زلمے خلیل زاد ایک افغان نژاد امریکی سفارتکار ہیں، جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی.

زلمے خلیل زاد نے کہاتھا کہ انہیں امید ہے کہ وہ 20 اپریل تک طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کر لیں گے اور یہ ڈیڈ لائن افغان صدارتی انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے ہے. تاہم طالبان کے سنیئرراہنماءنے کہا کہ زلمے خلیل زاد کی جانب سے ڈیڈلائن کے اعلان کی حکمت عملی یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکا اپنی فورسز کو واپس بلانے کے لیے کتنا بے چین ہے. انہوں نے مزید کہا کہ طالبان رہنما اس طرح کی کسی ڈیڈ لائن کے لیے راضی نہیں ہوئے کیونکہ ہم تمام محاذ پر جیت رہے ہیں.