احتساب عدالت میں نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت

سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث گواہ محمد کامران پرجرح کررہے ہیں

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل نومبر 11:33

احتساب عدالت میں نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔20 نومبر۔2018ء) احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت جاری ہے. سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت احتساب عدالت کے معزز جج محمد ارشد ملک کررہے ہیں. نوازشریف اور تفتیشی افسرمحمد کامران عدالت میں موجود ہیں، سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث محمد کامران پرجرح کررہے ہیں.

احتساب عدالت میں سماعت کے آغاز پر معزز جج نے کہا کہ پہلے العزیزیہ میں 342 کا بیان مکمل کر لیتے ہیں جس پروکیل صفائی نے کہا کہ کل بھی گزارش کی تھی جمعرات تک کا وقت دیا جائے.

(جاری ہے)

خواجہ حارث نے کہا کہ اگرآپ کہتے ہیں توبیٹھ جاتے ہیں لیکن تیاری کرنی پڑے گی، جج محمد ارشد ملک نے ریمارکس دیے کہ آپ جمعرات کی بات کررہے جمعرات کوپھرنہ کہیں کہ دعا ہے.

معزز جج نے کہا کہ فلیگ شپ ریفرنس میں 342 کے بیان میں کم سوالات رکھیں گے، کوشش کریں گے70،75 سوالات رکھیں. احتساب عدالت کے جج نے ریمارکس دیے کہ 3ہفتے کا وقت ملا ہے اس مدت میں ٹرائل مکمل ہوجائے گا، میرا خیال تھا 2 ہفتے ملیں گے تواس میں ٹرائل مکمل ہونا مشکل ہوجاتا. معزز جج نے کہا کہ سپریم کورٹ نے توسیع دیتے وقت کچھ پوچھا توہوگا نا؟ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ انہوں نے پوچھا تھا کتنا وقت اورچاہیے ٹرائل مکمل کرنے کے لیے، میں نے کہا 3 ہفتے دے دیں توانہوں نے 3 ہی ہفتے دے دیے.

احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ جمعرات کومیاں صاحب نے فاتحہ کے لیے جانا ہوگا تو پھروہ نہیں آئیں گے، خواجہ حارث نے یقین دہانی کرائی کہ میاں صاحب جمعرات کوعدالت میں پیش ہوں گے. تفتیشی افسرنے عدالت کو بتایا کہ رپورٹ میں لکھا نیب ہیڈکوارٹرنے کہا ریفرنس کا ریکارڈ موجود ہے، نیب ہیڈکوارٹرزسے میرے خط کا جواب نہیں آیا تھا. محمد کامران نے کہا کہ خط کے جواب کے لیے نیب ہیڈکوارٹرزکوکوئی خط نہیں لکھا، 8 اگست 2017 کو ڈی جی آپریشنز نیب ہیڈ کوارٹرکوخط لکھا تھا.

تفتیشی افسر نے 4 اگست کے خط کی کاپی عدالت میں پیش کردی، خواجہ حارث کی استدعا پرخط عدالتی ریکارڈ کاحصہ بنا دیا گیا،عدالت نے خط کی کاپی خواجہ حارث کوبھی فراہم کرنے کی ہدایت کی. انہوں نے کہا کہ 4 اگست کا خط میں نے نہیں محمد واصف بھٹی نے لکھا تھا، خط نیب کوبھیجنے کی کارروائی میں نے شروع کی تھی. محمد کامران نے کہا کہ نیب نے غیرتصدیق شدہ نقول فراہم کردی تھیں، نقول کس تاریخ کوموصول ہوئیں یاد نہیں، ریکارڈ کی تصدیق شدہ نقول بھی موصول ہوئیں.