وزیراعظم عمران خان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو ٹوک جواب

بختاور بھٹو بھی عمران خان کے جواب سے متفق، ساتھ ہی تنقید کا نشانہ بھی بنا ڈالا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل نومبر 12:46

وزیراعظم عمران خان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو ٹوک جواب
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20 نومبر 2018ء) : پاکستان بھر میں 400 کے قریب سیاسی جماعتیں ہیں اور ان سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے سیاسی نظریات ہیں لیکن جہاں بات پاکستان کی سالمیت آجائے وہاں تمام اپنے سیاسی اور نظریاتی اختلافات کو بھُلا کر ایک ہو جاتے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کے مابین گذشتہ روز ہونے والے لفظی جنگ ہے جس میں ملک کے تمام سیاستدانوں نے وزیراعظم عمران خان کے امریکی صدر کو دئے جانے والے جواب سے اتفاق کیا اور جرأت مندانہ رد عمل پر وزیراعظم عمران خان کو شاباش بھی دی۔

سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری جہاں ہر بات پر وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتی تھیں انہوں نے بھی وزیراعظم عمران خان کے حق میں ٹویٹ کیا لیکن ساتھ ہی عمران خان پر طنز بھی کر دیا۔

(جاری ہے)

مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ پہلی مرتبہ میں پاکستان کے ''سلیکٹڈ'' وزیراعظم سے اتفاق کر رہی ہوں۔

اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کئی پاکستانیوں کو دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے کھو دیا۔ یہاں کئی 9/11 ہو چکے ہیں۔ یہ ہماری بھی جنگ ہے اور ہمیں اب یہ تاثر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ https://twitter.com/BakhtawarBZ/status/1064576194673340423 واضح رہے کہ عمران خان کے امریکی صدر کو دوٹوک جواب پر مسلم لیگ ن کے صدر خواجہ سعد رفیق نے بھی وزیراعظم عمران خان کو شاباش دی اور ان کے ٹویٹ پر Thumbs up کا نشان بنایا۔

یہی نہیں خواجہ آصف اور سینیٹر مشاہد اللہ نے بھی امریکی صدر کو دے گئے وزیراعظم عمران خان کے دوٹوک جواب کو سراہا۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنے کی بجائے تنقید کی بوچھاڑ کردی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا، ہم پاکستان کو سالانہ ایک ارب 30 کروڑڈالر سے زیادہ دیتے تھے، لیکن اسامہ بن لادن وہاں رہتا تھا، ہم نے اس لیے پاکستان کی امداد بند کردی۔

امریکی صدر کی جانب سے احسان فراموشی کی اس روش پر وزیراعظم عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پر اپنے ردعمل میں کہا کہ صدر ٹرمپ کو پاکستان سے متعلق اپنا ریکارڈ درست کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ نائن الیون حملوں میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا۔ پاکستان نے دہشتگردی کی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو123ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوا ۔

جبکہ امریکہ نے پاکستان کو صرف 20 ارب کی امداد دی ۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 75ہزار جانیں قربان کیں۔ امریکہ پاکستان کواپنی ناکامیوں پرقربانی کا بکرا بنانے کے بجائے اپنا محاسبہ کرے۔ امریکہ پتا کرے 1لاکھ 40 ہزارنیٹوافواج، اڑھائی لاکھ افغان فوجیوں کی تعیناتی کے باوجود جنگ کیوں نہ جیتی؟ ایک رپورٹ کے مطابق امریکا نے افغان جنگ میں 1کھرب ڈالر خرچ کیے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوچکے ہیں۔ ہمارے قبائلی علاقے تباہ ہوئے اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ اس جنگ نے پاکستان میں عام شہریوں کی زندگیوں بہت متاثر کیا۔ کیا ٹرمپ کسی اور اتحادی کی قربانی کی اتنی مثال دے سکتے ہیں؟ پاکستان نے امریکہ کو زمینی اورفضائی راستے مہیا کیے۔