ٹرمپ کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی پر امریکی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی

پاکستان کی جانب سے بے بنیاد الزامات پر شدید احتجاج ‘ احتجاجی مراسلہ امریکی سفیر پال جونز کے حوالے

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل نومبر 13:30

ٹرمپ کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی پر امریکی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔20 نومبر۔2018ء) امریکی صدر کی پاکستان کے خلاف بیان پر امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے انہیں باور کروایا گیا کہ خطے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے پاکستان کی کوششیں ڈھکی چھپی نہیں، امریکا کو بھولنا نہیں چاہیئے القاعدہ کے اہم رہنما پاکستانی تعاون کے نتیجے میں پکڑے گئے. تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر امریکی ناظم الامور پال جونز کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور پاکستان کی جانب سے بے بنیاد الزامات پر شدید احتجاج کیا گیا.

(جاری ہے)

دفتر خارجہ کے مطابق سیکرٹری خارجہ تمینہ جنجوعہ نے احتجاجی مراسلہ امریکی سفیر پال جونز کے حوالے کیا‘ سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان سے زیادہ کسی نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیمت ادا نہیں کی. سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور الزامات پر مایوسی ہوئی، اس قسم کی پاکستان مخالف ہرزہ سرائی بے بنیاد ہے ناقابل قبول ہے.

پاکستانی اداروں کی اطلاعات پر ہی امریکا نے اسامہ بن لادن کا کھوج لگایا، اسامہ بن لادن سے متعلق لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں‘ خطے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے ہماری کوششیں ڈھکی چھپی نہیں. دفتر خارجہ ترجمان کے مطابق امریکی سفیر کو کہا گیا کہ امریکی قیادت نے القاعدہ کے خلاف آپریشن میں پاکستان کے کردار کو سراہا، امریکا کو بھولنا نہیں چاہیئے القاعدہ کے اہم رہنما پاکستانی تعاون کے نتیجے میں پکڑے گئے.

ترجمان کے مطابق امریکی سفیر کو کہا گیا کہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن میں عالمی برادری کا ساتھ دیا، پاکستان نے زمینی، فضائی اور بحری راستوں سے کمیونیکیشن فراہم کی. سیکرٹری خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور مفاہمتی عمل کے لیے کوشاں ہے، امریکی بیانات اور الزامات ان کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں.

خیال رہے کہ دو روز قبل امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کی امداد اس لیے بند کی کیونکہ پاکستان نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا، امریکا نے پاکستان کو سالانہ 1.3 بلین ڈالر کی امداد دی. بعد ازاں وزیر اعظم عمران خان نے ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی صدر کے غلط بیانات زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں، امریکی جنگ کا خمیازہ مالی و معاشی عدم استحکام کی شکل میں بھگتا ہے.

بعد ازاں امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون کے ڈائریکٹر آپریشنز پریس کرنل راب میننگ نے نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں امریکا کا اہم اتحادی ہے. کرنل راب کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکا کے فوجی تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، خطے میں پاکستان اورامریکا کے مشترکہ مفادات ہیں‘ پرامن اورمستحکم افغانستان کے لیے پاکستان کا کردار اہم ہے.