بین الاقوامی رحمت اللعالمین ؐکانفرنس کا مقصد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی محبت اور وابستگی کا اظہار ہے ،ْ نور الحق قادری

کسی نے نئی پاکستان کی بات کی تو میرا نیا پاکستان وہ ہوگا جو قائد اعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان ہوگا ،ْوفاقی وزیر مذہبی امور

منگل نومبر 15:20

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 نومبر2018ء) وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہاہے کہ بین الاقوامی رحمت اللعالمین ؐکانفرنس کا مقصد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی محبت اور وابستگی کا اظہار ہے ،ْکسی نے نئی پاکستان کی بات کی تو میرا نیا پاکستان وہ ہوگا جو قائد اعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان ہوگا۔دو روزہ بین الاقوامی رحمت اللعالمین ؐ کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزارت مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر تب تھا ،ْ جب کچھ تھا تھا اور جب سب کچھ وجود میں آیا تب بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر جاری تھا اور یہ ہمیشہ جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس مختلف عنوانات سے ہوتی آرہی ہے لیکن اس مرتبہ وزیر اعظم کے حکم سے اسے بین الاقوامی کانفرنس بنا دیا ہے۔

(جاری ہے)

وزیر مذہبی امور ے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی محبت اور وابستگی کا اظہار ہے۔انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت میں ہر کسی کا تعلق عجیب طرح کا ہے، جب بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر آتا ہے تو وہ شخص جو پرہیز گار اور متقی نہیں ہوتا وہ بھی حضور کی نسبت سے متعلق سب سے مضبوط عاشق اور غلام نظر آتا ہے۔

نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی آمد سے اندھیروں کے معاشرے میں اجالا فرما دیا۔کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم ہمارے لیے زاد راہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی نے نئی پاکستان کی بات کی تو میرا نیا پاکستان وہ ہوگا جو قائد اعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان ہوگا۔

ممتاز عالم دین اور مذہبی سکالرعلامہ سیّد نیاز حسین نقوی نے کہا کہ ختم نبوت کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہم قانون ہاتھ میں نہ لیں ،ْ ہماری ذمہ داریاں ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کی پیروی کی جائے۔ عوام اور امراء سب کی ذمہ داری ہے کہ پاک پیغمبرؐ کے احکامات پرعمل کریں اور وہ جس سے روکیں اس سے رک جائیں۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر، فلسطین ، غزہ، یمن ، شام ، عراق، لیبیا اور میانمار میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ملک کے مسلمانوں کے علاوہ دیگر ممالک کے مسلمانوں کے حوالے سے بھی سوچیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہم ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگائیں گے تو یہ ختم نبوت کے فلسلفہ کے برعکس ہو گا۔ جس طرح عقیدہ توحید پر ایمان رکھنا واجب ہے اس طرح ختم نبوت پر یقین اور عقیدہ نہ رکھنے والا بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔غیر سرکاری تنظیم مسلم ہینڈز کے روح رواں مولانا سیّد لخت حسین نے اس امید کا اظہار کیاکہ صاحبزادہ نور الحق قادری کی قیادت میں صورتحال میں بہتری آئے گی۔

وزارت مذہبی امور لوگوں کے درمیان دوریاں ختم کرنے کے لئے بھی اپنا کردار ادا کر سکتی ہے ۔ہمیں توقع ہے کہ مسالک کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے میں ذمہ داری مذہبی امور اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے قرآن حکیم اور احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکمرانی کی صفات ہیں کہ حکمران کو رب پر توکل کرنا ہو گا اور حکمران کو اپنا دل نرم کرنا ہو گا۔

وزیر اعظم عمران خان نے مدینہ کی ریاست کا ماڈل سامنے رکھا ہے۔ نبی کریمؐ کے آخری خطبہ میں دنیا کو پیغام دیا یا ہے کہ کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں ہے ۔ آپ کا پیغام مساوات کا پیغام ہے۔ آپؐ نے ریاست مدینہ میںسوشل سکیورٹی کانظام نافذ کیا۔ریاست مدینہ میں حضرت سیّدنا عمر فاروق نے بھی اصلاحات متعارف کرائیں وہ بھی رہتی دنیا تک ایک روشن مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کا نظام ایسا تھاکہ بزرگوں، نوجوانوں اور بچوںکو عزت دی جاتی تھی۔ ہماری نوجوان نسل انشتار کاشکار ہے۔ جب تک قومیں اندر سے مضبوط نہ ہوں وہ قائم نہیں رہتیں۔ پاکستان افغان جنگ سے 40 سال سے متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر نوجوان نسل کی ہم نے تربیت نہ کی تو یہ گوگل کو ہی اپنا مرشد تسلیم کریں گے۔ ہمیں وہ اسلام چاہیے جو عزت اور محبت دینے والا ہو۔

ممتاز عالم دین اور مذہبی سکالر ڈاکٹر یاسین ظفر نے کہا کہ علما انبیاء کرام کے وارث ہیں، نبی پاکؐ کی تعلیمات ساری دنیا تک پہنچانا ان کی ذمہ داری ہے، آپؐ خاتم النبین ہیں، آپ ؐ کی تعلیمات اور قرآن حکیم کے احکامات کے علاوہ کسی نئی ہدایت اور تعلیم کی ضرورت نہیں ہے۔ علماء کے بعد دینی تعلیمات کا حصول عام آدمی کے لئے بھی لازمی تھا۔ عوام بنیادی عقائد سے ناواقف ہیں اس لئے بہت سارے جھوٹے اور فریبی لوگ اپنی نام نہاد کرامات کے ذریعے انہیں گمراہ کرتے ہیں۔

ختم نبوت اور توحید پر ہم سب کا ایمان ہے۔ انہوں نے کہاکہ بہت ساری ایسی نرسریاں موجود ہیں جو اس بات کی دعویدار ہیں کہ انہیں بادشاہی سونپ دی گئی اور ملائکہ ان کے احکامات کی پیروی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا قلع قمع کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اور حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے فتنوں پر نظر رکھے۔ وطن عزیز میں دینی عقائد اور اقدار کے تحفظ کے لئے دینی مدارس موجود ہیں۔

یہ اسلام کے حقیقی قلعے ہیں اور ختم نبوت پر پہرہ دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں جس طرح افواج ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہیں۔اس طرح دینی مدارس اسلامی عقائد اور اقدار کے محافظ ہیں۔دینی مدارس کو برابھلا کہیں درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت بڑے عزم کے ساتھ آئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ نئے پاکستان کی تعمیر کرنا چاہتے ہیںً حکومت کو اسلام کے بنیادی عقائد اور اقدار کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے اس سے ملک میں خیر و برکت آئے گی۔