لوٹی دولت واپس لانے کیلئے مرکزی اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ

سنٹرل اتھارٹی میں ایف بی آر، ایف آئی اے، ایس ای سی پی اور نیب کے نمائندے شامل ہوں گے، سنٹرل اتھارٹی بیرون ملک سے لوٹی دولت لانے کیلئے اقدامات اٹھائے گی، ذرائع

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل نومبر 15:36

لوٹی دولت واپس لانے کیلئے مرکزی اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔20 نومبر 2018ء) حکومت نے بیرون ممالک لوٹی دولت واپس لانے کیلئے مرکزی اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے،سنٹرل اتھارٹی کمیٹی میں ایف بی آر، ایف آئی اے، ایس ای سی پی اور نیب کے نمائندے شامل ہوں گے، اتھارٹی کی سربراہی گریڈ 21 کا آفیسر کرے گا۔سنٹرل اتھارٹی بیرون ملک سے لوٹی دولت لانے کیلئے اقدامات اٹھائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمرا ن خان کی ہدایت پر بیرون ملک سے لوٹی ہوئی دالت واپس لانے کیلئے اقدامات تیز کردیے گئے ہیں۔ جس کے تحت حکومت نے سنٹرل اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ مرکزی اتھارٹی کمیٹی میں نیب ،ایف بی آر، ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کے نمائندے شامل ہوں گے۔ وزارت قانون نے اتھارٹی قائم کرنے کیلئے مسودہ وزیراعظم کو بھجوا دیا ہے۔

(جاری ہے)

مسودہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے گا۔اتھارٹی قائم کرنے کا ایجنڈا حکومت کے 100روزہ پلان میں شامل تھا۔ اس سے قبل کوئی ایسی کمیٹی موجود نہیں تھی جو بیرون ملک لوٹی رقم واپس لانے کیلئے اقدامات اٹھائے جاتے۔ تاہم حکومت نے مستقل بنیادوں پر اتھارٹی بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ واضح رہے تحریک انصاف کے چیئرمین اور وزیراعظم عمران خان نے الیکشن مہم کے دوران اعلان کیا تھا ملک میں احتساب کا عمل تیز کیا جائے گا اور بیرون ملک سے لوٹی ہوئی دولت کو واپس لایا جائے گا۔

جس کے تحت حکومت بناتے ہی وزیراعظم عمران خان نے اپنے 100 روزہ ایجنڈے میں منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک بھیجی گئی رقم واپس لانے کیلئے باقاعدہ اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اتھارٹی قائم ہوتے ہی بیرون ملک سے لوٹی دولت واپس لانے کے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ حکومت کی جانب سے بیرون ملک لوٹی دولت کا سراغ لگانے کیلئے مشیر وزیراعظم شہزاد اکبر کی سربراہی ٹیمیں کام کررہی ہے۔