غیر معیاری پانی کی رپورٹ آنے پر پیپسی کی نوبہارفرنچائز کو بند کرنے کا حکم

نیسلے سمیت زیر زمین پانی نکال کر فروخت کرنے والی کمپنیوں کو دس یوم میں خامیاں دورکریں، سپریم کورٹ

منگل نومبر 17:38

غیر معیاری پانی کی رپورٹ آنے پر پیپسی کی نوبہارفرنچائز کو بند کرنے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 نومبر2018ء) سپریم کورٹ نے نیسلے سمیت زیر زمین پانی نکال کر فروخت کرنے والی کمپنیوں کو دس یوم میں خامیاں دورکرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے غیر معیاری پانی کی رپورٹ آنے پر پیپسی کی نوبہارفرنچائز کو بند کرنے کا حکم دے دیا۔

(جاری ہے)

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،وفاقی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی خاتون افسر نے بتایا کہ اسلام آباد کے زیر زمین پانی میں آرسینک نہ ہونے کے باجوداسے ریورس اوسموسس کر دیا جاتا ہے جو پانی کے ضیائع کا سبب بنتا ہے، انہوں نے بتایا کہ پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں کے پاس بنیادی لیبارٹریاں ہی موجود نہیں، کمپنیاں پانی سے منرلز الگ کرنے، اور زیر زمین پانی کی بحالی کرنیوالی ٹیکنالوجی استعمال ہی نہیں کر رہیں،ڈی جی فوڈ اتھارٹی پنجاب کیپٹن عثمان نے عدالت کو بتایا کہ پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں کی بوتلوں پر لکھے گئے منرلزمقررہ مقدار میں نہیں پائے گئے،انہوں نے بتایا کہ پیپسی کی نوبہار فرنچائزسے نمونہ حاصل کیا توپانی غیر معیاری نکلا،دوران سماعت ڈی جی فوڈ اتھارٹی سے بدتمیزی کرنے پر عدالت پیپسی نوبہار کے مالک عدنان خان پر برہم، چیف جسٹس نے عدنان خان کے خلاف فوڈ اتھارٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے کمرہ عدالت سے گرفتار کرنے کی ہدائت کی،عدنان خان کے عدالت سے بار بارمعافی مانگنے پر عدالت نے گرفتار کرنے سے روک دیا،عدالتی حکم پر نیسلے کمپنی کی سی ای او عدالت پیش ہوئیں، چیف جسٹس نے نیسلے کی سی ای او سے استفسارکیاکہ نیسلے نے پاکستان میں پانی کا معیار برقرار کیوں نہیں رکھا،پاکستان سے تیسری دنیا والا سلوک اور امتیازی سلوک نہیں ہونے دیں گے،اگر معیار برقرار نہ رکھا اور خامیاں دور نہ کیں تو نیسلے کوپاکستان میں بند کر دیں گے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے آڈیٹرجنرل کی رپورٹ عدالت میں پیش کی، رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈیڑھ لیٹر پانی کی بوتل پر پیکنگ سمیت آٹھ روپی79پسے لاگت آتی ہے، جس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ عدالت پانی کی قیمت کم کرنے پر غور کر رہی ہے، شہریوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے عدالت سخت کاروائی کرئیگی،واٹر کمپنیاں جھوٹ بول کر کروڑوں کما رہی ہیں، بغیر وجہ کے شہریوں کو ایساپانی پلا رہی ہیں، چیف جسٹس نے کہا تک بڑے آدمی کو ہاتھ نہیں پڑے گا وہ درست کام نہیں کرے گا،عدالت نے شیزان کمپنی کی آ ج ہی انسپکن کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے نیسلے، سمیت پانی فروخت کرنے والی تمام کمپنیوں کو دس یوم میں خامیاں دور کرنے کی ہدائت کر دی،عدالت نے عدالتی کمیشن کوملک بھر کی پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں کی انسپکشن کرنے کے بھی احکامات صادر کر دئیے، چیف جسٹس نے معیاری پانی فروخت کرنے پر قرشی کمپنی کی تحسین کی، چیف جسٹس نے کہا کہ گورمے کا پانی قدرے بہتر ہے، صاف پانی فروخت کرنے والی کمپنیاں قابل تحسین ہیں،عدالت نے کیس کی مزید سماعت تین دسمبرتک ملتوی کر دی۔