طاہر داوڑ قتل میں پڑوسی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث کی اطلاعات کے بعد وزیر مملکت برائے داخلہ نے خاموشی اختیار کر لی

ٹھوس شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کیلئے تشکیل جے ا ٓئی ٹی میں بھی تبدیلی،ایس پی انویسٹی گیشن گلفام ناصر سے سربراہی واپس لے لی گئی

منگل نومبر 17:38

طاہر داوڑ قتل میں پڑوسی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث کی اطلاعات کے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 نومبر2018ء) اسلام آباد طاہر داوڑ قتل کیس میں پڑوسی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث کی اطلاعات کے بعد وزیر مملکت برائے داخلہ نے خاموشی اختیار کر لی ۔ٹھوس شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کیلیے تشکیل جے آئی ٹی میں بھی تبدیلی کر دی گئی ۔ایس پی انویسٹیگیشن گلفام ناصر سے جے آئی ٹی کی سربراہی واپس لے لی گئی۔

ذرائع کے مطابق طاہر داوڑ قتل کی تفتیش کیلئے تشکیل جے آئی ٹی کی سربراہی اب ڈی آئی جی آپریشنز کریں گے، ڈی آئی جی آپریشنز فیصل راجہ کی سربراہی میں جے آئی ٹی ایس پی طاہر داوڑ کے قتل کی ازسر نو تحقیقات کرے گی۔ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی، آئی بی اور ایم آئی کا ایک، ایک نمائندہ بھی شامل ہے۔ جبکہ اس سے قبل جے آئی ٹی میں آئی بی کے نمائندے کو شامل کیا گیا دیگر جے آئی ٹی ممبران میں ایس ڈی پی اوشالیمار اور ڈی ایس پی سی آئی ڈی بھی شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جے آئی ٹی کے پہلے اجلاس میں طاہر خان قتل کی ازسرنو تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ علاقے کی جیو فینسنگ اور شہر کے مختلف جگہوں پر نصب سیف سٹی کے کیمروں کا ریکارڈ طلب کیا گیا تھا۔ پہلے اجلاس میں بھائی اور اہلخانہ کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جی الیون، ایف ٹین سمیت شہر کے داخلی وخارجی راستوں کی فٹیج کے لیئے سیف سٹی کو کہا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی نے پینتالیس دنوں میں رپورٹ جمع کروانی ہے۔ اس سے قبل طاہر داوڑ کے اغوا پر بنائی جے آئی ٹی کی سربراہی ایس پی انویسٹیگیشن گلفام ناصر کر رہے تھے۔ طاہر داوڑ کے اغوا پر تحقیقات کی بجائے ایس پی طویل چھٹی پر چلے گئے تھے۔جس کے بعد نئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی ۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایس پی طاہر داوڑ کو قریبی رشتہ دار اور دوست غلط بیانی سے سیر کے لئے لے کر گئے ۔بعدازں انہیں راستے میں بے ہوش کر دیا گیا۔پشتون تحفظ موومنٹ کی طرف سے مبینہ طور طاہر داوڑ کو دہمکیاں بہی مل رہی تہی ۔دوسری جانب وزارت داخلہ کی معاملہ پر معنی خیز خاموشی وزارت داخلہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔۔