اسلام کے ٹھیکیداروں کو نبی کریمؐ کی ہستی کی سمجھ ہی نہیں،عمران خان

پاکستان مذاہب کی ہتک روکنے کیلئے عالمی کنونشن پر دستخط کروائے گا ،فلاحی ریاست وسائل نہیں احساس سے بنتی ہے ،مجھے اسلام کی سمجھ نہیں تھی ،والد کہ کہنے پر جمعہ اور عید کی نماز پڑھتا تھا،جب مطالعہ کیا تو یقین آیا ہے کائنات کا بنانے والا اللہ ہے،عالم نہیں ہوں، تاہم چاہتا ہوں کہ علما لوگوں کی زندگی بدلنے میں کردار ادا کریں،وزیر اعظم کا رحمت اللعالمین کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب

منگل نومبر 17:42

اسلام کے ٹھیکیداروں کو نبی کریمؐ کی ہستی کی سمجھ ہی نہیں،عمران خان
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 نومبر2018ء) وزیر اعظم عمران خان نے رحمت اللعالمینؐ کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ’مذاہب کی ہتک کو روکنے کے لیے بین الاقوامی کنونشن‘ پر دنیا بھر کے ممالک سے دستخط کرائے گا، جس کا مقصد یہ ہوگا کہ آزادی اظہار رائے کی آڑ لے کر مسلمانوں کو تکلیف نہیں پہنچا سکتے۔ اسلام کا ایک طالب علم ہوں اور اللہ کا خاص کرم تھا کہ جب میں کرکٹ کھیل رہا تھا تو میں ایک صوفی میاں بشیر سے ملا، جنہوں نے مجھے اپنی حکمت اور علم سے دین کی طرف راغب کیا۔

میں ایک نام کا مسلمان تھا، والد صاحب کے کہنے پر جمعہ اور عید کی نماز پڑھ لیتا تھا اور اسلام کی مجھے کافی سمجھ نہیں تھی لیکن میاں بشیر نے میرے ایمان کے راستے میں حائل رکاوٹیں آہستہ آہستہ ختم کردیں۔

(جاری ہے)

عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک وقت آتا ہے جب آپ کو یقین ہوجاتا ہے کہ کائنات کو بنانے والا اللہ ہے اور یہ اللہ کی بڑی رحمت ہوتی ہے کہ وہ آپ کو سیدھے راستے پر لے جاتا ہے اور پھر آپ کی زندگی تبدیل ہونا شروع ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب میں نے میاں بشیر سے کہا کہ میں سیدھے راستے پر چلنا چاہتا ہوں تو انہوں نے مجھے کہا کہ 2 چیزیں کرو، ایک قرا?ن پڑھنا شروع کرو اور دوسری چیز سیدھے راستے پر چلو اور انسان تب ہی سیدھے راستے پر چل سکتا ہے جب اس کے دل میں عشق نبیؐ ہو۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو بڑی غلط فہمی ہے کہ جس دن انسان میں ایمان آتا ہے تو وہ فوراً سیدھا ہوجاتا ہے بلکہ اس دن سیدھے راستے کی ایک جدوجہد شروع ہوتی ہے اور سیدھا راستہ نبی ؐ کا راستہ ہے اور اس کے لیے حضور کی زندگی پڑھنا پڑتی ہے۔

جب میں نے نبی کریم ؐ کی زندگی کو پڑھنا شروع کیا تو میری زندگی میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی، میری زندگی کا راستہ بدلا، اگر میرا راستہ نہ بدلتا تو کینسر ہسپتال بنتا نہ میں سیاست میں ہوتا۔ زندگی میں 2 راستے ہیں ایک انسان اپنی ذات کے لیے زندگی گزارتا ہے اور دوسرا ایمان آنے کے بعد یہ احساس ہونا کہ اللہ نے کسی مقصد کے لیے پیدا کیا ہے اور میں اللہ کو جوابدہ ہوں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جب میں نے سیرت ؐ پڑھنا شروع کی تو سب سے پہلے یہ چیز سامنے آئی کہ اللہ نے انہیں ’رحمت اللعالمین‘ کا خطاب دیا اور حضرت محمد ؐ نے لوگوں کے احساس کو مدِنظر رکھتے ہوئے وسائل نہ ہونے کے باوجود دنیا کی پہلی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی اور ہمیں بتایا کہ ایک فلاحی ریاست وسائل سے نہیں احساس اور رحم سے بنتی ہے۔عمران خان نے مسلمانوں کی ابتدائی تاریخ کی جنگوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں نے اتنے قلیل عرصے میں رومی اور فارس جیسی فوجوں کو شکست دی۔

ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہمارے نبی ؐ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ایسی کون سی تعلیمات دی تھیں کہ انہوں نے اتنی بڑی سلطنتوں کو شکست دی۔ وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ ہم ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو کہہ رہے ہیں کہ جامعات میں نبی ؐ کی سیرت پر ایک خصوصی چیئر بنائی جائے، تاکہ طالب علم یہ پڑھیں کہ حضور ؐ نے کس طرح دنیا بدل دی۔

میں یہ چاہتا ہوں کہ ہماری جامعات سرور دوجہاں حضرت محمدؐ کی زندگی کو سامنے لائیں اور بتائیں کہ حضور اکرم ؐ نے کس طرح انسانوں کو تبدیل کردیا۔وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ یہاں ہمیں اپنے بچوں کو بتانے کی ضرورت ہے کہ نبی ؐ نے کس طرح عام سے لوگوں کو عظیم لوگ بنادیا اور انہیں وہ مقصد سمجھا دیا جس کے لیے اللہ نے انہیں پیدا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں اسٹیو جابز، بل گیٹس کی کامیابی پر کتابیں شائع ہوتی ہیں جبکہ ہمیں نبی ؐ کی زندگی اور ان کی سیرت کو پڑھنا چاہیے جنہوں نے دنیا ہی بدل دی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مدینہ کے بعد واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا لیکن بدقسمتی سے جو لوگ اسلام کے ٹھیکے دار بنے ہیں، انہیں اس فلسفے کی سمجھ ہی نہیں کہ ہمارے نبی ؐ کی کیا ذات تھی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ میں ایک عالم نہیں ہوں، تاہم چاہتا ہوں کہ علما لوگوں کی زندگی بدلنے میں کردار ادا کریں۔انہوں نے مشرقی ایشیا اور جنوبی ایشیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں اسلام اولیا کرام کی اخلاقیات اور ان کی شخصیت کی وجہ سے پھیلا تھا کیونکہ یہ لوگ انسانیت کی خدمت کرنے آئے تھے اور یہ نبی آخرالزماں کا پیغام پہنچانے آئے تھے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہم پاکستان کو ایک عظیم ملک بنائیں گے، جس کے لیے ہم حضرت محمد ؐ کی سیرت کا مطالعہ کریں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہر تھوڑے عرصے بعد مغربی ممالک میں ہمارے پیارے نبی ؐ کی شان میں گستاخی کی کوشش کی جاتی ہے اور ہمارے جذبات مجروح کیے جاتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو غصہ آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو غصہ آتا ہے اور توڑ پھوڑ ہمارے ملک میں شروع ہوجاتی ہے اور مغربی ممالک کہتے ہیں کہ اسلام انتشار پھیلانے والا مذہب ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کا معاملہ منظر عام پر آیا، جس پر ہماری حکومت نے ہالینڈ سے احتجاج ریکارڈ کروایا اور ہمیں خوشی ہے کہ ہماری حکومت کے اس اقدام سے خاکوں کا مقابلہ روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں نوجوانوں کو سیرت النبی کی تعلیمات سے روشناس کرانے کیلئے خصوصی چیرز قائم کی جائیں گی، توہین رسالت کے خلاف احتجاج ہڑتالوں اور جلائو گھیرائو سے مغربی ممالک میں مسلمانوں کو انتہا پسند ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ کئی لوگ اسلام کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں اور انہیں اس فلسفے کی سمجھ ہی نہیں کہ رسول اللہ ؐکیا ہستی تھے، ایک فلاحی ریاست وسائل سے نہیں احساس اور رحم سے بنتی ہے ۔