آئی جی امجد جاوید سلیمی کی ہدایت کے مطابق عید میلاد النبی کے موقع پر سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی

منگل نومبر 20:51

آئی جی امجد جاوید سلیمی کی ہدایت کے مطابق عید میلاد النبی کے موقع پر ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 نومبر2018ء) آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی نے صوبے بھر میں جشنِ عید میلاد النبی ؐکے سلسلے میں منعقد ہونے والی 1821محافل اور نکالے جانے والے 2004جلوسوں کے شرکاء کی سیکیورٹی کے سلسلے میں انتظامات کو حتمی شکل دیتے ہوئے تمام فیلڈ افسران کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں دئیے گئے ایس او پی کے مطابق ان کی بھرپور سیکیورٹی کے انتظامات کریں تا کہ عوام رحمت اللعالمین کی تقریبات میں بلا خوف و خطر شرکت کر سکیں۔

اس سلسلے میں صوبے بھر میں ان محافل اور جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے 57445افسر واہلکاروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ جن میں 410گزیٹد افسران، 930انسپکٹرز، 2848سب انسپکٹرز، 4804اے ایس آئیز، 4251ہیڈ کانسٹیبلز، 36161کانسٹیبلز، 7860پولیس قومی رضاکار جبکہ 2181سپیشل پولیس کے اہلکار شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جبکہ حساس مقامات پر منعقدہ محافل اور جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے 183واک تھرو گیٹس، 7733میٹل ڈیٹیکٹرز، 1636سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

آئی جی پنجاب نے تمام ڈی پی اوز کو یہ ہدایات بھی جاری کی ہیں کہ وہ اپنے متعلقہ علاقوں میں ذاتی طور پر نہ صرف ان محافل اور جلوسوں کی مانیٹرنگ کریں بلکہ اپنے اضلاع میں Identifiedحساس علاقوں کی خصوصی طور پر نگرانی کریںاور جاری کیے گئے سیکیورٹی ایس او پی پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ اس کے علاوہ صوبے بھر میں تمام ٹریفک سربراہان کو خصوصی طور پر اس اہم دن کے موقع پر ٹریفک کے بہائو کو یقینی بنانے، متبادل راستوںکے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کے انتظامات بھی مکمل کریں تا کہ لوگ ان محافل اور جلوسوں میں بھرپور شرکت کر سکیں ۔

اس کے علاوہ فیلڈ افسران کو یہ ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں کہ وہ گلیوں، بازاروں، اہم شاہراہوں، بنکوں ، سرکاری عمارتوں،مساجد ، مزاروں اور درباروں کی سیکیورٹی کے لیے بھی مناسب فورس کی تعیناتی کریں۔ آئی جی پنجاب نے ہدایات میں مزید یہ کہا کہ تمام ڈی پی اوز اپنے اضلاع میں مقامی علماء، عمائدین شہر، اساتذہ اور سوسائٹی کے دیگر اکابرین کے ساتھ رابطے میں رہیں تا کہ ان کے تعاون سے منعقد ہونے والی محافل کے شرکاء کو بھرپور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

متعلقہ عنوان :