فیض آباد دھرنا کیس ،ْسپریم کورٹ کا عبوری حکم نامہ جاری

منگل نومبر 22:22

فیض آباد دھرنا کیس ،ْسپریم کورٹ کا عبوری حکم نامہ جاری
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 نومبر2018ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کا عبوری حکم نامہ جاری کردیا جس میں کہاگیا ہے کہ سیکرٹری الیکشن کمیشن عدالت میں پیش نہیں ہوئے ،ْ عدم حاضری کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی ،ْتاثر یہ ہے کہ حکومت اس کیس کو چلانا ہی نہیں چاہتی ،ْاٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن بتائیں کہ ایسی جماعت جس نے نظام زندگی درہم برہم کردیا، اربوں روپے کا معاشی و جانی نقصان ہوا، کیا اس طرح کی پارٹی کو بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ کیا جاسکتا ہی ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا تحریک انصاف کے دھرنے کا اس احتجاج سے تقابل کیا جاسکتا ہے ،ْ br />منگل کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل بینچ نے 16 نومبر کو کیس کی سماعت کی تھی جس کے بعد5 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا۔

(جاری ہے)

عدالت نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی رجسٹریشن کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے رپورٹ جمع کرائی تھی تاہم سیکریٹری الیکشن کمیشن عدالت میں پیش نہیں ہوئے جبکہ عدم حاضری کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی، تاثر یہ ہے کہ حکومت اس کیس کو چلانا ہی نہیں چاہتی۔عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن بتائیں کہ ایسی جماعت جس نے نظام زندگی درہم برہم کردیا، اربوں روپے کا معاشی و جانی نقصان ہوا، کیا اس طرح کی پارٹی کو بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ کیا جاسکتا ہی عدالت نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان کی رجسٹریشن کیلئے ایسے شخص کا شناختی کارڈ دیا گیاجس کا رہائشی پتہ دبئی کا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کا نمائندہ یہ بتانے میں ناکام رہا کہ آیا مذکورہ شخص دوہری شہریت کا حامل ہے یا نہیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان نے اپنے اخراجات کی تفصیلات جمع نہیں کرائی، اس بارے میں جب الیکشن کمیشن کے نمائندے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ الیکشن ایکٹ ایک مصنوعی قانون ہے۔عدالت نے کہا کہ ہمارے لیے یہ بات تعجب کی باعث ہے کہ الیکشن کمیشن نمائندہ اپنے ادارے کے قانون کو مصنوعی کہہ رہا ہے، اس بیان سے الیکشن کمیشن کی ساکھ بری طرح سے مجروح ہوئی ہے لہٰذا الیکشن کمیشن وضاحت کرے کیا وہ اپنے نمائندے کے بیان سے متفق ہے۔

عبوری حکم نامے میں کہا گیا کہ اس معاملے میں ہمیں تعین کرنا ہے احتجاج کی حدود کیا ہوتی ہیں جبکہ یہ بھی تعین کرنا ہے کہ ریاست احتجاج کرنے والوں سے کیا سلوک رواں رکھے۔عدالت نے کہا کہ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا تحریک انصاف کے دھرنے کا اس احتجاج سے تقابل کیا جاسکتا ہے۔عدالتی حکم نامے کے مطابق چیئرمین پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے چینلوں کی بندش کے بارے میں رپورٹ طلب کی تھی لہٰذا دیکھنا پڑے گا کیا کیبل آپریٹر چینلز بند کرسکتے ہیں کیونکہ اظہار رائے کی آزادی بنیادی حق ہے۔