بھارت کیساتھ پانی کے مسائل پر بات چیت کیلئے تیار ہیں ،1991 ء کے واٹر اکارڈکو ساتھ لے کر چلیں گے‘فیصل واوڈا

صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم کے 25 سالہ پرانے مسائل کو حل کرنے جارہے ہیں، پانی کی تقسیم کی مانیٹرنگ کیلئے ایک ارب روپے کی لاگت سے ٹیلی میٹری نظام نصب کیا جارہا ہے،لوچستان میں 10برسوں سے تاخیر کے شکار نولانگ ڈیم منصوبہ پر جلد کام شروع ہو جائیگا داسو ڈیم کا مسئلہ بھی حل ہونے کے قریب ہے‘وفاقی وزیر برائے آبی وسائل محمد فیصل واوڈا کی واپڈا ہائوس کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو

منگل نومبر 22:50

بھارت کیساتھ پانی کے مسائل پر بات چیت کیلئے تیار ہیں ،1991 ء کے واٹر اکارڈکو ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 نومبر2018ء) وفاقی وزیر برائے آبی وسائل محمد فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ پانی کے مسائل پر بات چیت کیلئے تیار ہیں مگر پاکستان اپنا پورا حق لے گا اور 1991 ء کے واٹر اکارڈکو ساتھ لے کر چلیں گے،صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم کے 25 سالہ پرانے مسائل کو حل کرنے جارہے ہیں، پانی کی تقسیم کی مانیٹرنگ اور پانی چوری کی روک تھام کیلئے ایک ارب روپے کی لاگت سے ٹیلی میٹری نظام نصب کیا جارہا ہے،بلوچستان میں 10برسوں سے تاخیر کے شکار نولانگ ڈیم منصوبہ پر جلد کام شروع ہو جائگا،داسو ڈیم کا مسئلہ بھی حل ہونے کے قریب ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز واپڈا ہائوس کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین ودیگر افسران بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا کہ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے مسائل کے حل کیلئے تعاون پرتمام صوبوں کے وزرائے اعلی کا مشکور ہوں‘تمام حل طلب پانی کے مسائل باہمی مشاورت سے حل کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ ممبران کی کمی کے باوجودواپڈا کی کارکردگی سے مکمل طور پر مطمئن ہوں۔انہوں نے کہاکہ داسو ڈیم کا مسئلہ حل ہونے کے قریب ہے‘منصوبہ میں 34 کروڑ روپے کی بچت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی جبکہ 10 سے 11 ارب روپے کی بچت زیر التواء پانی کے مسائل اور پراجیکٹس کی سیٹلمنٹ کے ذریعے کی گئی ہے جو گزشتہ پانچ سال سے تاخیر کا شکار تھے، اے ڈی بی اور ورلڈ بنک بھی منصوبوں کے لئے ہمارے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ واپڈا میں ممبرز کی تعیناتیوں پر کسی قسم کا پریشر نہیں لیا جائے گا‘ خود انٹرویو کروں گا اور وزیر اعظم کو رپورٹ دوں گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پورے ملک کا نمائندہ ہوں، کسی بھی صوبے کے ساتھ نا انصافی نہیں کر سکتا ‘ ایم کیو ایم پر کئے گئے مقدمہ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جب کسی پر کیس کرتا ہوں تو آخری سانس تک اس کا پیچھا کرتا ہوں‘جب تک زندہ ہوں کیس واپس نہیں لوںگا‘مقدمہ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے اور نیب اس کی انکوائری کر رہا ہے۔

ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب ایک سادہ صفت انسان ہیں اور مجھ سے بڑے ہیں ان سے عزت و احترام سے مسائل کے حل کے لئے درخواست کروں گا ‘وفاقی وزیر برائے آبی وسائل نے کہاکہ کراچی کو جلد ایک تحفہ دینے جارہے ہیں‘کراچی سمیت دیگر صوبوں میں غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس کے خلاف آپریشن شروع کرنے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ صوبہ بلوچستان ہمیشہ محرومی کا شکار رہا ہے ،صوبہ پنجاب‘سندھ‘بلوچستان اور کے پی کے ساتھ مشاورت سے مسائل کا حل نکالیں گے۔

انہوں نے کہاکہ ہم تمام متعلقہ اداروں کو ویلکم کرتے ہیں کہ وہ ہم سے مل بیٹھ کر کام کریں۔اس موقع پر چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے کہاکہ دیا میر بھاشا ڈیم کو 2 حصوں میں7 سے 9 برس کی مدت میں تعمیر کرلیں گے جن میں سے ایک ڈیم سائیڈ جبکہ دوسرا حصہ پاور ہائوس پر مشتمل ہو گا‘ دیا میر بھاشاہ ڈیم بنانے میں فنڈز کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور جیسا کہ قوم میں بھی ڈیم کی تعمیر کے لئے فنڈز دینے کا جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک پاور ہائوس پراجیکٹ کا تعلق ہے اس کیلئے واپڈا کے پاس کمرشل فنانسنگ کا آپشن موجو د ہے ،ڈیم سائیڈ کے لئے 474ارب روپے درکار ہیں جس کیلئے 270ارب روپے حکومت فراہم کرے گی جس میں واپڈا 98ارب روپے کی ایکویٹی دیگا جبکہ دیگر لاگت سوورن گارنٹی کے ذریعے حاصل کی جائیگی۔