وزیراعظم عمران خان کی اپنے ملائیشیئن ہم منصب ڈاکٹرمہاتیر محمد سے ملاقات

پاکستان اورملائیشیاکا پام آئل، زرعی مصنوعات، فوڈ ریٹیل، حلال مصنوعات، آٹو موٹیو، آٹوموٹیو پارٹس، انرجی، سائنس و ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور

بدھ نومبر 11:30

پتراجایہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 نومبر2018ء) وزیراعظم عمران خان نے دو روزہ سرکاری دورہ ملائیشیا کے موقع پر بدھ کو اپنے ملائیشیئن ہم منصب سے ان کے دفترمیں ملاقات کی ، ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیرمحمد کی دعوت پر وزیراعظم عمران خان نے 20اور21نومبر2018ء کو ملائیشیا کا سرکاری دورہ کیا،پردانہ سکوائر ، پتراجایہ میں ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیرمحمد کے دفتر پہنچنے پر وزیراعظم عمران خان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

استقبالیہ تقریب کے بعد وزیراعظم عمران خان نے پترا جایہ میں اپنے ملائیشیئن ہم منصب ڈاکٹرمہاتیرمحمد سے ملاقات کی ۔دونوں رہنمائوں نے انتہائی خوشگوار ماحول میں مختلف امور پر تفصیلی اور بامعنی مذاکرات کئے۔ اس موقع پر دونوں رہنمائوں کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اورملائیشیا نے پام آئل، زرعی مصنوعات، فوڈ ریٹیل، حلال مصنوعات، آٹو موٹیو، آٹوموٹیو پارٹس، انرجی، سائنس و ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زوردیا،ملائیشیا اورپاکستان نے مختلف اہم شعبوں میں تجارتی تعلقات کو مزید وسعت د ینے کے حوالے سے مسلسل مذاکرات کی اہمیت پر اتفاق کیا،دونوں رہنمائوں نے بین الاقوامی سطح پر اسلامی تعلیمات کو حقیقی معنوں میں روشناس کرانے کیلئے مشترکہ کوششوں کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا، وزیراعظم عمران خان نے ایل این جی اورہائیڈرو الیکٹرک سمیت متبادل ذرائع سے بجلی تیار کرنے کے حوالے سے ملائیشیا کی جانب سے تعاون کی پیشکش کو خوش آئند قراردیا،پاکستان نے ملائیشیا کی بڑی کمپنیوں کو پاکستان کی جغرافیائی حیثیت سے استفادہ کے ساتھ ساتھ وسطی ، جنوب اور مغربی ایشیاء کی بڑھتی ہوئی تجارت سے بھرپور استفادہ کیلئے پاکستان میں قائم کئے جانے والے مخصوص اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کی دعوت دی،پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلیمی تعاون کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا اور کہا کہ تعلیم و تربیت میں قریبی اشتر اک کار دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کے نئے دور کا بنیادی جزو ثابت ہونگے، ملائیشیا نے دہشت گری اور انتہا پسندی کے خاتمہ کیلئے کی جانے والی پاکستانی کوششوں اورکامیابیوں کو بھرپور انداز میں سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے علاقائی و بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ختم کرنے میں کامیابی ملے گی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر باہمی دلچسپی، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹر مہاتیرمحمد کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی اور پرامن انتقال اقتدار کو سراہا۔ ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹرمہاتیرمحمد نے بھی وزیراعظم عمران خان کو پاکستان کے وزیراعظم بننے اور انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی اور اس خواہش کا اظہارکیا کہ پاکستان نئی حکومت کے دور اقتدار میں قومی ترقی کے اہداف حاصل کرے گا۔

دونوں رہنمائوں نے ملائیشیا کی آزادی کے بعد سے قریبی باہمی تعلقات کی طویل تاریخ کو تسلیم کیا، ملائیشیا کی جانب سے ملائیشیا کا آئین تیارکرنے میں ریڈ کمیشن کے رکن کی حیثیت سے پاکستان کے جسٹس عبدالحمید کی کاوشوں کو سراہا گیا۔ دونوں رہنمائوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت اور استحکام دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں باہمی تعاون کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں رہنمائوں نے ہر سطح پر وفود کے تبادلوں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان میں اضافہ پر زور دیا اورکہا کہ اس سے دو طرفہ تعلقات کو مزید وسیع کرنے میں مدد ملے گی۔ دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور ملائیشیا کی وزارت خارجہ کے درمیان دو طرفہ مشاورت کے آغاز پر خوشی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے گا اس حوالے سے ملائیشیا اورپاکستان آئندہ سال اسلام آباد میں باہمی مشاورتی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

لمبے عرصے سے جاری اقتصادی، کاروباری اورسرمایہ کاری کے دوطرفہ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے دونوں رہنمائوں نے ملائیشیا اورپاکستان کے درمیان ان تعلقات کو مزید فروغ دینے کی مسلسل جاری کوششوں کوخوش آئند قراردیا۔ انہوں نے اقتصادی تعلقات ، تجارت میں اضافہ اور سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک میںکاروباری و تجارتی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جائے گا اورخصوصاً پام آئل، زرعی مصنوعات، فوڈ ریٹیل، حلال مصنوعات، آٹو موٹیو، آٹوموٹیو پارٹس، انرجی، سائنس و ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

ملائیشیا کی بجلی فراہم کرنے والے اکلوتی کمپنی تیناگا نیشنل برحد پاکستان میں متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول سمیت دیگر کاروباری مواقع سے استفادہ کیلئے پرعزم ہے۔ ملائیشیا پاکستان کے قریبی اقتصادی شراکت داری کے معاہدی( ایم پی سی ای پی ای) پر کوالالمپور میں 8نومبر2007ء کو دستخط کئے گئے تھے جس پرعملدرآمد کا باقاعدہ آغاز یکم جنوری 2008ء کو ہوا تھا۔

اس معاہدے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ملائیشیا اورپاکستان نے مختلف اہم شعبوں میں تجارتی تعلقات کو مزید وسعت د ینے کے حوالے سے مسلسل مذاکرات کی اہمیت پر زوردیا۔دونوں رہنمائوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ تجارتی عدم توازن کے مسائل کو ختم کرنے کے حوالے سے مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان اورملائیشیا کے وزراء اعظم نے دونوں ممالک کی باہمی تجارت، اقتصادی تعلقات اور دو طرفہ رابطوں کے فروغ کی کاوشوں کو جاری رکھنے کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان اورملائیشیا کے درمیان تعاون کو نئی جہت ملے گی۔

اس حوالے سے مستقبل قریب میں ایم پی سی ای پی اے کی مشترکہ کمیٹی کے اجلاس پربھی اتفاق کیا گیا تاکہ اقتصادی تعلقات کو مزید بڑھایا جاسکے۔ ملائیشیا اورپاکستان نے ایل این جی کے حوالے سے بین الحکومتی معاہدے پر نومبر2017 ء میں دستخط کئے تھے۔ وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیرمحمد نے پاکستان میں توانائی کی قلت کے مسائل پر قابو پانے کیلئے پاکستان کی معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے ایل این جی اورہائیڈرو الیکٹرک سمیت متبادل ذرائع سے بجلی تیار کرنے کے حوالے سے ملائیشیا کی جانب سے تعاون کی پیشکش کو خوش آئند قراردیا۔ ملائیشیا کی شمالی ریاست پینانگ ہائی ٹیک انڈسٹری کا مرکز بن چکی ہے اس حوالے سے ملائیشیا کی کامیابیوں کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان نے ملائیشیا اور پاکستان میں ہائی ٹیک انڈسٹری میں نئے مواقع تلاش کرنے اور دو طرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زوردیا۔

ملائیشیا نے پاکستانی کمپنیوں کودعوت دی ہے کہ وہ ملائیشیا کے مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کریں جس سے آسیان اور بحرالکاہل کے خطے میں سرمایہ کاری کے فروغ اور ملائیشیا کی تذویراتی حیثیت سے استفادہ حاصل کیا جاسکے گا جبکہ پاکستان نے ملائیشیا کی بڑی کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت سے استفادہ کے ساتھ ساتھ وسطی ، جنوب اور مغربی ایشیاء کی بڑھتی ہوئی تجارت سے بھرپور استفادہ کیلئے پاکستان میں قائم کئے جانے والے مخصوص اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔

دونوں رہنمائوں نے دفاعی تعاون کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس حوالے سے مفاہمت کی یاداشت بنیادی اہمیت کی حامل ہے اور آئندہ سال کوالالمپور میں دفاعی تعاون کی مشترکہ کمیٹی (جے سی ڈی سی) کے تیرہویں اجلاس میں پیشرفت کی جائے گی۔ ملائیشیا نی2019ء میں لانگ کاوی انٹرنیشنل میری ٹائم اینڈ ایرو سپیس ایگزیبیشن (ایل آئی ایم ای) میں پاکستان کو شرکت کی دعوت دی اور پاکستان نے بھی آئندہ منعقد ہونے والی دفاعی نمائش آئیڈیاز2018ء میں ملائیشیا کی شرکت کو خوش آئند قراردیا۔

دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تعلیمی تعاون کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا اور کہا کہ تعلیم و تربیت میں قریبی اشتر اک کار دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کے نئے دور کا بنیادی جزو ثابت ہونگے۔ فریقین نے سیاحت کی صنعت اورنوجوانوں کے وفود کے تبادلوں کو لوگوں کے لوگوں سے روابط ، پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں دو طرفہ شراکت داری کے فروغ کیلئے بنیادی اہمیت کا حامل قراردیتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ20اکتوبر2003ء کو اسلام آباد میں پاکستان کی افرادی قوت کی بھرتی کے حوالے سے کی جانے والی مفاہمت کی یاداشت پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

حلال خوراک کے شعبہ میں مصنوعات اور خدمات کے معیارکو مزید بہتر بنانے اور عالمی سطح پر صارفین کے حلال خوراک پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی روشنی میں ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹرمہاتیرمحمد نے کہا کہ ملائیشیا حلال انڈسٹری میں اپنی مہارتوں اور تجربات سے پاکستان کو مستفید کرنے کیلئے تیار ہے۔ دونوںرہنمائوں نے اس حوالے سے معلومات کے تبادلے اورقریبی شراکت داری کو مزید وسیع کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

بدعنوانی کے خاتمہ کے حوالے ملائیشیا کی پرخلوص کوششوں کو تسلیم کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان بدعنوانی کے خاتمہ کے سلسلے میں ملائیشیا کے تجربات سے استفادہ پر گہری دلچسپی رکھتا ہے، امن سے محبت کرنے والے دو اسلامی قوموں کی حیثیت سے دونوں رہنمائوں نے بین الاقوامی سطح پر اسلامی تعلیمات کو حقیقی معنوں میں روشناس کرانے کیلئے مشترکہ کوششوں کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا جس سے امت مسلمہ کی یکجہتی کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی ۔

دونوں رہنمائوں نے عالم اسلام کی عظیم شخصیات اور مذہب کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر ہونے والی سازشوں کے خاتمے اور مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی وغیرہ کے سد باب کیلئے اسلامی ممالک کے درمیان قریبی تعاون کو فروغ دینے کیلئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا اور اس بات پر زوردیا کہ دہشت گردی خطے یا مذہب سے تعلق نہیں رکھتی۔ ملائیشیا نے دہشت گری اور انتہا پسندی کے خاتمہ کیلئے کی جانے والی پاکستانی کوششوں اورکامیابیوں کو بھرپور انداز میں سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے علاقائی و بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ختم کرنے میں کامیابی ملے گی۔

فلسطین اور میانمارمیں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے فریقین نے اسلامی ممالک کی تنظیم سمیت دیگر بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ فلسطین کو اجاگرکرنے کیلئے مشترکہ کوششوں کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی انتہائی بری صورتحال اور مقبوضہ بھارتی افواج کے نہتے اور معصوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر ڈاکٹر مہاتیر محمد کو تفصیلات سے آگاہ کیا اور انہوں نے اس حوالے سے انہیں یو این او ایچ سی ایچ آر، ایمنسٹی انٹرنیشنل، انٹرنیشنل پیپلز ٹریبیونل اور آل پارٹیز پارلیمنٹری کشمیر گروپ برطانیہ سمیت دیگر مختلف اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیا جس میں نہتے اورمظلوم کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی عکاسی کی گئی ہے۔

انہوں نے کشمیر کے حوالے سے او آئی سی کے رابطہ گروپ کے کردار پربھی تبادلہ خیال کیا اورکہا کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگرکرنے کیلئے رابطہ گروپ اپنا کردار ادا کرے۔ دونوں رہنمائوں نے پارشل ویزہ ابالشمنٹ ایگریمنٹ (پی وی اے اے ) پر دستخط کرنے کی تقریب میں بھی شرکت کی جو دونوںممالک کے سرکاری وفود کے تبادلوں اور رابطوں میں اضافہ کیلئے مثبت ثابت ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ کے دوران پاکستانی وفد کے ڈاکٹرمہاتیرمحمد اورملائیشیا کے عوام کی جانب سے پرتپاک استقبال اور شاندار مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم عمران خان نے ملائیشیا کے وزیراعظم کو دورہ پاکستان کی بھی دعوت دی جس کو ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیرمحمد نے قبول کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ان کے دورے کی تاریخوں کا تعین دونوں ممالک کے سفارتی ذرائع کی مشاورت سے کیا جائے گا۔