ہمارے آقاؐ حضرت محمد ؐکی زندگی آنے والی نسلوں کیلئے مشعل راہ ہے، آپؐ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ رحمت تھا، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا عیدمیلاالنبیؐ کے حوالے سے منعقدہ دو روزہ رحمت العالمین کانفرنس کے آخری سیشن سے خطاب

بدھ نومبر 16:00

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 نومبر2018ء) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عیدمیلاالنبیؐ کے حوالے سے یہاں منعقدہ دو روزہ رحمت العالمین کانفرنس کے آخری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں پر دنیا بھر سے آئے ہوئے علماء اور شیوخ نے بہت سارے مقالے پڑھے ہیں لیکن میرا اس حوالے سے علم بہت محدود ہے اور میں اپنے محدود علم کے مطابق اپنے خیالات کا اظہار کروں گا۔

بدھ کو کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک مقرر کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ حضورؐ ہمیشہ اچھے نام رکھواتے تھے اور یہ فرماتے تھے کہ انسان کے نام کا اس کی زندگی پر بہت اثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد نے بھی جب میرا نام رکھا تو ہمیشہ ہدایت کی کہ زندگی بھر اللہ کو پہچاننے والے بنو اور اس حوالے سے اپنی کوشش زندگی بھر جاری رکھو۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ آج کی سیرت کانفرنس کے موضوع میں دو الفاظ رحمت اور رحمت العالمین موجود ہیں۔ عالم سے کیا مراد ہے دنیا کتنی بڑی ہے اور اس کا بادشاہ کتنا بڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آقاؐ کی زندگی آنے والی نسلوں کیلئے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5,6سال سے میرے ذہن میں سوال ہے کہ عالم کا کیا تصور ہے اور ہمارے نبیؐ کی بادشاہت کتنی بڑی ہو گی۔

انہوں نے کہاکہ سائنسدان کہتے ہیں کہ ساحلوں پر موجود ذرات سے زیادہ ستارے کائنات میں موجود ہیں۔ سائنس کی مسلسل تحقیق کے باوجود اب تک سائنسدانوں کو کائنات کی پوری سمجھ نہیں آئی کہ یہ دنیا کتنی بڑی ہی حال ہی میں مرنے والے ایک سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کا کہنا ہے کہ دنیا ہمارے تصور سے بھی بہت بڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے آقا رحمت العالمین ہیں تو وہ تمام تر کائناتوں کے لئے رحمت العالمین ہیں جو زمین پر موجود ذروں اور خلاء کے ستاروں سے بھی زیادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نبی کریمؐ کی رحمت کے حوالے سے ایک مقرر نے گفتگو کی اور کہا کہ منطق کی بنیاد سوچ پر ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ میری والدہ نے مجھے ہمیشہ فلسفہ، منطق سمیت دیگر تمام علوم کے مطالعہ کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بخاری شریف کی 3جلدوں کے مطالعہ سے علم حاصل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نبی کریمؐ کی سیرت طیبہ پر نظر ڈالیں تو وہ ایک مکمل انسان نظر آتے ہیں جو اٹھتے بیٹھتے ہر حال میں رحم کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آپؐ کی حیات مبارکہ میں دو یہودی جب مکہ آئے تو انہوں نے وہاں موجود لوگوں سے پوچھا کہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے کہاں ہیں لوگوں کے بتانے پر وہ اس طرف گئے تو دیکھا کہ حضورؐ کو کسی نے پتھر مارا جس سے آپ زخمی ہو کر گر پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ سچا نبی ہے تو اللہ سے اس کی سزا کی دعا کرے گا لیکن ہمارے نبی رحمت العالمین نے پتھر مارنے والے کی مغفرت کی دعا کی اور یہ کردار ہے ہمارے نبیؐ کا۔

ہمارے نبی کریمؐ جب کسی محفل میںبیٹھتے تو یہ کوشش کرتے کہ محفل میں شریک دیگر لوگوں سے گھٹنا بھی آگے نہ ہو۔ آپؐ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ رحمت تھا۔ آپؐ کا غصہ نہیں آتا تھا لیکن جب کبھی غصہ آتا تو صرف چہرہ مبارک سرخ ہو جاتا، تاہم زبان سے کوئی الفاظ نہیں نکلتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نبیؐ نے ہمیں خدا کا پیغام دیا ہے اور کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ حقیقی مسلمان بننے کے لئے اپنے نبی کریمؐ کو پہچانو۔

صدر نے کہا کہ نعوذ باللہ خدا کو ہماری عبادات کی ضرورت نہیں اگر ہم نماز پڑھتے ہیں تو اس کی ہمیں ضرورت ہے، ہم روزانہ اللہ سے سیدھا راستہ دکھانے کی دعا کرتے ہیں اور ہمیں ہر لمحہ یہ دعا کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ ہمیں سیدھا راستہ مل سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج کی تقریب میں شرکت سے معلوم ہوا کہ اگر ہم سیدھا راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے نبی کریمؐ کی ہدایات پر عمل کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ حضورؐ رات کو نوافل کی نماز ادا کرتے تھے جس میں صحابہ کرامؓ شرکت کرنے لگے تو ایک دن آپؐ تشریف نہ لائے جس سے لوگوں میں پریشانی بڑی اور انہوں نے اونچا اونچا بولنا شروع کیا جو آپؐ کو ناگوار گزرا لیکن اس پر بھی آپؐ نے کہا کہ آج میں نماز کے لئے اس نہیں آیا تا کہ یہ نماز فرض نہ ہو جائے۔ صدر مملکت نے کہا کہ حضورؐ سراپا درگزر تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ نبی کریمؐ کے صبر اور رحم کا تھوڑا سا حصہ ہمیں بھی مل جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی اسلامی ریاست کے لئے یتیموں کا خیال رکھنا اور سوال کرنے والوں کا سوال پورا کرنا بنیادی فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے غریب طبقات ہمارے لئے سوالی ہیں جن کی حاجت پوری کرنا آپؐ کی سنت پر عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ احسان نہیں ہے لیکن جب تک ہم آپؐ کی تعلیمات پر مکمل عمل نہ کریں تو ہمارے مذہب کی تکمیل نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے اور ہمیں بھی اس یاددہانی کی ضرورت ہے۔ صدر نے کہا کہ مذہب ہمیں ایک دوسرے سے بہتر تعلق کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی تقریب میں حضورؐ کے خطبہ حجة الوداع کا کئی دفعہ ذکر کیا گیا ہے اور آپؐ نے ایک لاکھ سے زائد افراد کے مجمع سے خطاب کیا تھا۔

آپؐ کی زندگی میں اس سے قبل اتنا بڑا مجمع نہیں تھا۔ آپؐ نے اس موقع پر اپنے خطبہ میں ہمیشہ کی طرح ہمیں معاف کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ اس دن آپؐ نے نبی نوع انسان کی بہتری کے لئے بہت سی باتوں کا ذکر کیا لیکن خاص طور پر رحم دلی اور درگزر کی خصوصی تلقین کی جس پر میں روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 2003-4ء میں ، میں نے ایک تحقیق کی جس کا مضمون بھی چھاپا گیا۔

انہوں نے کہا کہ صحرائے سینا کے گرجا گھر میں ایک دستاویز اب بھی موجود ہے جس پر آپؐ کی مہر ثبت ہے، جس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کا غیرمسلموں سے رویہ کیسا ہوتا تھا۔ صدر نے کہا کہ ایک مرتبہ حضورؐ تشریف فرما تھے تو ایک جنازہ گزرا تو آپؐ کھڑے ہو گئے۔ صحابہ نے سوال کیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ کس کی میت تھی۔ صحابہ نے بتایا کہ یہ ایک یہودی کی میت ہے جس پر آپؐ نے فرمایا کہ آخر وہ بھی تو انسان تھا جو آپؐ کی رحم دلی کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحرائے سینا میں حضرت موسیٰ کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہم کلام ہونے کی جگہ پر تعمیر ہونے والے گرجا میں موجود دستاویز میں آپ نے فرمایا ہے کہ یہ میرا اور میری امت کا مسیحی برادری سے معاہدہ ہے کہ مسلمان ان کے گرجا گھروں کی حفاظت کریں گے، زبردستی شادیاں نہیں کریں گے اور ان کے جان و مال کے محافظ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نبی کریمؐ غیرمسلموں کے لئے بھی مکمل رحمت ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ ناموس رسالت کے حوالے سے ملک کی سڑکوں پر کئے گئے عمل تکلیف دہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم حضورؐ سے محبت کے دعویٰ کے باوجود کسی کی مال و جائیداد کو کیوں نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ آپؐ کی تعلیمات سے سیکھیں کیونکہ خدا ہم سب سے ہمارے اعمال کا سوال کرے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ جنگ بدر کے بعد جب قیدی آئے تو ان میں سے ایک قیدی کے پاس کرتہ نہیں تھا۔

آپؐ نے ایک صحافی کو کرتہ دینے کا کہا اور اپنا کرتہ اس صحابی کو دے دیا کیونکہ ہمارے نبی ہروقت درگزر اور رحم کرتے تھے لیکن ہماری زندگیوں میں یہ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ آپؐ انسان تو انسان بلکہ جانوروں پر بھی رحم کرتے تھے۔ صدر مملکت نے کہا کہ حضورؐ نے کسی کو ایک چادر تحفہ میں پیش کی جس کی آپ کو ضرورت بھی تھی لیکن ایک صحابی کے مانگنے پر اس کو دے دی جب دوسرے صحابی نے چادر مانگنے والے صحابی سے سوال کیا کہ تو نے یہ چادر کیوں مانگی ہے تو انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہیں کہ میں اس میں دفن ہوں۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ آپؐ کی زندگی ہمارے لئے سراپا درس ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ جو لوگ اپنی زبان کو قابو میں نہیں رکھتے ان کو منہ کے بل جہنم میں بھیجا جائے گا یہ ہے اسوئہ حسنہ۔ ہمیں اس کو اپنی زندگیوں میں اپنانا ہو گا۔ صدر نے کہا کہ آقاؐ سے قبل بھی بہت سے نبی آئے تھے لیکن آپؐ کے ماننے والوں کی تعداد کروڑوں، اربو میں کیوں ہے جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ آپؐ نے اپنی زندگی میں ہر قول پر عمل کر کے دکھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ کے آخری خطبہ میں حضورؐ نے عورتوں کا خیال رکھنے کا حکم دیا جبکہ قرآن مجید کی سورت النساء میں بھی اس حوالے سے کہا گیا ہے اور وراثت کے قانون کا جتنی باریک بینی سے قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے کسی اور چیز میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سود خدا سے جنگ کے مترادف ہے تو وراثت کے قانون پر عمل نہ کرنا بھی بہت بڑی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کی ہماری حکومت وراثت کے قانون پر موثر عملدرآمد کے لئے اقدامات کر رہی ہے تا کہ خواتین کو ان کا حق مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کا خصوصی خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ صفائی نصف ایمان ہے اور نبی کریمؐ 20,22احادیث میں مسواک اور طہارت کا حکم ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آج کے ماحول میں صحت مند زندگی بسر کرنے کے لئے ہمیں آپؐ کی تعلیمات پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مذہب نے 14سو سال قبل ایک ہاتھ سے طہارت کرنے جبکہ دوسرے ہاتھ سے کھانا کھانے کا درس دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھ دھونا اور صفائی کا خیال رکھنا انسان کے لئے کتنا اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حضورؐ کے اسوئہ حسنہ کے مطابق ان کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جو لوگوں میں حق و انصاف کی فراہمی کے لئے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ نبی کریمؐ نے پانی کو ضائع نہ کرنے اور اس کی بچت کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور آپؐ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضورؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سارے نبیوں سے ایک ایک دعا کی قبولیت کا وعدہ کیا اور سب نے دعا کی جو قبول کر لی گئی۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ دعا نہیں کی کیونکہ آپؐ روز آخرت ہماری مغفرت کے لئے یہ دعا کریں گے۔