بیرون ملک اکاؤنٹس: علیمہ خان کے خلاف کارروائی پر 13 دسمبر تک رپورٹ طلب

چیئرمین ایف بی آر اور ممبر انکم ٹیکس کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردئیے لگتا ہے ایف بی آر کو عدالت کا حکم سمجھ میں ہی نہیں آیا، عدالت نے جوائنٹ ٹیم تشکیل دی تھی جسے 20 افراد کے اثاثوں کی تصدیق کرنی تھی ،ْچیف جسٹس کیوں نہ ممبر آپریشن کو معطل کر دیں، ایف بی آر کو عزت نہیں کرانی تو ہم نہیں کریں گے، کیا ایف بی آر باہر پیسہ لیجانے والوں کو بچانا چاہتا ہے ،ْکیس میں تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں، ایف بی آر نے ایف آئی اے کی محنت بھی سردخانے میں ڈال دی ،ْ ریمارکس

جمعرات دسمبر 14:08

بیرون ملک اکاؤنٹس: علیمہ خان کے خلاف کارروائی پر 13 دسمبر تک رپورٹ طلب
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیرون ملک اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے خلاف کارروائی پر 13 دسمبر تک رپورٹ طلب کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر اور ممبر انکم ٹیکس کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردئیے جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہاہے کہ لگتا ہے ایف بی آر کو عدالت کا حکم سمجھ میں ہی نہیں آیا، عدالت نے جوائنٹ ٹیم تشکیل دی تھی جسے 20 افراد کے اثاثوں کی تصدیق کرنی تھی ،ْکیوں نہ ممبر آپریشن کو معطل کر دیں، ایف بی آر کو عزت نہیں کرانی تو ہم نہیں کریں گے، کیا ایف بی آر باہر پیسہ لیجانے والوں کو بچانا چاہتا ہے ،ْکیس میں تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں، ایف بی آر نے ایف آئی اے کی محنت بھی سردخانے میں ڈال دی۔

(جاری ہے)

جمعرات کو چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک میں بیرون ملک اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ دبئی میں جائیداد خریدنے والے 20 افراد کا جائزہ لینے کا حکم دیا تھا، باقی جن پاکستانیوں نے جائیدادیں خریدیں ان کے خلاف کیا کارروائی ہو رہی ہے۔اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر نے عدالت کو بتایا دبئی میں جائیداد خریدنے والوں کے معاملے پر اسپیشل زونز بنا رہے ہیں اور آف شور اکاؤنٹس سے ڈیل کرنے کے لیے خصوصی زونز بن گئے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا اسپیشل کمیٹی کی رپورٹ کدھر ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جو 20 لوگ ایف بی آر میں پیش ہوئے ان پر رپورٹ کیا ہے اور ایف بی آر اپنی اب تک کی کارکردگی بتائے۔ممبر ایف بی آر نے کہا کہ 20 لوگوں میں سے 14 کے خلاف مزید کارروائی تجویز کی ہے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا وقار احمد کے خلاف مزید تحقیقات کیوں تجویز کی گئی جس پر وکیل نے کہا وقار احمد ایف بی آر میں پیش ہوئے دوبارہ بلایا ہی نہیں گیا۔

ممبر ایف بی آر نے مؤقف اختیار کیا کہ اثاثوں کی تصدیق کرنا فیلڈ افسران کا کام ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے ایف بی آر کو عدالت کا حکم سمجھ میں ہی نہیں آیا، عدالت نے جوائنٹ ٹیم تشکیل دی تھی جسے 20 افراد کے اثاثوں کی تصدیق کرنی تھی۔ممبر ایف بی آر نے عدالت کو بتایا نوشاد احمد نے 7 جائیدادیں ظاہر کیں اور 6 ایف آئی اے کے سامنے ظاہر کیں جبکہ ان کی غیر ملکی جائیدادوں کا آڈٹ ہو رہا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا عدالت نے آپ کو آڈٹ کر انے کا نہیں کہا تھا۔

عدالت نے عدالتی حکم عدولی پر چیئرمین اور ممبر ایف بی آر کو توہین عدالت کا شو کاز جاری کرتے ہوئے 3 روز میں جواب طلب کرلیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے آپ لوگ کیس لٹکانا چاہتے ہیں، ایف بی آر جان بوجھ کر معاملے کو لٹکانے کے سمیت معاملے میں ابہام پیدا کرنا چاہتا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ علیمہ خان کے کیس کا کیا ہوا جس پر ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ عدالت منگل تک مہلت دے دے، تین دن میں کمیٹی بنا کر عدالت کو تفصیلات دیں گے جس پر چیف جسٹس نے کہا کیوں نہ ممبر آپریشن کو معطل کر دیں، ایف بی آر کو عزت نہیں کرانی تو ہم نہیں کریں گے، کیا ایف بی آر باہر پیسہ لیجانے والوں کو بچانا چاہتا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ علیمہ خان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی جس پر ممبر آپریشن ایف بی آر نے کہا کہ علیمہ خان کے خلاف لاہور آفس کو کارروائی کا کہہ دیا ہے جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایف بی آر کو لاہور نہیں یہاں کارروائی کا کہا تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ممبر آپریشن آپ اس ملک کے کیسے افسر ہیں، آپ لوگ عدالت کو کنفیوڑ کرنا چاہتے ہیں، لگتا ہے ایف بی آر خود بھی ملا ہوا ہے، کیس میں تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیںعدالت نے ایف بی آر اور ایف آئی اے کی اسپیشل کمیٹی کی کارکردگی پر اظہار عدم اطمینان کیا اور کہا کہ عدالتی حکم پر عمل نہیں ہوا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیس میں تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں، ایف بی آر نے ایف آئی اے کی محنت بھی سردخانے میں ڈال دی۔عدالت نے علیمہ خان کے خلاف کارروائی پر 13 دسمبر تک رپورٹ طلب کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر اور ممبر انکم ٹیکس کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کردئیے اور انہیں 3 روز میں شوکاز کا جواب دینے کی ہدایت کی ہے۔