نیب کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد،

شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا،سنٹرل جیل منتقل وکلاء کی کمرہ عدالت میں جانے پر روکنے پر نعرے بازی ،شہباز شریف نے کھڑکی سے اشارہ کر نعروں اور شور سے منع کیا اظہار یکجہتی کیلئے آنے والے لیگی اراکین اسمبلی ، رہنمائوں اور کارکنوں کورکاوٹیں کھڑی کر کے احتساب عدالت جانے سے روکدیا گیا کارکنوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان دھکم پیل ،رکاوٹیں ہٹانیکی کوشش پرلاٹھی چارج سے دو کارکن زخمی ،کچھ کو حراست میں لینے کے بعد چھوڑ دیا گیا

جمعرات دسمبر 14:55

نیب کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد،
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) احتساب عدالت نے آشیانہ ہائوسنگ سکینڈل میں گرفتار مسلم لیگ (ن)کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے احکامات جاری کردیئے۔نیب کی جانب سے جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر شہباز شریف کو انتہائی سخت سکیورٹی میں احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن کے روبرو پیش کیاگیا۔

سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے مزید 15روزکے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جہاں تک میرے موکل کی ذات کا تعلق ہے تو 2011 سے 2017 تک کا ریکارڈ ٹیکس ریٹرن میں شامل ہے اور ہر چیز واضح ہے۔تمام ریکارڈ بھی ٹیکس میں ہے اور نیب نے عدالت سے غلط بیانی کرکے گزشتہ ریمانڈ لیا تھا۔

(جاری ہے)

وکیل نے کہا کہ ٹیکس قوانین میں تحائف کا ذکر کرنا ضروری نہیں تھا، ذاتی 20 کروڑ کی رقم سے تحائف دئیے اور تحائف آمدنی سے زائد نہیں ۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان کے قانون کے تحت اپنے اکائونٹ سے رقم نکلوانا جرم نہیں ہے، جو بھی تمام رقم نکلوائی وہ شہباز شریف نے اپنے اکائونٹ سے نکلوائی۔رمضان شوگر ملز سے شہباز شریف کا کوئی تعلق نہیں ،یہ بیٹے کی ملکیت ہے، گناہ یہ ہے کہ شہباز شریف سیاست کرتے ہیں، وزیراعلی بھی رہے ہیں اس لیے الزام لگایا گیا۔شہباز شریف کے آمدن سے زائد اخراجات کہیں نظر نہیں آئے، اگر ٹیکس ریٹرن سے رقم زیادہ ہوتی تو جرم تھا۔

دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ یہ مسرور انور کون ہی ۔نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ مسرور انور شریف خاندان کا ملازم ہے ۔شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ مسرور انور رمضان شوگر ملز کا اکائونٹنٹ ہے جو کوئی جرم نہیں ۔مسرور انور کا نام بھی ریکارڈ میں موجود ہے ،پہلے دن سے ایس ٹی آر میں مسرور کا نام موجود ہے،اس کے کوائف موجود ہیں۔وکیل شہباز نے موقف اپنایا کہ نیب بہت سی چیزیں عدالت کو نہیں بتا رہا جس پر عدالت نے کہا کہ اگر نیب نہیں بتا رہا تو آپ بتا دیا کریں ۔

شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ ملک مقصود کو نہیں جانتے کہ کون ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملک مقصود کے اکائونٹ میں ساڑھے تین ارب جمع ہوئے ۔ملک مقصود کا پہلااکائونٹ 2010 میں کھلا۔مسرور انور اور رمضان شوکر ملز کے اکائونٹس افسر کو تفتیش کے لیے بلایا ہے ۔ایک پبلک آفس ہولڈر کے بچوں کی کمپنی کے ملازمین اربوں اکائونٹس میں جمع کروا رہے ہیں جو حل طلب ہیں۔

سپریم کورٹ میں جعلی اکائونٹس کیس اور شہباز شریف کے اکائونٹس کا کیس ایک جیسا ہے ۔عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ شہباز کی اہلیہ کا رمضان شوگر ملز میں حصہ ہے ۔شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ نیب کو کس چیز کا جسمانی ریمانڈ چاہیے جبکہ تمام لین دین ریکارڈ پر موجود ہے۔عدالت کے سامنے معاملہ صرف آشیانہ ہائوسنگ سکیم کا ہے۔نیب آشیانہ میں صرف اندازے اور دعوے کر رہا ہے ایک پیسے کی بھی بدعنوانی نہیںلہٰذامزید جسمانی ریمانڈ نہ دیا جائے۔

عدالت نے شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ کی نیب کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ شہباز شریف کو13 دسمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے ۔سماعت مکمل ہونے پر نیب کی جانب سے شہباز شریف کو انتہائی سخت سکیورٹی میں سنٹرل جیل منتقل کر دیا گیا۔احتساب عدالت میں پیشی کے دوران وکلا ء کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی جنہیں کمرہ عدالت میں جانے سے روکا گیا جس پر پولیس اور وکلا ء میں تکرار ہوئی اور وکلا ء نے کمرہ عدالت کے باہر نعرے بازی کی۔

اس موقع پر شہباز شریف نے کمرہ عدالت کی کھڑکی سے ہاتھ جوڑ کر وکلا ء کو خاموش رہنے کی ہدایت کی۔مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی ہدایت پر لیگی اراکین اسمبلی ، رہنمائوں اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بھی اظہار یکجہتی کیلئے پہنچے تاہم پولیس کی طرف سے رکاوٹیں کھڑی ہونے کے باعث کارکن احتساب عدالت کے قریب یا احاطہ عدالت میں نہ پہنچ سکے ۔ اس موقع پر کارکنوں کی جانب سے آگے بڑھنے کی کوشش میں پولیس اہلکاروں کے درمیان دھکم پیل بھی ہوئی ۔

لیگی کارکنوں کی جانب سے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش پرپولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیا گیا جس سے دو کارکن زخمی ہو گئے ۔پولیس نے ہنگامہ آرائی کرنے والے متعددکارکنوں کو حراست میں لے لیا جنہیں بعد ازاں چھوڑ دیا گیا۔مسلم لیگ (ن) کے صدر پرویز ملک نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے خواتین سمیت کارکنوں پر تشدد کیا ،تین کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ متعدد لا پتہ ہیں۔

شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر پولیس کی جانب سے لوئر مال روڈ کی دونوں سڑکوں کو ایم اے او کالج سے پی ایم جی چوک تک کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا۔جبکہ جوڈیشل کمپلیکس جانے والے تمام راستوں اور گلیوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی ۔سماعت کے ختم ہونے اور شہبازشریف کو واپس لے جانے تک پولیس اور اینٹی رائٹ دستوں نے سیکرٹریٹ چوک میں لوہے کی مضبوط جالیوں کی حفاظتی دیوار قائم رکھی ۔سڑکوں اور راستوں کی بندش سے سکول ،کالجز اور دفاتر جانے والے طلبہ اور سرکاری اور نجی ملازمین کو بھی شدید مشکلات کا سامنا رہا۔پولیس کی جانب سے جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف میں قائم دکانیں، ورکشاپس اورر پٹرول پمپس بھی بند کروا دیئے گئے۔