فصلوں کے دشمن کیڑوں کو تلف کرکے کماد ، چاول ، مکئی ، کپاس کی پیداوار میں بہتری لانا ہے، ماہرین زراعت

جمعرات دسمبر 15:01

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) ماہرین زراعت نے کہاہے کہ مڈھوں کی تلفی کا مقصد سنڈیوں اور فصلوں کے دشمن کیڑوں کو تلف کرکے کماد ، چاول ، مکئی ، کپاس کی پیداوار میں بہتری لانا ہے کیونکہ فصل ختم ہونے پر سنڈیاں سردیوں کا موسم مُڈھوں میں گزارتی ہیںاس لئے اگر مُڈھوں کو تلف کردیں گے تو سنڈیاں خود بخود تلف ہوجائیںگی جس سے نئی کاشتہ فصلات مختلف نقصان رساںکیڑوں اور سنڈیوں کے حملے سے کافی حد تک محفوظ ہوجائیں گی ۔

انہوںنے کہاکہ اس طرح ہمیں زہروں کے استعمال کرنے کی بہت کم ضرورت پیش آئے گی اور فی ایکڑ پیداوار بھی بڑھ جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ہمارے کھیتوں میں کماد، دھان ، کپاس ،مکئی اور چری کے مُڈھ موجود ہیںنیز کماد کے مُڈھوں میں تنے کی سنڈی،جڑ کی سنڈی اور گُرداس پور سنڈی سردیاں گزار تی ہیںاس لئے اگر ہم زمین سے برابرکی سطح پر کماد کی کٹائی کر یں گے توکافی حد تک مڈھوں میںموجود سنڈیاں تلف ہوجائیں گی جس کے بعد فصل کی کٹائی مکمل ہونے پر کھیتوں میں اچھی طرح سے روٹا ویٹر چلانے پر مُڈھ کھیتوں میں ہی کُترے جائیںگے اس طرح سے بچی ہوئی سنڈیاں بھی تلف ہوجائیںگی اور ہماری آنے والی فصل بھی سنڈیوں سے محفوظ رہے گی۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ دھان،مکئی اور چری کے مُڈھوں میں بھی سنڈیاں سردیوں کا موسم گزارتی ہیںلہٰذا فصل کی کٹائی کے فوراًبعد کھیتوں میں روٹا ویٹر چلایا جائے جس کے بعد گندم یا کوئی اور فصل کا شت کی جائے یا خالی چھوڑ دیا جائے تاکہ فصل کی کٹائی کے بعد تمام مُڈھ تلف ہوجائیں۔

متعلقہ عنوان :