مشکل حالات میں معاشی ٹیم نے پرفارم کیا جس کا اسپیشل کریڈٹ دینا چاہتا ہوں ،ْوزیر اعظم کا معاشی ٹیم پر بھرپور اعتما د کا اظہار

مخالفین برے حالات کی پیشگوئی کرتے ہیں، اگر برے حالات ہیں تو سرمایہ کاری کیسے آتی افغانستان کے مسئلے پر امریکہ نے تحریک انصاف کا مؤقف تسلیم کیا ہے کہ افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں ،ْ کسی اور کی جنگ کے حصے دار بننے کی بجائے ہمارا اصل کردار ثالثی کرانا ہے ،ْایران اور سعودی عرب سے بھی اس حوالے سے بات کی، ایرانی وزیر خارجہ نے ہمیں یمن جنگ ختم کرنے میں کردار ادا کرنے کا کہا ،ْکرتارپور راہداری کو بھارت نے سیاسی فائدے کا رنگ دیا ،ْکابینہ کے اجلاس سے خطاب

جمعرات دسمبر 15:04

مشکل حالات میں معاشی ٹیم نے پرفارم کیا جس کا اسپیشل کریڈٹ دینا چاہتا ..
اسلام آبا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) وزیراعظم عمران خان نے معاشی ٹیم پر بھرپور اعتماد کا اظہار اور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ مشکل حالات میں معاشی ٹیم نے پرفارم کیا جس کا اسپیشل کریڈٹ دینا چاہتا ہوں،ْکہ مخالفین برے حالات کی پیشگوئی کرتے ہیں، اگر برے حالات ہیں تو سرمایہ کاری کیسے آتی افغانستان کے مسئلے پر امریکہ نے تحریک انصاف کا مؤقف تسلیم کیا ہے کہ افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں ،ْ کسی اور کی جنگ کے حصے دار بننے کی بجائے ہمارا اصل کردار ثالثی کرانا ہے ،ْایران اور سعودی عرب سے بھی اس حوالے سے بات کی، ایرانی وزیر خارجہ نے ہمیں یمن جنگ ختم کرنے میں کردار ادا کرنے کا کہا ،ْکرتارپور راہداری کو بھارت نے سیاسی فائدے کا رنگ دیا۔

جمعرات کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سے ملاقات ہوئی جس میں افغان امن عمل پر بات ہوئی۔

(جاری ہے)

وزیر اعظم نے کہاکہ امریکی صدرٹرمپ نے زلمے خلیل زاد کو افغان مفاہمتی عمل کیلئے بھیجا تھا، میں 15 سال سے کہہ رہا تھا کہ افغان مسئلے کا حل مذاکرات ہیں، اب دنیا اور امریکہ بھی تحریک انصاف کیموقف کی تائید کررہا ہے، زلمے خلیل زاد نے کہا کہ تحریک انصاف کا افغانستان کے حوالے موقف درست ہے، ڈومور کے بجائے ہمارا کردار افغانستان میں قیام امن تھا، کسی کی جنگ لڑنے کے لئے ہمیں مدد دی جاتی رہی، شکر ہے کہ آج ہمارا اصل کردار سامنے آرہا ہے، ہمیں کسی کی جنگ کا حصہ بننے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا ہے، ہم مفاہمتی عمل کے ذریعے افغانستان میں امن قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان آج ثالثی کے لیے مرکزی کردار ادا کررہا ہے، میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ بجائے ڈومور کے ہمارا کردار ثالثی کا ہونا چاہیے تھا کہ ہم افغانستان میں امن کے لیے کردار ادا کریں لیکن ہمیں ایسے ٹریٹ کیا گیا کہ کسی اور کی جنگ لڑنے کے لیے امداد دی جارہی ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ کسی اور کی جنگ کے حصے دار بننے کی بجائے ہمارا اصل کردار ثالثی کرانا ہے، ہم نے یمن میں امن عمل آگے بڑھانے کی بات کی، ایران اور سعودی عرب سے بھی اس حوالے سے بات کی، ایرانی وزیر خارجہ نے ہمیں یمن جنگ ختم کرنے میں کردار ادا کرنے کا کہا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ کرتارپور راہداری کو بھارت نے بدقسمتی سے سیاسی فائدے کا رنگ دیا، اس معاملے پر حکومت نے پورا زور لگایا، یہ ہمارا فرض ہے، اگر پاکستان میں کسی کے مذہبی مقامات ہیں تو ہمیں ان کی مدد کرنا چاہیے، ہم کوئی نئی چیز نہیں کررہے یہ ہمارے منشور کا حصہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ کرتارپور معاملے پر سکھ برادری سے جو رد عمل ملا اس پر خوشی ہے جس طرح ہمارے لیے مدینہ ہے ان کیلئے کرتارپور ہے، امید رکھتے ہیں بھارت بھی رد عمل دے گا۔

انہوں نے معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں معاشی ٹیم نے پرفارم کیا جس کا انہیں اسپیشل کریڈٹ دینا چاہتا ہوں، وزارتِ تجارت، خزانہ اور منصوبہ بندی نے برے حالات میں اپنا کردار ادا کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ مخالفین برے حالات کی پیشگوئی کرتے ہیں، اگر برے حالات ہیں تو سرمایہ کاری کیسے آتی آج سوزکی، کوک، پیپسی اور ایگزون نے ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے، فونٹین والے ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے لیے اسکول کھولیں گے اور ہمارے لوگوں کو تربیت دیں گے، ان تمام چیزوں کا کریڈٹ ہماری معاشی ٹیم کو جاتا ہے، مشکل حالات میں انہوں نے ایسا ماحول بنایا کہ لوگ سرمایہ کاری کرنے آرہے ہیں، سرمایہ کاری سے ہی ملک اوپر جاتاہے۔