دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا طالبان وفد کی پاکستان آمد سے متعلق لاعلمی کا اظہار

امریکہ سے بات چیت کا آغاز اچھی شروعات ہیں، بات چیت کچھ لینے اور کچھ دینے پر انحصار کرتی ہے ،ْ زلمے خلیل زاد کے دورے میں کوئی شرط نہیں رکھی گئی ،ْافغانستان مسئلے کا حل سیاسی ہے فوجی نہیں، پاکستان افغانستان میں مفاہمتی عمل بڑھانے پر یقین رکھتا ہے ،ْکرتارپور سے مسئلہ کشمیر قطعی طور پر نظرانداز نہیں ہوگا ،ْکوئی غلط فہمی میں نہ رہے،کشمیر پاکستان کا سرفہرست ایجنڈا رہے گا ،ْپاکستان سر کریک کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر مذاکرات چاہتا ہے اور بھارت سے مثبت ردعمل کی امید رکھتے ہیں ،ْچینی سرکاری ٹی وی پر مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کی خبریں غلط ہیں ،ْترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ

جمعرات دسمبر 15:04

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا طالبان وفد کی پاکستان آمد ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے طالبان وفد کی پاکستان آمد سے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ سے بات چیت کا آغاز اچھی شروعات ہیں، بات چیت کچھ لینے اور کچھ دینے پر انحصار کرتی ہے تاہم زلمے خلیل زاد کے دورے میں کوئی شرط نہیں رکھی گئی ،ْافغانستان مسئلے کا حل سیاسی ہے فوجی نہیں، پاکستان افغانستان میں مفاہمتی عمل بڑھانے پر یقین رکھتا ہے ،ْکرتارپور سے مسئلہ کشمیر قطعی طور پر نظرانداز نہیں ہوگا ،ْکوئی غلط فہمی میں نہ رہے،کشمیر پاکستان کا سرفہرست ایجنڈا رہے گا ،ْپاکستان سر کریک کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر مذاکرات چاہتا ہے اور بھارت سے مثبت ردعمل کی امید رکھتے ہیں ،ْچینی سرکاری ٹی وی پر مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کی خبریں غلط ہیں ۔

(جاری ہے)

جمعرا ت کو دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ امریکہ کے خصوصی نمائندہ زلمے خلیل زاد کی شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات ہوئی، جس کے دوران وزیر خارجہ نے تعاون کا یقین دلایا ہے۔انہوں نے کہاکہ امریکہ کے ساتھ کولیشن سپورٹ فنڈ پر بات شروع ہوئی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے خط میں اس بات پر زور دیا کہ خطے میں اہم ترجیح افغانستان میں قیام امن ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے طالبان وفد کی پاکستان آمد سے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان مسئلے کا حل سیاسی ہے فوجی نہیں، پاکستان افغانستان میں مفاہمتی عمل بڑھانے پر یقین رکھتا ہے۔کشمیر میں بھارتی مظالم اور جارحیت کا تذکرہ کرتے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ترجمان نے کہا کہ بھارت دنیا کو گمراہ کر نا چھوڑ دے اور زمینی حقائق تسلیم کرے۔

انہوں نے کہا کہ کرتارپور بارڈر بابا گرونانک کے آئندہ جنم دن سے قبل کھولنا چاہتے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کرتار پور راہداری ابھی پوری طرح کھلی نہیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان سر کریک کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر مذاکرات چاہتا ہے اور بھارت سے مثبت ردعمل کی امید رکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرتارپور سے مسئلہ کشمیر قطعی طور پر نظرانداز نہیں ہوگا، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے،کشمیر پاکستان کا سرفہرست ایجنڈا رہے گا۔

ڈالر کی قدر میں اضافے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ڈالر کی قیمتوں کا تعین کرنا وزارت خارجہ نہیں، وزارت خزانہ کی ذمہ داری ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ چینی سرکاری ٹی وی پر مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کی خبریں غلط ہیں اور چین نے اس معاملے پر پاکستان کو تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔انہوںنے کہا کہ چینی سرکاری ٹی وی نے تسلیم شدہ نقشہ استعمال کیا، جس میں مقبوضہ کشمیر کو سفید رنگ میں ظاہر کیا گیا۔ممبئی کیس سے متعلق ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ کیس عدالت میں ہے تبصرہ نہیں کرسکتا، حملہ کیس میں قانون کے مطابق انصاف ہوگا، کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت میں ہورہی ہے۔