اعظم سواتی اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہو گئے

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں اپنا استعفیٰ پیش کیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات دسمبر 14:55

اعظم سواتی اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہو گئے
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) آئی جی اسلام آباد کیس کے بعد وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہی یہاں تک کے اب ان کے استعفے کی خبریں سامنے آتی رہیں۔تاہم اب میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ اعظم سواتی نے وزیراعظم عمران خان کو استعفی پیش کر دیا ہے اور وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

آج وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس بھی ہوا جس میں اعظم سواتی کے مسئلے پر گرما گرم بحث ہوئی جس کے بعد اعظم سواتی نے وزیراعظم کو کہا تھا کہ اگر آپ کہیں تو میں استعفیٰ دے دوں گا،اور اب تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ کہ اعظم سواتی نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد ان کو استعفٰی پیش کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا ہےکہ موجودہ حالات میں عہدے پر کام نہیں کر سکتا بغیر اتھارٹی کے اپنے کیس کا دفاع کروں گا۔

وفاقی وزیر برائے ٹیکنالوجی اینڈ سائنس اعظم سواتی کے خلاف آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔وزیراعظم عمران خان بھی اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ الزام ثابت ہونے پر اعظم سواتی خود مستعفیٰ ہو جائیں گے۔وزیراعظم عمران خان کابینہ میں تبدیلی کا عندیہ دے چکے ہیں،انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ناقص کارگردگی دکھانے والے وزراء کو عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔

جب کہ اعظم سواتی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی کے کیس میں کوئی مداخلت نہیں کی گئی۔ اعظم سواتی کے معاملے پرجے آئی ٹی میں مداخلت نہیں کی۔کسی کو بچانےکیلیے کسی قسم کی مداخلت نہیں کریں گے۔ کسی کوتحفظ دینے کے لیے کوئی مداخلت نہیں کریں گے۔بابراعوان نےخود اپنے عہدے سےاستعفا دیا۔انکا کہنا تھا کہ اگر اعظم سواتی پر الزامات ثابت ہو گئے تو وہ خود استعفیٰ دے دیں گے۔

اس حوالے سے انکا مزید کہنا تھا کہ آپ اس کیس کی شفافیت پر کیسے شک کر سکتے ہیں ، آپ خود دیکھ لیں کی اعظم سواتی کے خلاف جتنی بھی تحقیقات ہوئی ہیں وی میرے ماتحت ہوئی اور اگر میں چاہتا تو کیا میں اس میں مداخلت نہیں کر سکتا تھا ، میں بالکل مداخلت کر سکتا تھا مگر میں نے ایسا نہیں کیا ۔انکا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ تمام معاملات شفاف انداز میں چلیں اور جو قصور وار ہے اسکو سزا بھی ملے۔