نیب لاہور نے جنوری 2017ء سے اب تک 6 ارب 62 کروڑ روپے برآمد کروائے ،

کرپشن کیخلاف نیب سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو رہی ہے‘ اب کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ بدعنوانی میں ملوث بڑے بڑے برج احتساب کی چکی کی نظر نہیں ہو رہے ہیں‘ وہ زمانہ گزر گیا جب احتساب ایک پٹواری سے شروع ہوکر کسی معمولی سرکاری افسر تک پہنچ کر دم توڑ دیتا تھا‘ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم

جمعرات دسمبر 16:34

نیب لاہور نے جنوری 2017ء سے اب تک 6 ارب 62 کروڑ روپے برآمد کروائے ،
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے کہا ہے کہ کرپشن و بدعنوانی کیخلاف نیب سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو رہی ہے‘ اب کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ کرپشن زدہ بڑے بڑے برج احتساب کی چکی کی نظر نہیں ہو رہے ہیں‘ وہ زمانہ گزر گیا جب احتساب ایک پٹواری سے شروع ہوتا اور کسی معمولی سرکاری افسر تک پہنچ کر دم توڑ دیتا۔

وہ جمعرات کو الحمراء ہال میں عالمی یوم انسداد بدعنوانی کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر نیب کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ نیب لاہور نے جنوری 2017ء سے اب تک 6 ارب 62 کروڑ روپے برآمد کروائے جبکہ بلاواسطہ ریکوری کی صورت میں 5 ارب 33 کروڑ روپے کی وصولی کی جاچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلی بارگین کے تحت فیروز پور سٹی کیس میں دو ارب 22 کروڑ‘ ماڈل ہائوسنگ انکلیو کیس میں 61 کروڑ 90 لاکھ ایلیٹ ٹائون کیس میں 36 کروڑ ‘پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کیس میں 36 کروڑ 70 لاکھ روپے‘ ہوم لینڈ رئیل اینڈ بلڈرز کیس میں 27 کروڑ 20 لاکھ‘ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کیس میں 10 کروڑ روپے‘ لاہور پارکنگ کمپنی کیس میں 8 کروڑ روپے ریکوری کی گئی۔

(جاری ہے)

اسی طرح خیابان امین ہائوسنگ سوسائٹی کیس میں 4 ارب 50 کروڑ روپے کے پوزیشن لیٹر‘ نیشنل بنک مین برانچ لاہور سے 83 کروڑ 80 لاکھ روپے جبکہ اس کے علاوہ 50 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کے کیسز نیب لاہور میں زیر تفتیش ہیں۔ شہزاد سلیم نے مزید بتایا کہ نیب لاہور کی جانب سے کرپشن کے الزام میں 467 ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی‘نیب لاہور میں 2017ء سے آج تک 300 کرپشن کیسز کی انکوائریاں شروع کی گئیں جن میں سے 302 کو مکمل کیا گیاجبکہ 125 پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا‘ اسی طرح زیر التواء کا شکار 144 انکوائریز منطقی انجام تک پہنچایا گیا‘ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 2 سال کے دوران نیب لاہور کی جانب سے کرپشن کیسز کی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے 87 کرپشن ریفرنسز احتساب عدالت کے روبرو داخل کئے گئے جس میں سے 50 ریفرنسز پر فیصلہ ہوا‘ نیب لاہور کا ملزمان کو سزائیں دلوانے کا تناسب 70 فیصد سے زائد رہا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی بھی یہ کہا جاتا ہے کہ نیب کی سزائیں دلوانے کی شرح محض 7 فیصد ہے‘ یہی نیب اپنے قیام سے اب تک 297 ارب روپے ملزمان سے برآمد کروا کر حکومتی خزانے میں جمع کروا چکا ہے اور اس پر لاگت صرف اور صرف 13 ارب روپے آئی ہے۔