ایرانی پارلیمنٹ میں 18 ارکان نے اجتماعی طور پر عہدوں سے استعفیٰ دیدیا

قدام آئندہ سال کے بجٹ میں اصفہان صوبے کے لیے مختص پانی کے منصوبوں کو ختم کرنے کے خلاف احتجاجا سامنے آیا

جمعرات دسمبر 16:39

ایرانی پارلیمنٹ میں 18 ارکان نے اجتماعی طور پر عہدوں سے استعفیٰ دیدیا
لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) ایران میں پارلیمنٹ کے 18 ارکان نے اجتماعی طور پر اپنی عہدوں سے استعفا دے دیا۔ یہ اقدام آئندہ سال کے بجٹ میں اصفہان صوبے کے لیے مختص پانی کے منصوبوں کو ختم کرنے کے خلاف احتجاجا سامنے آیا ہے۔فریدون شہر سے تعلق رکھنے والے ایرانی رکن پارلیمنٹ اکبر ترکی کے مطابق اجتماعی استعفے سے متعلق خط پارلیمنٹ کی پریذیڈنسی کی کونسل کو بھیج دیا گیا اور اب یہ ارکان استعفے کے حوالے سے مطلوبہ قانونی اقدامات پورے ہونے کے منتظر ہیں۔

مستعفی ارکان کا کہنا ہے کہ حکومت نے نہ صرف اصفہان میں نہر زائندہ رود کے ترقیاتی منصوبے کے حوالے سے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا بلکہ اس نے صوبے میں پینے کے پانی کا بحران حل کرنے کے واسطے آئندہ بجٹ میں کسی بھی منصوبے کو شامل نہیں کیا۔

(جاری ہے)

اس سے قبل صفہان سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کے گروپ کے ایک مستعفی رکن ناصر موسوی لارکانی حکومت کو کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے ترجمان نوبخت نے وعدہ کیا تھا کہ حکومت آئندہ سال کے بجٹ میں اصفہان میں پینے کے پانی کے مسائل کے حل کے واسطے رقم مختص کرنے جا رہی ہے تاہم ایسا نہ ہوا۔ لہذا اب صوبے سے تعلق رکھنے والے ارکان کے نزدیک پارلیمنٹ میں ان کی موجودگی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔رواں سال اکتوبر کے اواخر میں سوشل میڈیا پر بعض تصاویر اور وڈیو کلپس گردش میں آئے تھے جن میں اصفہان کے کاشت کار صوبے میں پانی کی قلت کے سبب ہڑتال کرتے نظر آئے۔اصفہان سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ حمید رضا فولادر کے ایک سابقہ بیان کے مطابق اصفہان صوبے کے لوگوں کے غم و غصے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ دیکھ رہے کہ اصفہان میں زائندہ رود نہر کا پانی کس طرح دیگر صوبوں کو جا رہا ہے۔