امریکی حکومت نے وائٹ ہائوس کی حفاظت کی خاطر نئی ٹیکنالوجی پرکام شروع کردیا

ٹیکنالوجی کی مدد سے کی مدد سے وہائٹ ہائوس اور اس کے اطراف میں موجود کسی بھی اجنبی شخص کے چہرے کی شناخت ممکن ہوسکے گی

جمعرات دسمبر 16:42

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) امریکی حکومت نے وہائٹ ہائوس کی حفاظت کی خاطر ایک نئی ٹیکنالوجی پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی مدد سے وہائٹ ہائوس اور اس کے اطراف میں موجود کسی بھی اجنبی شخص کے چہرے کی شناخت ممکن ہوسکے گی۔ امریکی داخلی سلامتی کے قوانین کے نفاذ کی ذمہ دار خفیہ ایجنسی کی زیر نگرانی ایک ایسی ٹکنالوجی کی تیاری کے منصوبے پر کام جاری ہے جو وائٹ ہائوس اور ایوان صدر میں آنے والے کسی بھی اجنبی شخص کی شناخت کرے گی۔

یہ ٹکنالوجی کی وائٹ ہائوس کے آس پاس سے گذرنے والوں، پارکوں میں گھومنے اور سڑکوں پر چہل قدمی کرنے والوں کی تصاویر اور ویڈیوز کی مدد سے ان کی اصلیت کا پتا چلانے میں مدد فراہم کرے گی۔وائٹ ہائوس کی حفاظت کی اس نئی تکنیک کا انکشاف شہری آزادیوں کی امریکی فیڈریشن یعنی"ACLU" کی جانب سے کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق اس ٹکنالوجی کے نتیجے میں جہاں کسی مشتبہ شخص کی شناخت ممکن ہو گی تو دوسری طرف اس اقدام سے شہریوں کے شخصی حقوق بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

امریکی داخلی سلامتی کی وزارت کی طرف سیجاری کردہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ خفیہ سروسز کی ایجنسی وہائٹ ہائوس کی نگرانی کے لیے ایسی جدید ٹکنالوجی کو استعمال میں لانا چاہتی ہے۔ آزامائشی طور پر پہلے مرحلے میں یہ دیکھا جائے گا کہ آیا یہ ٹکنالوجی خفیہ سروس کے ملازمین کے چہروں کو شناخت کر رہی ہے یا نہیں۔ تجربے کے طور پر وہائٹ ہائوس کے آڈیٹوریم میں دو الگ الگ مقامات پر لگے خفیہ کیمروں کی ریکارڈنگ، ان میں راہ گیروں اور دیگر افراد کی محفوظ ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز سے ان لوگوں کی شناخت کی جائے گی۔

متعلقہ عنوان :