سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر افئیر و گلگت بلتستان کا اجلاس

آزاد کشمیر میں بے روزگاری خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے، گزشتہ پانچ سالوں میں حکومت پاکستان نے 70ارب کے قریب فنڈ ز فراہم کیے آزاد کشمیر قومی شرح خواندگی میں60فیصد ہے خواتین کی بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے،حکام کی کمیٹی کو بریفنگ

جمعرات دسمبر 16:50

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر افئیر و گلگت بلتستان کا اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر افئیر و گلگت بلتستان کا اجلاس گذشتہ روز سینیٹر ساجد میر کی سربرائی میں ہو ا ۔کمیٹی اجلاس کو بریفیگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں بے روزگاری خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے جبکہ آزاد کشمیر قومی شرح خواندگی میں60فیصد ہے خواتین کی بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے وزارت امور کشمیر کے حکام کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں تین قسم کے ترقیاتی کام ہوتے ہیں،ایک وفاقی حکومت پی ایس ڈی پی کے تحت بلاک ایلوکیشن میں فنڈ فراہم کرتی ہے،گزشتہ پانچ سالوں میں حکومت پاکستان نے 70ارب کے قریب فنڈ ز فراہم کیے جس میں سے 99فیصد بجٹ استعال ہوا انہوں نے مزید بتایا کہ گذشتہ نچ سالوں میں آزادحکومت کے لیے کشمیر افیئرز کے تحت بلاک ایلوکیشن میں 19463.838 رقم رکھی گئی رکھی گئی جس میں سے ریلیز صرف 8581.852ہوئی جوائنٹ سیکرٹری کشمیر افیئر کا کہنا تھا کہ بلاک ایلوکیشن کے لیے فنڈز کی منظوری وزارت پلاننگ کمیشن دیتی ہے مگر وہاں سے ہمیشہ فور کوارٹر میں کٹ لگایا جاتا ہے، انہوں نے بتایا کہ اس وقت پی ایس ڈی پی کے آٹھ بڑے ترقیاتی منصوبوں پر آزاد کشمیر اور جی۔

(جاری ہے)

بی میں کام جاری ہے جس میں 48میگاواٹ کا ہائیڈرو اور پراجیکٹ،قانون ساز اسمبلی کی بلڈنگ،واٹرسپلائی اور سیوریج،کیرن بائی پاس،میر پور اور مظفر آباد میں میڈیکل کالجز کا منصوبہ شامل ہیں،آزاد کشمیر میں مین روڈز کی حالت خراب تھی،پانچ سالوں میں بہت سی مین سڑکوں کو بہترکیا گیا ہے ہے جبکہ سیاحت کے اعتبار2013 سے 2018 تک 551پراجیکٹس مکمل کر لیے ہیںتاہم 2018-19میں 184منصوبے مکمل کیے جائیں گے،نو سب ڈویڑن میں پینے کے صاف پانی کے منصوبے بھی جاری ہیں،انہوں نے بتایا کہ گذشتہ سال حکومت پنجاب نے ڈیڑھ ارب فراہم کیے،75کروڑ طلبائ کو سکالرشپس کیلئے اور75کروڑ بلا سود قرضے فراہم کیے اس موقع پر احکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسلامک ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون سی60پرائمری سکولز اور2010کے سیلاب سے تباہ شدہ 227 کی تعمیر نو بھی جاری ہے،پہلی خواتین یونیورسٹی بھی قائم کیا جا رہی ہے،اس وقت آزاد کشمیر میں 2361.82 ہائیڈرو بجلی پیدا ہو رہی ،جبکہ 974.84منصوبے جاری ہیں اور 17.52میگاواٹ بجلی کے منصوبہ پر کام کا آغاز آنے والے دنوں میں شروع کیا جائے گا،سی پیک کے تحت 750میگاواٹ ہائیڈرو پاور کا منصوبہ ہے،جس پر 1520ملین USSلاگت آئے گی جبکہ 2448USS کی لاگت سے 1124میگاواٹ کا منصوبہ بھی شامل ہے انہوں نے بتایا کہ ہماری اولین ترجیح روزگار کیلئے سکلیز فراہم کرنا ہے،ایل او سی سے متاثرہ علاقوں کیلئے خصوصی مراعات فراہم کرنا بھی پلان میں شامل ہیں،سیاحت کیلئے لینڈ لیز پلان بھی لارہے ہیں،نیشنل واٹر شیڈ منیجمنٹ کی طرف جانا پڑے گا،منگلا ڈیم پر پہلے واپڈا کے لوگ ہوتے تھے اب واپڈا نے بھی ہاتھ اٹھا لیا ہے،آزاد کشمیر پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہے اس کم بجٹ میں واٹرمنیجمنٹ کرنا آزاد کشمیر حکومت کی بس میں نہیںبجٹ پر ساڑھے تین ارب کا کٹ لگانے سے بہت سے منصوبے متاثر ہوں گے انہوں نے کہا کہ سیاحت کے فروغ کے کیے بھی قادامات کیے جا رہے ہیں مقامی سیاحت میں گزشتہ دس سالوں میں کافی اضافہ ہوا ہے آزاد کشمیر کا ریڈیو آزادانہ کام کرتا ہے اس موقع پر سینیٹر ڈاکٹرشہزاد وسیم کا کہنا تھا کہ جب ہم اپنے لوگوں مطلوبہ ہنر ہی فراہم نہیں کریں گے تو لوگ کس طر ح سی پیک کے کاموں میں کام کر سکتے ہیں،آزاد کشمیر میں شرح خواندگی زیادہ ہونے کے باوجود بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے ،ٹیکنیکل ادارے اپنی ڈگر میں چل رہے ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی ساجد میر نے قائمہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ کے حکام کو بھی طلب کرلیا اس موقع پر سینٹر شاہین خالد بٹ کا کہنا تھا کہ ایف ایم کی نہیں میڈیا کی ضرورت تھی،زلزلے کے تیرہ سال بعد بھی اس توجہ نہیں دی گئی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے جی بی حکام نے بتایا کہ سیاحت کے حوالے سے جی بی میں صلاحیت کی گئی ہیں آزاد کشمیر کے شونٹر پاس کے ذریعے لنک ہونے سے سکردو اور انچھے کے لوگوں کو اسلام آباد آنے میں کم وقت لگے گا،12بارہ گھنٹے کا فرق پڑے گا،شونٹر پاس سیآگے استور میں رٹو کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

حکام کا مزید کہنا تھا کہ1ہزار سے زائد گاؤں ہیں،463ڈاکٹرز،4642افراد کیلئے ایک ڈاکڑ،535صحت کے سہولتی مرکز،60فیصد لوگوں کے بینک اکاؤنٹس ہیں،89لوگوں کی ذاتی مکانات ہیں،98فیصد گھروں کو بجلی دستیاب ہے،گلگت بلتستان میں50ہزار بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے،ہنزہ میں خواندگی سے زیادہاو دیامر میں سب سے کم ہے،192992پھلوں کی پیداوار ہوتی ہے جس میں سے 30فیصد ضائع ہوتی ہے،سب سے زیادہ55فیصد شہتوت ضائع ہوتی ہے،120ملین کے تحت ایفاد کے ذریعے پراجیکٹ پر کام ہو رہا ہے احکام نے کہا کہ ہمارے پاس پلان تو ہیں مگر فنڈز نہیں۔

اس موقع پر شاہین خالد بٹ نے کہا کہ1980میں ہنزہ گیا تو سنا کہ کولڈاسٹوریج بنا رہے ہیں،آج بھی کولڈ اسٹوریج بنانے کی باتیں کر رہے ہیں،پنجاب سے بہت سے لوگ جی بی میں جا کر آلو میں سرمایہ کاری کررہے ہیں،ڈارئی شہتوت سمیت سارے پھل باہر کے ملکوں میں فرخت ہو رہے ہیں،ریاست کی پریشانیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے پی ایس ڈی پی پلان بناتے ہیں انہوں نے کہا کہ مقامی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ 78لیٹر دودھ کی کمی ہے،مٹن 177کلومیٹر سڑک و دیگر جاری ہے،سسپنشن بریجز کو آرسی سی پر منتقل کیا،استور ویلی روڈ پر کام اپنے اے ڈی پی کام کررہے ہیں،سکردوویلی روڈ اور غذر ویلی پر بھی کام ہو رہا ہے،گلگت شندور روڈ کے منصوبے کو ابھی تک این ایچ اے نے منظوری نہیں دی،حراموش میں پوٹوار لیگ،بلائینڈ لیک پر بھی کام جاری ہے،کمیونیکشن نیٹ ورک کے ذریعے ساحت کو فروغ دینے پر کام جاری ہے،75کروڑ کی مشنری خریدی گئی،جی بی میں سڑکوں پر کام پر پوری توجہ ہوتی ہے مگرمین کے کے ایچ ایف ڈبلیو او کے تحت ہوتے ہے وہ زیادہ ترک بلاک ہونے سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہیاس موقع پر سنیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم کا کہنا تھا کہاسلام آباد میں پھل باہر سے درآمد کیے جاتے ہیں جبکہ ہمارے شہتوت اور دیگر پھل باہر جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ مسائل کا مقابلہ کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کام کیا جائے۔