قیصر امین بٹ کا وعدہ معاف گواہ بننے کا اعتراف

پیراگون اسکینڈل میں خواجہ سعد رفیق ملوث ہے یا پھر ندیم ضیاء؟ قیصر امین بٹ سے سوال، ندیم ضیاء ملوث ہے سب فراڈ اس نے کیا، میں وعدہ معاف گواہ بن گیا ہوں۔ پیراگون اسکینڈل میں گرفتار قیصر امین بٹ کی میڈیا سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات دسمبر 16:38

قیصر امین بٹ کا وعدہ معاف گواہ بننے کا اعتراف
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔06 دسمبر 2018ء) نیب میں پیراگون سٹی اسکینڈل میں گرفتار قیصر امین بٹ نے احتساب عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروادیا، قیصر امین بٹ پیراگون اسکینڈل میں ملزمان کیخلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ پیراگون اسکینڈل میں ندیم ضیاء ملوث ہے سب فراڈ اس نے کیا، میں وعدہ معاف گواہ بن گیا ہوں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب میں پیراگون سٹی اسکینڈل میں گرفتار قیصر امین بٹ نے احتساب عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروادیا۔

قیصر امین بٹ کوآج احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔ جہاں پر انہوں نے پیراگون اسکینڈل سے متعلق اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ اس سے قبل قیصر امین بٹ چیئرمین نیب کے سامنے وعدہ معاف گواہ بننے کا بھی بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں۔

(جاری ہے)

آج عدالت میں پیشی کے دوران انہوں نے میڈیا سے مختصرگفتگو بھی کی۔ قیصر امین بٹ نے ایک سوال” کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اسکینڈل میں خواجہ سعد رفیق ملوث ہے یا پھر ندیم ضیاء ملوث ہے؟“ کے جواب میں کہا کہ ندیم ضیاء ملوث ہے سب فراڈ اس نے کیا۔

ان سے پوچھا گیا کہ نیب کی جانب سے ان کوکس طرح کی سہولیاتدی جارہی ہیں؟جس پر انہوں نے کہا کہ نیب کی جانب سے مجھے بہترین سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ ان سے پھر سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں؟ جس پرقیصر امین نے کہا کہ جی میں وعدہ معاف گواہ بن گیا ہوں۔ دوسری جانب چار دسمبر کواحتساب عدالت میں پیراگون سٹی کیس کی سماعت پر قیصر امین بٹ کو پیش کیا گیا۔

عدالت نے قیصر امین بٹ کو 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔ قیصر امین بٹ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نیب نے 19 نومبر کو بیان لیا جس کے بعد اب حراست غیر قانونی ہو چکی ہے ۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ قیصر امین بٹ پلی بارگین سے بدل گیا۔ جس پر قیصر امین بٹ نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے نیب سے مکمل تعاون کیا ۔ قیصر امین بٹ بیمار آدمی ہے تعاون کریں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ قیصر امین بٹ بتائیں کہ کتنے دن کا ریمانڈ دیا جائے ۔ جس کے بعد فاضل عدالت نے پانچ دن کا ریمانڈ دے دیا اور کہا کہ لگ نہیں رہا کہ معاملہ پانچ دن میں کلیئر نہیں ہو گا۔