حکومت کوئی بھی آرڈیننس لائی تو اس کے خلاف قرارداد لائیں گے ،ْ پاکستان پیپلزپارٹی

سو دن بعد بھی قومی اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نہیں بنائی گئی، سو دن میں دیواریں گرانے، بھینسیں اور مرغی انڈوں کی بات ہوئی ،ْحکمران منتخب اداروں کی نفی کررہے ہیں ،ْ ہم ایسا نہیں ہونے دینگے ،ْ احتساب کے لبادے میں آمرانہ طرز پر اپوزیشن کو ہدف بنایا جارہا ہے ،ْ سیلکٹڈ وزیراعظم کے پاس کوئی تجربہ نہیں ہے ،ْڈالر کی قیمت پر وزیراعظم اور وزیر خزانہ میں سے کوئی ایک جھوٹ بول رہا ہے، جھوٹ بولنے پر آرٹیکل 62 ون ایف لگتا ہے ،ْشیری رحمن ،ْ نیئر بخاری اور فرحت اللہ بابر کی پریس کانفرنس

جمعرات دسمبر 17:13

حکومت کوئی بھی آرڈیننس لائی تو اس کے خلاف قرارداد لائیں گے ،ْ پاکستان ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا ہے کہ آمریت میں صدارتی حکم کے ذریعے حکومت چلائی جاتی تھی اورآرڈیننس کے ذریعے حکومت نہیں کی جا سکتی لہٰذا کوئی بھی آرڈیننس آیا تو اس کے خلاف قرارداد لائیں گے ،ْسو دن بعد بھی قومی اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نہیں بنائی گئی، سو دن میں دیواریں گرانے، بھینسیں اور مرغی انڈوں کی بات ہوئی ،ْحکمران منتخب اداروں کی نفی کررہے ہیں ،ْ ہم ایسا نہیں ہونے دینگے ،ْ احتساب کے لبادے میں آمرانہ طرز پر اپوزیشن کو ہدف بنایا جارہا ہے ،ْ سیلکٹڈ وزیراعظم کے پاس کوئی تجربہ نہیں ہے ،ْڈالر کی قیمت پر وزیراعظم اور وزیر خزانہ میں سے کوئی ایک جھوٹ بول رہا ہے، جھوٹ بولنے پر آرٹیکل 62 ون ایف لگتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں فرحت اللہ بابر، شیری رحمان اور نیئر بخاری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سو دن بعد بھی قومی اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نہیں بنائی گئی، سو دن میں دیواریں گرانے، بھینسیں اور مرغی انڈوں کی بات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے گزارش کی تھی کہ پارلیمان کے ذریعے ملک کو چلائیں، قانون سازی صرف پارلیمان کے ذریعے ہوگی اس کے سوا قانون سازی کی گئی تو بھرپور مخالفت کریں گے، یہ منتخب اداروں کی نفی کررہے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، اب بھی یہ دیگر ممالک کے دوروں کی تفصیلات پارلیمان میں نہیں بتارہے۔

شیری رحمان نے کہاکہ حکومت میں تضاد سامنے ہے، وزیر کہتے ہیں ہمیں علم تھا اور وزیراعظم کہتے ہیں میڈیا سے پتا چلا جب کہ احتساب کے لبادے میں آمرانہ طرز پر اپوزیشن کو ہدف بنایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن نتائج سے متعلق کمیٹی پر بھی یوٹرن لیا گیا ہے ،ْ حکومت کے کہنے پر یہ کمیٹی بنی اور حکومت نے ہی مفلوج کردیا، یہ 18 ویں ترمیم پر بھی سوالیہ نشان اٹھارہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ انتقامی سیاست کی جا رہی ہے ،ْ وزیر اعظم عمران خان کو یاد دلانا پڑتا ہے کہ وہ وزیر اعظم ہیںانہوں نے کہا کہ کیا آپ دھکا اسٹارٹ سسٹم چلانا چاہتے ہیں،صدارتی آرڈیننس صرف اس وقت لایا جاسکتا ہے جب ہنگامی حالت ہو۔انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم اقتدار کے نشے میں یہ بھول گئے کہ صرف قومی اسمبلی میں ان کی اکثریت ہے، صدارتی آرڈیننس کو کوئی بھی ممبر ایک قرارداد لاکر اسے روک سکتا ہے۔

پی پی پی کی سینیٹر نے کہا کہ دونوں ہائوسز کو چلانے کی ذمہ داری سے پاکستان تحریک انصاف دستبردار ہوچکی ہے۔فرحت اللہ بابر نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی کی رپورٹس سامنے آناشروع ہوگئی ہیں، فافن رپورٹ کے مطابق 78 ہزار فارم میں سی345 فارمز پردستخط تھے، 95 فیصدفارم غیر مصدقہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکمران عدالتوں کے احکامات پر عمل کریں تاکہ لاپتا افراد کا پتا لگ سکے۔

اس موقع پر نیئر بخاری نے کہاکہ آمریت میں صدارتی حکم کے ذریعے حکومت چلائی جاتی تھی اور صدارتی آرڈیننس ایمرجنسی کے حالات میں جاری کیا جاسکتا ہے، آرڈیننس کے ذریعے حکومت نہیں کی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی عقل پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور سیلکٹڈ وزیراعظم کے پاس کوئی تجربہ نہیں ہے، آرڈیننس کوئی بھی آیا اس کے خلاف قرارداد لائیں گے۔

نیئر بخاری نے کہا کہ ڈالر کی قیمت پر وزیراعظم اور وزیر خزانہ میں سے کوئی ایک جھوٹ بول رہا ہے، جھوٹ بولنے پر آرٹیکل 62 ون ایف لگتا ہے۔انہوںنے کہاکہ پچھلی حکومت میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا تو پی ٹی آئی نے ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا۔ شیری رحمن نے کہاکہ ان لوگوں نے پارلیمان کو اکھاڑا بنا دیا ہے، دونوں ایوانوں کے بے توقیر کیا ہے حالانکہ یہ کام اپوزیشن کیا کرتی تھی اب حکمرانون نے یہ کام شروع کر دیا ہے ۔ شیری رحمن نے کہاکہ یہ لوگ وی آئی پی کلچر پہ یقین نہیں رکھتے لیکن حکومتی ارکان جہازوں میں آ جا رہے ہیں، آٹھ آٹھ گاڑیوں کے قافلے لے کر چل رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ تیل کی قیمتیں نیچے آئی لیکن عوام تک ان کے ثمرات نہیں پہنچے۔